طلبا احتجاج، غیرملکی فنڈنگ کے الزامات اور پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش: ’سرکار بیانیہ بنا رہی ہے مگر اس بار کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
دلی میں جاری نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے پسِ منظر میں چند انڈین حلقے ’پاکستانی‘ اور غیرملکی فنڈنگ سے متعلق الزامات کو بارہا دہرا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہونے والی گفتگو اب بحث کا موضوع ہے۔
ان الزامات کے بعد اب دلی پولیس نے کہا ہے کہ اُس نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا کے 480 اکاؤنٹس کی نشاندہی کر کے انھیں بلاک کر دیا ہے کیونکہ یہ اکاؤنٹس طلبا احتجاج سے متعلق ’گمراہ کن مہم‘ چلا رہے تھے۔
یاد رہے کہ دلی میں نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کو پاکستان کے نوجوان حلقے بھی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں اور اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
اگرچہ اب تک ان الزامات سے متعلق عوامی طور پر کوئی مصدقہ شواہد سامنے نہیں آئے ہیں لیکن دہلی پولیس نے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایسے غیر ملکی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہوشیار رہیں جو صورتحال کے بارے میں گمراہ کن افواہیں پھیلا رہے ہیں۔‘
اسی دوران دہلی ہائی کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی درخواست (پی آئی ایل) کو بھی فوری سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
اس درخواست میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو میڈیکل میں داخلے کے امتحان (نیٹ) کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف 20 جولائی کو ہونے والے ’پارلیمنٹ چلو‘ احتجاج کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ احتجاج ایک بڑی سازش کا حصہ تھا، جس میں بیرونی مالی معاونت حاصل کرنے والی تنظیمیں اور سیاسی عناصر شامل تھے۔
’لائیو لا نیوز‘ پورٹل کے مطابق یہ درخواست ایڈووکیٹ بارون کمار سنہا نے چیف جسٹس ڈی کے اُپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویژن بینچ میں جمع کروائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ معاملہ ’نام نہاد طلبا‘ کے احتجاج سے متعلق ہے جس نے پوری دہلی کو یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ شہری مشکلات اور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
دلی میں جاری یہ احتجاج بنیادی طور پر مقابلہ جاتی امتحانات، خصوصاً میڈیکل میں داخلے کے امتحان (نیٹ) میں مبینہ طور پر پرچے لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے غم و غصے کے نتیجے میں شروع ہوا۔
تحریک کے منتظمین اور متعدد آزاد مبصرین کا مؤقف ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر مقامی اور عوامی تحریک ہے، جبکہ حکمران جماعت سے وابستہ بعض رہنما اور دائیں بازو کی تنظیمیں اس کے پسِ پردہ بیرونی مداخلت کا الزام عائد کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/GafiraQadir
غیر ملکی مداخلت کے الزامات
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ دیکھا گیا ہے کہ چند پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسرز انڈین نوجوان طلبا کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان اکاؤنٹس سے کی جانے والی پوسٹس کو انڈیا میں بھی سراہا بھی جا رہا ہے۔
انفلوئنسر بلال حسن نے اپنے انسٹاگرام پیج mystapaki@ پر ایک جذباتی ویڈیو میں انڈین طلبا کے احتجاج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ ہمارے درمیان نفرت پھیلائی گئی ہے، لیکن ہم (پاکستانی) احتجاج کی ہر علامت، ہر پوسٹر اور ہر مزاحیہ اشارے کو سمجھتے ہیں۔۔۔ ہم خود کو اس میں دیکھتے ہیں۔۔۔‘
انھوں نے انڈین طلبا کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’یہ بچے ہیں۔ یہ بہت بہادر ہیں۔ یہ صرف اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ اس میں ایک خاص خوبصورتی ہے۔‘
انھوں کا مزید کہنا تھا ’سوچ سمجھ کر خطرہ مول لینا۔ آپس میں متحد رہنا اور بِک مت جانا۔‘
بلال حسن کی پوسٹ پر انڈیا کی متعدد مشہور شخصیات نے بھی تبصرے کیے ہیں۔
اداکارہ عالیہ بھٹ کی والدہ سونی رازدان نے اس کے جواب میں لکھا کہ ’آپ کے الفاظ دل تک ایسے پہنچتے ہیں جسے صرف علیحدہ ہو جانے والے والدین کے بچے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے بچوں کی طرف سے آپ کا شکریہ۔ آپ کے بچوں کے لیے بھی بہت سا پیار۔‘
جبکہ اداکارہ دیپتی نول سمیت کئی دوسری شخصیات نے بھی بلال حسن کا شکریہ ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC/GafiraQadir
ایک اور پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر احسن مرزا کے پیغام کو انسٹاگرام پر 93 لاکھ مرتبہ سے زیادہ بار دیکھا گیا ہے اور اسے تقریبا دس لاکھ لائکس ملے ہیں۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’سٹوڈنٹس کو ہمیشہ سٹوڈنٹس کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہم ایک جیسے ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے ایک ہی روٹی کھائی اور ایک ہی برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کی۔‘
تاہم، انھوں نے مظاہرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر صورتحال لاٹھی چارج سے آگے بڑھ جائے تو اپنی جانوں کو خطرے میں مت ڈالنا۔ بھگت سنگھ بننے کی کوشش مت کرنا۔ آپ سب کے خاندان ہیں جن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آپ پر ہے۔‘
