’جیسے ہی ہم جنگل کے درمیان پہنچے ہر طرف سے فائرنگ ہونے لگی‘: ہنگو میں گھات لگا کر کیا گیا حملہ جس میں ڈی ایس پی سمیت دس پولیس اہلکار مارے گئے

- مصنف, بلال احمد
- عہدہ, بی بی سی پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
’کفایت ہم چھ بھائیوں میں سب سے تیسرے نمبر پر تھا مگر وہ ہمارے گھر کا سربراہ تھا اس کے جانے سے ہماری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، گھر کے تمام فیصلے اس کے مشورے پر کرتے تھے۔‘
یہ کہنا تھا ہنگو میں ہلاک ہونے والے اے ایس آئی کفایت اللہ کے بھائی آصف کا جو خود بھی پولیس کے محکمہ میں کام کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس پر گھات لگا کر کیے گئے حملے کے نتیجے میں ایک ڈی ایس پی سمیت دس اہلکار ہلاک جبکہ اٹھائیس زخمی ہوگئے ہیں۔
ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ ہنگو میں ادا کردی گئی جبکہ زخمیوں میں سے سات کو پشاور شفٹ کیا گیا جن میں چار ابتدائی امداد کی بعد فارغ کردئیے گئے جبکہ تین ہسپتال میں داخل ہیں۔
آصف کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کفایت اللہ گذشتہ اٹھارہ سال سے پولیس میں ملازمت کررہے تھے۔
آصف کا کہنا تھا کہ ’میں خود بھی پولیس میں ہوں ہم دونوں اکثر شہادت کی آرزو کرتے تھے۔ ہم سب پیار سے کفایت کو خان جی گل پکارتے تھے۔‘
’مجھے ہنگو کے حالات کا علم تھا لیکن نہ میں اور نہ کبھی کفایت اس بارے میں کوئی بات کرتے کہ کہیں گھر والے ہریشان نہ ہوں۔‘
ان کے بقول کفایت اللہ ابھی بارہ دن قبل چھٹی سے واپس ڈیوٹی پر گئے تھے۔ ’گذشتہ رات پہلے ہمیں اطلاع ملی کہ کفایت زخمی ہے پھر اطلاع آئی کہ وہ مارا گیا ہے۔ ہماری والدہ کیسے اس عمر میں غم کو برداشت کریں گی۔ دعا گو ہوں کہ اس ملک میں امن آئے اور یہ سلسلہ ختم ہوجائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کفایت نے سوگواروں میں ایک بیوہ اور تین بچے چھوڑیں ہیں۔

’ہم پر ہر طرف سے فائرنگ ہوتی رہی‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہنگو سے تعلق رکھنے والی صحافی ایثار الحق کے مطابق خزینہ بانڈہ پولیس پوسٹ پر بدھ کے روز پہلے کواڈکاپٹر سے حملہ کیا گیا، پھر اس پوسٹ کا محاصرہ کیا گیا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
اس حملے کے بعد علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کی اطلاع پر ہنگو سے مزید نفری روانہ ہوئی جس کی قیادت ڈی ایس پی دیار خان کررہے تھے۔ ان کے ساتھ ایلیٹ فورس اور البرق فورس کے جوان بھی ساتھ تھے جن پر خزینہ بانڈہ پل پر گھات لگائے شدت پسندوں نے حملہ کیا۔
حملے کے نتیجے میں ڈی ایس پی سٹی ہنگو دیار خان سمیت دس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 28اہلکار زخمی ہوئے۔
ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن ہنگو میں ادا کی گئی جس میں پولیس و سول افسران نے شرکت کی۔
شفیع الرحمن کرک کے رہائشی ہیں اور گذشتہ سترہ سال سے ہنگو پولیس کیساتھ وابستہ ہیں اس دن کیا ہوا تھا اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری تھانہ صدر ہنگو میں ڈیوٹی تھی اطلاع ملی کہ ہوسٹ پر حملہ ہوا ہے اور زخمیوں کو ریسکیو کرنے جانا ہے۔‘
’ہم نے تیاری کی اس دوران بڑی تعداد میں فورس بھی پہنچ گئی جو کہ بکتر بند گاڑیوں اور دیگر آلات سے لیس تھی۔ جب جانے لگے تو ہمیں اندازہ تھا کہ راستے میں جنگل ہے، وہاں خطرہ ہے اس لیے ہم نے فورس کو دو گروپوں میں تقسیم کیا اور الگ الگ راستے سے جانے کا فیصلہ کیا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’راستے میں ہم فائرنگ کرتے جارہے تھے اس دوران کوئی رسپانس نہیں آیا جیسے ہی جنگل کے درمیان پہنچے تو ایک عجیب طریقے سے حملہ ہوا، ہم پر ہر طرف سے فائرنگ ہوتی رہی۔۔۔ لگ بھگ پچاس سے زائد افراد ہم پر حملہ آور ہوئے۔‘
