چنیوٹ میں لوہے اور تانبے کے ذخائر، ’ایک ارب ڈالر‘ کی سٹیل مل کا منصوبہ اور مقامی آبادی کے خدشات

چنیوٹ، لوہے کے ذخائر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

’سرکاری لوگ آئے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ آپ کا کتنا رقبہ ہے، گھر میں کتنے کمرے ہیں۔ یہ گھر کس کے نام پر ہے، یہاں کتنے لوگ رہتے ہیں۔‘

یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چنیوٹ کے علاقے حکیم کالونی کے رہائشی قاسم جبہ کا جنھیں اپنے اس چار مرلے کے گھر سے محروم ہونے کا خدشہ ہے جہاں وہ 20 سال سے مقیم ہیں۔

چنیوٹ کے اس علاقے کے باقی رہائشی بھی ان دنوں ایسی ہی تشویش میں مبتلا ہیں جس کی وجہ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے ان علاقوں میں کیا جانے والا حالیہ سروے اور علاقے کے رہائشیوں سے ملکیت سے متعلق سوالات ہیں جس کی تصدیق متعدد افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی ہے۔

قاسم جبہ کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے گھر آنے والے سرکاری اہلکاروں سے پوچھا کہ وہ یہ معلومات کیوں لے رہے ہیں تو ’اُنھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں سٹیل مل بننی ہے جس کے لیے سروے کیا جا رہا ہے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب چنیوٹ میں سٹیل مل لگانے کی بات سامنے آئی ہو۔ سنہ 2015 میں اُس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت نے چنیوٹ میں لوہے اور تانبے کے ذخائر دریافت ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد اُس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر حکام کے ہمراہ چنیوٹ کے علاقے رجوعہ کا دورہ کیا اور یہاں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی تھی۔

حالیہ چند روز سے اس علاقے میں سروے کا کام تیزی سے جاری ہے اور مقامی انتظامیہ کے لوگ گھر گھر جا کر لوگوں سے اُن کی اراضی اور مکانات سے متعلق تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔

اس منصوبے پر کام کرنے والی پنجاب منرل کمپنی (پی ایم سی) کے ایک افسر نے سٹیل مل کے لیے سروے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے مقامی لوگوں کے تحفظات دُور کیے جائیں گے۔

یہ سروے کیوں کیا جا رہا ہے اور کون کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں؟ سٹیل مل کا یہ منصوبہ ہے کیا اور مقامی لوگوں کو اس سے کیا تحفظات ہیں، بی بی سی نے اس بارے میں مقامی افراد اور حکام سے بات کی ہے۔

چنیوٹ، لوہے کے ذخائر، نواز شریف، 2015

،تصویر کا ذریعہGovernment of Punjab

،تصویر کا کیپشنسنہ 2015 میں پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف اور وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف چنیوٹ کا دورہ کرتے ہوئے

’پہلے زرعی رقبہ زیادہ تھا، لیکن اب گنجان آبادی والے علاقے شامل کیے جا رہے ہیں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مقامی رہائشی اورنگزیب ملک ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ویسے تو اس علاقے میں ابتدائی طور پر کھدائی سنہ 2009 میں ہوئی تھی، لیکن 2015 میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف نے یہاں کا دورہ کیا اور یہاں لوہے اور تانبے کے ذخائر دریافت ہونے کی نوید سنائی۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پہلے تو یہ کام سست روی کا شکار تھا لیکن گذشتہ برس اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی سیکشن چار کے تحت 108 ایکڑ زمین حاصل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

ان کے بقول حاصل کی گئی زمین میں کوئی زیادہ آبادی نہیں تھی بلکہ صرف کچے مکانات اور زرعی اراضی تھی۔

’اُس حد تک تو ٹھیک تھا کہ وہاں ڈرلنگ کر لی جاتی، کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ لیکن چند روز قبل ایک نیا مجوزہ نقشہ آیا ہے جہاں سروے کیا جا رہا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ سیکریٹری معدنیات رواں برس اپریل میں چنیوٹ آئے تھے اور اُنھوں نے مجوزہ سٹیل مل منصوبے پر کام تیز کرنے اور اراضی کے حصول میں پیش رفت کا جائزہ لیا تھا۔

اس حوالے سے جاری سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر عائشہ رضوان کے ہمراہ، سیکریٹری معدنیات نے ضلعی حکام کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی اور منصوبے کے لیے مجوزہ مقامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔

چنیوٹ، لوہے کے ذخائر

،تصویر کا ذریعہPMC

،تصویر کا کیپشنچنیوٹ میں چینی انجینیئرز کی ماضی کی تصویر

حکام نے وفد کو اس اقدام کے اہم پہلوؤں کے بارے میں بریفنگ دی، جن میں لوہے کے ذخائر کا حجم، کان کنی کے مجوزہ طریقے، پروسیسنگ کی سہولیات کا قیام اور منصوبے کے لیے درکار اراضی شامل تھے۔

اس منصوبے کو صوبے کے صنعتی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے، سیکریٹری نے حکام کو ہدایت کی کہ اراضی کے حصول کا عمل شفاف اور تیز رفتار طریقے سے مکمل کیا جائے۔

اورنگزیب ملک ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ زمین، جسے حاصل کرنے کی بات کی جا رہی ہے، اس میں سات ہزار گھر ہیں جس میں 12 سکول، 15 مساجد، امام بارگاہیں اور چار قبرستان ہیں۔