دوسری جانب حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض رہنماؤں نے بھی عوامی بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے پس منظر میں بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ کچھ بیرونی قوتیں مبینہ طور پر انڈیا کی معاشی ترقی کو سست کرنے کے لیے ’تھرڈ پارٹی ایجنٹس‘ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ غیر ملکی امداد کے ضوابط (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔
دلی ہائیکورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں وانگچک کا بھی ذکر ہے، جنھوں نے طلبا کے حق میں 26 روزہ بھوک ہڑتال کی۔ درخواست میں ان کے بعض غیر ملکی اداروں کے ساتھ مبینہ روابط اور حمایت کی تحقیقات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہRitesh Shukla/Getty Images
طلبہ اور منتظمین کا ردِعمل
نوجوانوں کی خود ساختہ تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس سے وابستہ طلبا تنظیموں نے پاکستان سمیت بیرونی ممالک کی معاونت جیسے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
منتظمین کے مطابق یہ تحریک مکمل طور پر نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک مقامی مہم ہے، جس کی جڑیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی عوامی بے چینی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ردِعمل میں موجود ہیں۔
ان کے مطابق نیٹ امتحان سے متاثر ہونے والے 20 لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش نے اس تحریک کو جنم دیا۔
متعدد سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی سازش‘ کا بیانیہ اکثر مظاہروں کے دوران سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات میں امتحانی نظام میں خامیاں، مبینہ پرچہ لیک کے واقعات، نوجوانوں میں بے روزگاری اور پولیس کے رویے سے متعلق شکایات شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPraveen
تجزیہ کاروں کی رائے
دہلی یونیورسٹی میں استاد اور سیاسی مبصر پروفیسر اپوروانند نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بیرونی مداخلت یا فنڈنگ کے الزامات نئے نہیں ہیں۔ اس سے قبل جب بھی احتجاج ہوئے ہیں ان پر بی جے پی حکومت اور انڈین میڈیا کی جانب سے اس طرح کے الزامات لگا کر انھیں کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
’سب سے زیادہ سوروس (ایک تاجر) کا نام لیا جاتا ہے یا پھر پاکستان کی فنڈنگ کی بات کہی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کسانوں کی تحریک میں جہاں زیادہ لوگ پنجاب سے شامل تھے انھیں ’خالصتانی‘ کہہ کر ایک بیانیہ چلایا گيا۔ اسی طرح شہریت کے قانون کے خلاف مظاہروں میں مسلمانوں کی زیادہ تعداد تھی تو انھیں تو ویسے ہی غیر ملکی قرار دیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس بار فرق یہ ہے کہ اس بیانیہ پر یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ اب انہی (بی جے پی) کی جماعت والے اس تحریک میں شامل ہیں جو پہلے اس پر یقین کر لیتے تھے۔ سرکار کر تو وہی رہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ اب وہ کامیاب نہیں ہے۔‘
’کیونکہ اس تحریک میں جو لوگ شامل ہیں اسے آپ کسی ایک درجے میں رکھ کر پیچھے نہیں کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو پتا چل چکا ہے کہ حکومت جب بھی پریشانی میں ہوتی ہے تو وہ ہندو، مسلم کی تفریق کے بیانیے کا استعمال کرتی ہے۔ لیکن اس بار بی جے پی والے ہی اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘
احتجاج کے مرکز جنتر منتر پر کچھ ایسے مناظر نظر آ رہے ہیں جو اس بیانیہ کی نفی کرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والے اس طرح کے نعرے لگا رہے ہیں کہ ’جب جب مودی ڈرتا ہے، ہندو مسلم کرتا ہے‘۔
بہر حال رات وزیر اعظم مودی نے گذشتہ چار ہفتے سے جاری احتجاج پر ایک ٹویٹ کیا ہے اور امتحانی دھاندلی میں ملوث افراد کو ’سخت سزا‘ دینے کا عہد کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSajjad HUSSAIN / AFP via Getty Images
مبصرین کے مطابق احتجاج کے تناظر میں ایک اور بحث بیرونِ ملک ہونے والی یکجہتی ریلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ نئی دہلی میں پولیس کارروائیوں کے بعد لندن، ایڈنبرا، برلن اور نیویارک سمیت مختلف بین الاقوامی شہروں میں مقیم انڈین طلبا اور پیشہ ور افراد نے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کیں۔
تنظیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں صرف عالمی یکجہتی اور حمایت کی مثال ہیں، جبکہ ناقدین بعض اوقات انھی اجتماعات کو بیرونی اثر و رسوخ کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
مصنف سچن گارگ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بیرون ملک سے مالی امداد کے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’صرف وہی شخص جو بیرونِ ملک سے رقم وصول کرنے کے لیے درکار کاغذی کارروائی سے کبھی نہ گزرا ہو، یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام مظاہرین کو غیر ملکی طاقتیں فنڈنگ فراہم کرتی ہیں۔‘
پروفیسر اپورا نند نے کہا کہ ’کل میں ایک پاکستانی کا پیغام دیکھ رہا تھا اس میں اس نے کہا کہ بھائی ہمارے پاس تو اپنے کھانے کے لیے پیسہ ہی نہیں تو ہم آپ کی کہاں سے فنڈنگ کر سکتے ہیں۔ آپ کی فنڈنگ ہمارے بجٹ میں ہی نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ بیرونی فنڈنگ محض جھوٹ اور پروپگینڈا ہے۔



















