’مودی سے دوستی، پاکستان کے ساتھ بھی روابط‘: اسلام آباد سے متعلق سوال پر ملائیشین وزیرِ اعظم کی ’مسئلہ‘ حل کرنے کی تجویز

Malaysia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’جناب وزیرِ اعظم آپ اس معاملے میں ڈپلومیٹک ہو رہے ہیں۔۔ لیکن یہ موضوع ہمارے لیے بہت حساس ہے۔ ہم دہشت گردی کا شکار ہیں۔۔ ہزاروں جانیں جا چکی ہیں اور ہم نے پچھلے سال 88 گھنٹوں سے زیادہ جنگ لڑی ہے۔‘

یہ این ڈی ٹی وی سے منسلک انڈین صحافی اور اینکر پرسن وشنو سوم کا ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کے ساتھ انٹرویو میں ہونے والے مکالمہ ہے، جو پہلگام حملے اور پاکستان سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب پر ملائیشین وزیرِ اعظم سے مخاطب تھے۔

میزبان نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم سے پوچھا کہ کیا آپ حماس کے خلاف اسرائیل کی کارروائی کو دہشت گردی سمجھتے ہیں؟ اس پر انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں یہ ریاستی دہشت گردی ہے۔‘

اس پر وشنو سوم نے کہا کہ ’اگر ایسا ہے تو پھر کیا پاکستان نے جو کچھ گذشتہ برس پہلگام کشمیر میں کیا اور انڈیا کے خلاف وہ جو کچھ کر رہا ہے، کیا آپ اسے بھی ریاستی دہشت گردی کہیں گے؟‘

اس پر ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’جی نہیں، میں اس حد تک نہیں جاؤں گا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ انڈیا میں بہت حساس موضوع ہے۔ میری مودی جی سے قریبی دوستی ہے اور ہمارے پاکستان کے ساتھ بھی روابط ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا خیال ہے کہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘

Anwar Ibrahim

،تصویر کا ذریعہ@anwaribrahim

چین اور روس کے صدور کے ساتھ ساتھ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے انڈیا کے دورے کو بھی کوریج مل رہی ہے۔ ملائیشیا ’برکس‘ کا مستقل رُکن نہیں ہے، تاہم یہ شراکت دار ملک کے طور پر دو روزہ برکس اجلاس میں شریک ہیں۔

’برکس‘ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں رُکن ممالک نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں گذشتہ برس ہونے والے واقعے کی مذمت کی ہے۔

انڈیا نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جس نے اسے مسترد کیا تھا اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی واقعے کے بعد مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی لڑائی بھی ہوئی تھی، جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے تھے۔ لیکن برکس سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔

’جناب وزیرِ اعظم آپ ڈپلومیٹک ہو رہے ہیں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ملائیشین وزیرِ اعظم کے جواب پر انڈین اینکر پرسن نے کہا کہ ’جناب وزیرِ اعظم آپ بہت ڈپلومیٹک ہو رہے ہیں۔۔۔آپ دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کی براہِ راست مذمت سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟‘

اس پر انور ابراہیم نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ دہشت گردی نہیں ہوئی، لیکن میری انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ انڈیا کے خلاف ریاستی دہشت گردی ہوئی۔ لہذا میں بطور ملائیشین وزیرِ اعظم یہی حقائق سامنے رکھوں گا۔‘

انٹرویو کے دوران ملائیشین وزیرِ اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ان کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کے تبادلے پر کوئی بات ہوئی؟ اس پر انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ نجی میٹنگز پر اس پر بات ہوئی، لیکن ہم اس معاملے پر نجی سطح پر ہی بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ انڈین سکالر ذاکر نائیک ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ انڈیا نے اُن پر نفرت انگیز تقاریر اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کر رکھے ہیں اور انڈیا نے اُن کی حوالگی کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔

اپنے دورے کے دوران ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سے بھِی ملاقات کی۔

سنیچر کی شام ’برکس‘ کے رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انڈیا کے لیجنڈری گلوکار کشور کمار کا گانا ’خواب ہو یا تم کوئی حقیقت‘ وہاں موجود موجود ایک سنگر کے ہمراہ گنگاتے رہے۔

Anwar Ibrahim

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’یہ دہرا معیار ہے‘

انور ابراہیم کے پاکستان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب کا معاملہ انڈیا میں سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے۔

سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی سے منسلک تجزیہ کار اشوک سوین نے ایکس پر لکھا کہ ’ملائیشیا کے وزیراعظم نے انڈیا میں مودی کے میڈیا کی توقعات کے بالکل برعکس بات کی۔ انور ابراہیم نے کہا کہ اسرائیل دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے اور جب میڈیا نے پوچھا کہ کیا وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا ’نہیں۔‘

اگنیکا نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ دہرا معیار ہے۔ جو رہنما اپنی سہولت کے مطابق دہشت گردی کی مذمت کرے، اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اس سے پوچھے جانے والے سوالات بھی ہمیشہ نرم رہیں گے۔‘

محسن علی نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستانی معاملات میں انڈیا میڈیا کا جنون بدستور جاری ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ وشنو نے ملائیشیا کے وزیراعظم کے سامنے خود کو اور اپنے ملک کو کس طرح شرمندہ کیا۔‘

سبحان جاوید نامی صارف نے لکھا کہ ’ملائیشیا پاکستان اور عالمِ اسلام کے اتحاد کا قریبی دوست ہے؛ لہٰذا، وزیرِ اعظم انور ابراہیم (یا اس سے قبل مہاتیر محمد) کبھی بھی اپنے برادر ملک پاکستان کے خلاف نہیں جاتے، حالانکہ انڈیا کے ساتھ اُن کی تجارت کا حجم پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔‘

سمراتھ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ انور ابراہیم کی بات بہت عجیب لگتی ہے۔ انور ابراہیم اسرائیل کو ’دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرنے والی ریاست‘ قرار دیتے ہیں، لیکن جب پاکستان کے بارے میں پوچھا جائے تو اچانک بہت سفارتی انداز اپنا لیتے ہیں۔