اُن کے بقول ان علاقوں میں ٹھٹہ موچیاں، حکیم کالونی، شاہ نواز کالونی، پیر خان شاہ بخاری، محلہ چاہ جہانگیری، جنازہ گاہ روڈ، جھنگ روڈ اور محلہ نور والا کے علاقے شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لیے اپنی جگہ چھوڑنا اور کسی اور جگہ منتقل ہونا بہت مشکل ہے۔ ’یہ چنیوٹ شہر کی کچی آبادی ہے، زیادہ تر یہاں پر غریب لوگ ہیں اور اس کی تقریباً آبادی 50 ہزار ہے۔‘

اُن کے بقول لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اگر سٹیل مل لگانی ہی ہے تو آبادی سے دُور زرعی علاقہ شامل کیا جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

’چنیوٹ آئرن اور ریسورس پراجیکٹ‘ ہے کیا؟

پنجاب منرل کمپنی (پی ایم سی) کے مطابق چنیوٹ آئرن اور ریسورس پراجیکٹ (چنیوٹ میں لوہے کی دھات کے ذخائر کا منصوبہ) جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے لوہے کے ذخائر کا بہترین استعمال کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت چنیوٹ میں پاکستان کے پہلے مربوط ’آئرن اور‘ (iron ore) کان کنی، پروسیسنگ اور سٹیل ملز کمپلیکس کو تشکیل دینے پر کام ہو رہا ہے۔

پی ایم سی کے مطابق اس منصوبے میں لوہے کے ذخائر کا تخمینہ لگانا، ان کی پروسیسنگ اور سٹیل بنانے کے لیے بزنس ماڈل کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

پنجاب منرل کمپنی (پی ایم سی) سے منسلک ماہرِ ارضیات حیدر نیاز کہتے ہیں کہ چنیوٹ کے علاقے میں 26 کروڑ ٹن لوہے جبکہ 90 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر ہیں۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زائد لگایا ہے جس میں اس علاقے سے نکالے جانے والے لوہے کو یہاں لگائی جانے والی سٹیل مل کے ذریعے پروسیس کیا جائے گا۔

حیدر نیاز کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً 40 سال تک لوہے کی پیداوار ہوتی رہے گی جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان لوہے کی پیداوار میں خود کفیل ہو جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہاں 2015 میں یہ ذخائر دریافت ہوئے تھے جس کے بعد حکومت نے یہاں کھدائی کا کام شروع کرنے اور سٹیل مل لگانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

حیدر نیاز کے مطابق دریافت کے بعد اس وقت ’ہم فزیبلٹی کے مرحلے پر ہیں اور اس سے پہلے وسائل کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ فزیبلٹی سٹڈی کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے بھی رُجوع کیا جا رہا ہے۔

حیدر نیاز کا کہنا تھا کہ فزیبلٹی مکمل ہونے کے بعد ہم کان کنی اور پروسیسنگ کے لیے سٹیل مل سمیت دیگر آپشنز کی طرف جائیں گے۔

چنیوٹ، لوہے کے ذخائر

،تصویر کا ذریعہPMC

’منصوبہ آگے بڑھا تو لوگوں کو کہیں اور منتقل کرنا پڑے گا‘

حیدر نیاز کا کہنا تھا کہ ’اس منصوبے کے لیے 107 ایکڑ اراضی حاصل کر لی گئی ہے اور اگر ہم سٹِیل مل کی طرف جاتے ہیں تو پھر ہمیں 600 ایکڑ زمین مزید درکار ہو گی اور کان کنی کے لیے بھی 100 ایکڑ اضافی زمین کی ضرورت پڑی گی۔‘

پی ایم سی سے منسلک ماہرِ ارضیات یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’گذشتہ برس جو 107 ایکڑ اراضی حاصل کی گئی اس میں زیادہ تر زرعی رقبہ تھا، لیکن اب دوسرے مرحلے میں جو اراضی حاصل کرنا ہو گی، اس میں آبادی والے علاقے بھی شامل ہیں اور اس کے لیے لوگوں کو کہیں اور منتقل کرنا پڑے گا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ابھی فزیبلٹی کے مرحلے پر لوگوں سے تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور یہ علاقہ ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے۔

لوگوں کے تحفظات سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ جو بھی سرمایہ کار ہو گا یہ اُس کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ماحولیاتی معاملات اور آبادی کے تحفظات دُور کرتے ہوئے ری لوکیشن پلان بنائے۔

چنیوٹ، لوہے کے ذخائر

،تصویر کا ذریعہPMC

اُن کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں لوگوں کے تحفظات دُور کیے جائیں گے۔

اورنگزیب ملک ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کے خدشات پر اُنھوں نے ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں، جنھوں نے لوگوں کے تحفظات دُور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے سٹیل مل لگانی ہی ہے تو چنیوٹ میں بہت زرعی رقبہ موجود ہے، حکومت مقامی آبادی کو متاثر کیے بغیر وہاں یہ منصوبہ لگا سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں زمین کی قیمت ساڑھے چھ لاکھ روپے مرلہ تک ہے اور اگر حکومت یہ زمین حاصل بھی کرنا چاہتی ہے تو اسے لوگوں کو پورا معاوضہ دینا چاہیے۔

قاسم جبہ کہتے ہیں وہ پہلے ہی غریب ہیں اور اُن کا گھر دو کمروں پر مشتمل ہے، ایک چھوٹی سی بیٹھک اور غسل خانہ ہے اور اُن سمیت ایسے چھوٹے گھرانوں کے افراد پریشان ہیں کہ ’اگر حکومت نے یہ جگہ لے لی تو پھر یہ لوگ کہاں جائیں گے۔‘