’تحمل، محدود حملے یا فوجی کارروائی‘: سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کو پاکستان اور مکہ دفاعی اتحاد کے لیے ’چیلنج‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہ@Saudi_Gazette
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
’کیا آپ کو ایک ماہ قبل ہونے والا مکہ دفاعی معاہدہ یاد ہے جسے ’مشرقِ وسطیٰ کا نیٹو‘ کہا گیا تھا اور جس کے تحت ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا؟ اب دیکھتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان اپنے اتحادی سعودی عرب کی مدد کے لیے کتنی جلدی پہنچتے ہیں۔‘
یہ سوال معروف صحافی یاروسلاو تروفیموف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اٹھایا۔
خیال رہے سات اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے حملوں میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے، جن میں 73 شہری زخمی ہوئے جبکہ ابہا، جازان اور نجران سمیت کئی علاقوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں شاہ خالد ایئر بیس، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں سعودی کارروائیاں جاری رہیں تو مزید حملے کیے جائیں گے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملوں کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
اس کے علاوہ پاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر بلااشتعال جارحیت جاری رہتی ہے، یا یمن میں جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پہنچتے ہیں، تو اس صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ ’فعال‘ ہو جائے گا۔
ترکی نے بھی حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملے یمن کے تنازع کے پائیدار سیاسی حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترکی نے حوثیوں سے اپنی ’جارحانہ کارروائیاں‘ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم گذشتہ روز کے ان حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے اور بیشتر افراد یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ’کیا پاکستان مذمت کے علاوہ بھی کچھ کرے گا؟‘
اس مضمون میں ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ حالیہ حملوں کو پاکستان اور مکہ معاہدے کے لیے ’چیلنج‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے، اور ایسی صورتحال میں پاکستان کا ممکنہ کردار کیا ہو سکتا ہے؟
مگر اس سے قبل گذشتہ روز کے حملوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حوثی حملوں میں 73 زخمی، آرامکو کی تنصیبات، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اور شاہ خالد ایئر بیس کو نقصان پہنچا
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد سعودی حکام نے نجران، جازان اور ابہا میں ہنگامی انتباہات جاری کیے، جنھیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے جبکہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شاہ خالد ایئر بیس اور آرامکو کی بعض تنصیبات سمیت متعدد مقامات کو نقصان پہنچا۔
سعودی حکومت نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور شہری تنصیبات کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
حوثیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سعودی عرب کے اندر فوجی اور اقتصادی اہداف کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی یمن میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حملوں سے اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا اور خبردار کیا کہ اگر سعودی کارروائیاں جاری رہیں تو مزید حملے کیے جائیں گے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حوثیوں نے اس سے قبل سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جبکہ سعودی تیل کی تنصیبات اور ٹینکرز پر حملوں نے خطے میں توانائی کی ترسیل اور بحری آمدورفت کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملوں کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم اس کا دائرہ اور نوعیت ابھی واضح نہیں ہے، جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اگرچہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم مملکت اپنے دفاع میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ بعد ازاں حوثیوں کے زیرِ انتظام ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکہ نے بھی اس معاملے میں ایران پر تنقید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ حوثی کئی حوالوں سے ایران کے پراکسی ہیں اور بعض حملوں کے پیچھے ایرانی کردار واضح دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ، یورپی یونین، مصر، اردن اور روس نے کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں کئی برسوں کی شدید ترین لڑائی جاری ہے۔ حوثی افواج اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز باب المندب آبنائے کے قریب اور تعز، مأرب اور الجوف سمیت مختلف محاذوں پر برسرِ پیکار ہیں۔ حالیہ جھڑپوں میں 300 سے زیادہ جنگجو اور متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی دائرہ بڑھا تو اس سے نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلااشتعال جارحیت جاری رہی تو مکہ دفاعی معاہدہ ’فعال‘ ہو جائے گا: خواجہ آصف
پاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر بلااشتعال جارحیت جاری رہتی ہے، یا یمن میں جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پہنچتے ہیں، تو اس صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ ’فعال‘ ہو جائے گا اور اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے شو میں میزبان کے اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان اس صورتِ حال کو کیسے دیکھ رہا ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی اور معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کی مدد اور دفاع کے پابند ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہو گا۔
شاہزیب خانزادہ کے شو میں خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس مکہ معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کا احترام کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے کسی رابطے کا علم نہیں ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ باہمی دفاع اور ایک دوسرے کی مدد کا معاہدہ ہے۔ ان کے مطابق ’ہم ردِعمل دینے یا مدد کرنے کے پابند ہیں۔ یہ جارحیت کی صورت میں باہمی دفاع اور ایک دوسرے کی مدد کا معاہدہ ہے۔ یہ جارحانہ معاہدہ نہیں کہ تینوں ممالک مل کر کسی پر اپنی طرف سے حملہ کر دیں۔ اگر کسی رکن ریاست کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو تینوں رکن ممالک اس کے مطابق ردِعمل دیں گے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’یہ دو طرفہ نہیں بلکہ سہ فریقی معاہدہ ہے، اس لیے اگر معاہدہ فعال ہوتا ہے تو ترکی بھی اس میں شامل ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ صورتحال قابو میں آ جائے گی اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔ ان کے مطابق اگر کوئی ملک اپنے داخلی مسائل کو بیرون ملک منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو معاہدے میں جارحیت سے متعلق دفعات مؤثر ہو سکتی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یمن کی صورتحال میں حکومتی ردِعمل کے بجائے غیر ریاستی عناصر کا کردار اہم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یمن میں ایران کے لیے، اور مجموعی طور پر مسلم دنیا کے ایک بڑے حصے میں، ہمدردی اور محبت کے جذبات موجود ہیں، تاہم اگر غیر ریاستی عناصر کسی دو طرفہ تنازع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایسا اپنی ذمہ داری پر کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اب بھی امید رکھی جانی چاہیے کہ امن کا کوئی راستہ نکلے گا، اور یاد دلایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق ضروری نہیں کہ ہر صورتحال کا جواب طاقت کے ذریعے دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہMOD Saudia
تاہم سعودی مصنف اور تجزیہ کار علی الشهابی کے مطابق ریاض غالباً حوثیوں کے ساتھ ایک طویل مدتی تنازع کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ حوثی قابلِ فہم رویہ اختیار نہیں کر رہے اور ان کے ساتھ کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔‘
علی الشهابی کے مطابق حوثیوں کو ’دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے کچھ نقصان اٹھانا ہوگا۔‘
کنگز کالج لندن سے وابستہ خلیجی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ نے فرانس 24 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے حملے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، جو ملک کے عملاً حکمران ہیں، کے لیے ’انتہائی پریشان کن صورتِ حال‘ پیدا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یمن کے تنازع سے نکلنے کی برسوں سے جاری کوششوں کے بعد اب ’تحمل کا مظاہرہ کرنے سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ حوثیوں کو کشیدگی میں اضافے کا رخ طے کرنے کا موقع مل جائے گا۔‘
کریگ نے کہا کہ سعودی عرب کا فوری ردِعمل غالباً محدود رہے گا، جس میں فضائی حملے، انٹیلیجنس تعاون اور یمنی حکومت کی فورسز کو مزید مضبوط کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ حملے پاکستان اور مکہ دفاعی معاہدے کے لیے آزمائش کیوں سمجھے جا رہے ہیں؟
برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور ’کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز‘ سے منسلک ایسوسی ایٹ فیلو عمر کریم کا ماننا ہے کہ ان حملوں اور ان کی شدت یہ ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے ایک نمایاں خطرے کا سامنا ہے، جس میں ان کی توجہ جنوبی صوبوں میں شہری اور فوجی تنصیبات، دونوں کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے۔ ’اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس میں مکہ معاہدے اور پاکستان-سعودی باہمی دفاعی معاہدے (MSDA) دونوں کو فعال کیا جا سکتا ہے۔‘
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے عمر کریم کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں اپنی مسلح افواج تعینات کر چکا ہے اور ’ان میں سے کچھ فوجی سعودی-یمن سرحد پر بھی تعینات ہیں۔‘
