مودی کی ویڈیو ہٹانے پر میٹا کی سرزنش: دلی میں طلبہ کے احتجاج کی بعض ریلز اچانک غائب کیوں ہو رہی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یہ بات انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی اس ویڈیو سے شروع ہوئی جس میں وہ نوجوان طلبہ کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر حکومت نے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔
بظاہر موبائل کے سیلفی کیمرا سے بنائی گئی اس ویڈیو پر جہاں طنزیہ میمز کی بارش ہوئی تو وہیں بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر اسے کچھ دیر کے لیے حذف کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر انڈین حکومت نے میٹا کے حکام کو طلب بھی کیا۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے حوالے سے بھی سخت رویہ اختیار کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے ایک ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد پلیٹ فارم سے بعض ایسی پوسٹس ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کے بارے میں انڈین حکام کا کہنا ہے کہ وہ ’آئینی عہدوں‘ اور ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی ہیں۔
اس دوران طلبہ تنظیموں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہروں سے متعلق ویڈیوز، ریلز اور مختصر کلپس تیزی سے سوشل میڈیا ٹائم لائنز سے غائب ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے جین زی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا، جن میں شفاف امتحانی نظام اور بدعنوانیوں میں ملوث حکام کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم اب توجہ صرف احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی خبروں کا مرکز بن گئی ہے۔ کئی مبصرین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حکومت کی سخت گرفت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ بعض نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا انڈین حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے؟
انڈین میڈیا کے مطابق مودی کی ویڈیو عارضی طور پر حذف کیے جانے پر وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (میٹا) نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے عالمی سربراہ برائے عوامی پالیسی کو طلب کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت کا مؤقف ہے کہ 23 جولائی کی نصف شب کو جاری کی گئی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ویڈیو کو عارضی طور پر ہٹائے جانے کی وضاحت محض ’تکنیکی خرابی‘ قرار دے کر ’معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘
حکام اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور پلیٹ فارم سے مزید وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ میٹا نے تاحال اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
حکومتی حلقوں کا استدلال ہے کہ عوامی مکالمے کے دوران ذمہ داری اور قانونی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
تاہم نوجوان کارکنوں اور طلبہ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ احتجاجی مظاہروں، خصوصاً دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے دھرنوں اور ریلیوں سے متعلق ویڈیوز، ریلز اور مختصر کلپس تیزی سے سوشل میڈیا ٹائم لائنز سے غائب ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق کئی ایسی پوسٹس جنھیں لاکھوں افراد دیکھ چکے تھے اچانک کم رسائی حاصل کرنے لگیں یا مکمل طور پر ہٹا دی گئیں۔ اس صورتِ حال نے آن لائن آزادیِ اظہار اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی غیر جانب داری کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہX
اس بارے میں معروف صحافی پنکج پچوری نے ایکس پر لکھا کہ ’افریقی کہاوت ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس معاملے میں گھاس ایک وفاقی وزیر دھرمیندر پردھان تھے۔‘
’(بڑی ٹیک کمپنیاں) میٹا اور گوگل انڈیا میں اپنے کاروبار کو پھیلانے کی جنگ میں مصروف ہیں، جہاں ان کے عالمی سطح پر سب سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ ان کے الگورتھم اب سیاست کے اصول طے کر رہے ہیں۔‘
’پارلیمنٹ اب کیمرے کے زاویوں پر بحث کر رہی ہے، وزیرِ اعظم آدھی رات کو ریلز بنا رہے ہیں اور سیاسی ہینڈلز انسٹاگرام اور میٹا پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’وفاقی وزیر اس کشمکش میں ’حادثاتی طور پر شکار‘ بن گئے۔ حکومت اشاروں اور دباؤ کے ذریعے ضابطہ سازی کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اس نے حکمرانی کا ایک حصہ ایپس کے سپرد کر دیا ہے۔‘
’ہر حکومت رائے عامہ کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے‘
ہم نے اس بارے میں ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹ اور صحافی نکھل پہوا سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ’دنیا کی کسی بھی حکومت کو کمپنیوں کو بلانے اور انھیں ہدایات دینے کا حق حاصل ہے۔‘