یاد رہے رواں برس اپریل میں سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کی طرف سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا، اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔
عمر کریم کے مطابق بعض سعودی مصنفین کی تحریروں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم مشترکہ اتحادی افواج کا حصہ ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان یمن کے معاملے میں پہلے ہی آپریشنل سطح پر اس اتحاد کے ساتھ مربوط ہے۔
وہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کی مثال بھی دیتے ہیں جس کا پاکستان پہلے ہی حصہ ہے۔
خیال رہے رواں برس جولائی میں سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد جس کا مقصد باب المندب اور بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
اس تناظر میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کا معاملہ صرف سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود نہیں رہتا بلکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کا سوال بھی اٹھاتا ہے۔
عمر کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی کارروائی میں شامل ہونے کی غرض سے زمینی سطح پر فوجی موجودگی موجود ہے۔۔۔ وہ پاکستانی وزیر دفاع کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسا کہ نظر آ رہا ہے کم از کم یمن کے معاملے میں، سیاسی ارادہ بھی موجود ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شمولیت کی تفصیلات دو طرفہ سطح پر اور یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے مؤقف کے مطابق طے کی جائیں گی۔
عمر کا ماننا ہے کہ چونکہ حوثی ایک جائز ریاستی فریق نہیں ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی سیاسی اعتبار سے ایران جیسے ایک باقاعدہ ریاستی فریق کے خلاف کارروائی کے مقابلے میں نسبتاً آسان ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے نسبتاً کمزور نتائج کو دیکھتے ہوئے، امکان کم ہے کہ پاکستان اس محاذ پر کسی ثالثی کی کوشش میں شامل ہو، اور اگر ایسا کرتا بھی ہے تو ان کوششوں سے کوئی قابلِ ذکر نتیجہ برآمد ہونے کا امکان نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
دفاع اور سلامتی کے امور کے تجزیہ کاراور ریٹائرڈ میجر جنرل زاہد محمود کے مطابق سعودی عرب کے پاس حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں، جو ممکنہ طور پر زمینی کارروائیوں کے ساتھ بھی مربوط ہو سکتے ہیں، کے جواب میں تین راستے موجود ہیں۔
’پہلا، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دینا۔ دوسرا، یمن میں حوثیوں کے مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے محدود حملے کرنا۔ اور تیسرا، حوثیوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک وسیع تر فوجی کارروائی شروع کرنا۔‘
زاہد محمود نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ریاض ان میں سے جو بھی راستہ اختیار کرے، مکہ اتحاد کے تحت پاکستان سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں معاونت کرے گا۔
تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ صورتحال موجودہ سطح سے آگے نہیں بڑھے گی اور سفارت کاری غالب آئے گی۔
کیا پاکستان یمن میں سعودی فوجی کارروائی کا حصہ بنے گا؟
مہران كامرافا، جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں پروفیسر اور عرب سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی سٹڈیز میں تحقیقی یونٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سعودی عرب یمن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، اور ابتدا ہی سے یمن مکہ معاہدے کے لیے اس حوالے سے ایک آزمائش رہا ہے کہ آیا پاکستانی اور ترک فوجی یمن کے محاذ پر لڑنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ ’اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ پاکستانی وزیرِ دفاع کی جانب سے ایک بہت واضح بیان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے یمن پر ایسے حملے میں شامل نہیں ہوگا جسے جارحانہ کارروائی تصور کیا جا سکتا ہو۔‘
مہران كامرافا کا ماننا ہے کہ پاکستان بہت احتیاط کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت اپنی شمولیت کو اس بات کے تناظر میں طے کر رہا ہے کہ اس معاہدے کا عین مطلب کیا ہے۔ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سعودی عرب 2015 کی طرح یمن پر حملہ یا وہاں فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس میں پاکستانی فوج کی، اور اس کے نتیجے میں ترک فوج کی بھی، شمولیت نہیں ہو گی۔‘
اور ان کے خیال میں ’یہ پاکستان کو یمن میں کسی ممکنہ جارحانہ کارروائی سے واضح طور پر الگ رکھنے کا ایک غیر مبہم اعلان ہے۔‘
مہران کامرافا ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ سعودی عرب میں حوثیوں کے حملے ہوئے ہیں، لیکن یمن پر حملہ یا وہاں فوجی مداخلت نہیں ہوئی۔ اس لیے پاکستانی بیان کچھ گنجائش بھی چھوڑتا ہے کہ دفاعی اور جارحانہ کارروائی کیا فرق تصور کیا جائے۔
’اور ہم نے حوثی فوجیوں یا عسکری اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر سعودی عرب میں داخل ہوتے نہیں دیکھا، اور میرے خیال میں پاکستانی بیان میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔‘



