صحافی نکھل پہوا نے کہا کہ ’یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ اس سے قبل واٹس ایپ کے گلوبل ہیڈ کو بھی بلایا گیا تھا اور سنہ 2021 میں فیس بک کے انڈیا ہیڈ اجیت موہن کو دہلی اسمبلی میں پیش ہونے کا کہا گيا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
صحافی نکھل پہوا نے کہا کہ ’سنہ 2013 میں منموہن حکومت میں کپل سبل آئی ٹی وزیر تھے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مواد کی اشاعت سے قبل موڈریشن متعارف کرانے کی بات کہی تھی جو کہ کمپنیوں کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہر حکومت رائے عامہ کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور ایک قسم کی سینسرشپ دیکھنے میں آتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’قانون بنانا آسان ہے لیکن ان کا نفاذ ایک مشکل امر ہے جس میں حکومتیں ناکام رہی ہیں۔ آئی ٹی قانون تو کانگریس حکومت میں بنے تھے لیکن ان کا استعمال مودی حکومت میں ہو رہا ہے اور بہت سے صحافیوں کی پوسٹس کو سنسرشپ کا سامنا ہے۔‘
سائبر سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ’وہ غیر ملکی عناصر کی جانب سے چلائی جانے والی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی گمراہ کن مہم کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔‘
حکام کے مطابق بعض بیرونی نیٹ ورکس امتحانات کے پرچے لیک ہونے سے پیدا ہونے والے بحران اور طلبہ کے احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلانے اور عوامی بے چینی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن ناقدین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے اختیار کیے گئے وسیع ڈیجیٹل اقدامات، مواد ہٹانے کی درخواستیں اور پلیٹ فارمز پر بڑھتا ہوا دباؤ دراصل اندرونِ ملک تنقیدی آوازوں کو محدود کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انسانی حقوق کے کارکنوں اور ڈیجیٹل آزادی کے حامی گروپوں کا استدلال ہے کہ غلط معلومات کے خلاف کارروائی اور جائز سیاسی یا سماجی تنقید کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنا جمہوری معاشروں کے لیے ناگزیر ہے۔
صحافی نکھل پہوا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے قانون اس طرح سے بنے ہیں کہ حکومت ان ذرائع سے عوام کی آواز کو سینسر کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے کوئی جوابدہی نہیں، عوام کے لیے تدارک کا کوئی راستہ نہیں۔ کوئی اس کے خلاف جائے تو کہاں جائے اور کرے تو کیا کرے۔ حکومت جسٹس کے اصول کی پیروی نہیں کر رہی ہے۔ ہر حکومت ایسا ہی کرتی ہے۔‘
انھوں نے کانگریس دور حکومت میں لائے گئے قانون 66 اے کا ذکر کیا جس کی مخالفت میں اس وقت گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے اپنی ٹوئٹر پکچر کو سیاہ رنگ دیا تھا۔
دراصل آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66 کانگریس کی اتحادی حکومت کے دور کا 2008 میں نافذ کیا گیا ایک قانون تھا، جس کے تحت آن لائن ’توہین آمیز‘ یا ’قابلِ اعتراض‘ اظہارِ رائے کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم مارچ سنہ 2015 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بی جے پی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا لیکن وہ بھی اس قانون کو کسی نہ کسی طرح استعمال کر رہی ہے۔
صحافی نکھل پہوا نے بتایا کہ ’آئی ٹی رول کے تحت ایک قانون ہے جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق قانون ہے جس میں یہ لکھا گیا ہے اے آئی کی لیبلنگ لازمی ہے۔ اب یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ کون سا مواد اے آئی سے تیار کیا گيا ہے اور کون سا نہیں۔ اس لیے پلیٹ فارمز اسے لاگو نہیں کر سکتے اور حکومت کی جانب سے بھی اس کی خلاف ورزی پر ابھی تک کوئی کارروائی نہ کی گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہر حال مبصرین کے مطابق موجودہ تنازع صرف امتحانی نظام یا طلبہ احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ سوال بھی اہم ہو گیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ریاست، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔
ایک طرف حکومت قومی سلامتی، سماجی استحکام اور غلط معلومات کے خلاف اقدامات کو ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف ناقدین اظہارِ رائے کی آزادی اور آن لائن عوامی مباحثے کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں۔
آنے والے دنوں میں میٹا، ایکس اور حکومتی اداروں کے درمیان ہونے والی پیش رفت نہ صرف انڈیا کی ڈیجیٹل پالیسی کا رخ متعین کر سکتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرے گی کہ نوجوان نسل کے احتجاج اور آن لائن سیاسی سرگرمیوں کے لیے مستقبل میں کتنی گنجائش باقی رہتی ہے۔
ایسے میں سوشل میڈیا پر بیباک نامی ایک ایکس ہینڈل نے لکھا کہ ’میٹا، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام سب کے سب اگر حکومت وقت کی خوشامد کرتے ہوئے اس کے ’ناپاک‘ مقاصد کے لیے کام کریں گے، تو دراصل اپنی ہی تباہی کا سامان کریں گے۔
’آپ کے صارفین اسی حکومتی نظام کے مقابل کھڑے ہیں جس حکومت کا آپ ساتھ دے رہے ہیں۔‘



