’ہم نے تقریبا ایک گھنٹے تک مقابلہ کیا، اس دوران ہمارے بہت ساتھی زخمی بھی ہوئے۔۔۔ پھر جب فائرنگ رکی تو میں اپنی جگہ سے اٹھ کر دوسری پوزیشن لینے جیسے ہی اٹھا مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے فائر لگے ہیں ایک میرے پاؤں سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ ایک دو قدم کے بعد میری ہمت جواب دے گئی اور میں گرگیا‘۔
انھوں نے بتایا کہ ’چار گھنٹے گزر گئے پھر مقامی امن کمیٹی کے اہلکار سفید جھنڈے ہاتھ میں تھامے آئے کہ زخمیوں کو لے جاسکیں تو طالبان نے ان کے اوپر بھی فائرنگ کی۔ پھر بعد میں دوبارہ مقامی لوگ آئے اور ہمیں ہسپتال لے جایا گیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اسی تاخیر کی وجہ سے کئی اہلکار زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
شفیع الرحمن نے بتایا کہ ’لگ بھگ چار بجے ہم زخمی ہوئے تھے تو رات نو بجے ہسپتال پہنچایا گیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے پاس تو کلاشنکوفیں تھی جس سے ہم لڑائی کررہے تھے جبکہ مخالفین تھرمل سنائپر کے ذریعے نشانہ بناتے رہے۔ ‘
شفیع الرحمن پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل ہیں ان کو بائیں ٹانگ پر چار جبکہ بازو پر ایک گولی لگی جس وقت وہ بی بی سی بات کررہے تھے شفیع الرحمن کو علم نہیں تھا کہ ان کی ٹانگ کاٹ دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہKPK POLICE
خزینہ چیک پوسٹ کہاں ہے
خزینہ چیک پوسٹ ہنگو شہر سے تقریبا تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر بلیامین پولیس سٹیشن واقع ہے۔
اسی چیک پوسٹ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر زرگری کا علاقہ لگتا ہے جہاں اکثر شدت پسندوں کی کارروائیوں کی اطلاع ملتی رہتی ہے جبکہ اس پوسٹ کی پشت پر ہنگو اور اورکزئی ضلع کا بارڈر لگتا ہے۔
سنٹرل پولیس آفس کے مطابق اس کارروائی میں 15 عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے۔ جبکہ پولیس کی بکتر بند گاڑی اور پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچا۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ ہلاک افراد کیلئے اعلیٰ ترین اعزازات کی سفارش کی جائے گی۔
اس موقعے پر انھوں نے کہا کہ ’پختونخوا پولیس کے حوصلے بلند اور ارادے چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں۔ صوبے کے کونے کونے سے دہشتگردوں کا مکمل صفایا کرنے کیلئے یہ جنگ پوری قوت اور عزم کیساتھ جاری رہے گی۔‘
واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہنگو بھی گئے جہاں انھوں نے زخمیوں کی عیادت اور لواحقین سے تعزیت بھی کہ اس سے قبل معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت نے ہنگو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس بہادری سے فرائض انجام دے رہی ہے اور پوری قوم کو اپنی پولیس پر فخر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومت پولیس کو مالی اور انتظامی تعاون فراہم کر رہی ہے اور دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ سب کو مل کر لڑنا ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’صوبے نے ماضی میں بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کیا اور ان پر قابو پایا، جبکہ موجودہ جنگ جدید نوعیت کی ہے، اسی لیے پولیس کو اینٹی ڈرون سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اگرچہ بعض شعبوں میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔‘
خیبرپختونخوا میں رواں سال عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے سنٹرل پولیس آفس کے مطابق چھ مہینے میں 122پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
دریں اثنا کالعدم تحریک طالبان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ روز ٹانک میں ہمارے ساتھیوں کی بے حرمتی کا بدلہ ہے ان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دس سے زائد اہلکار ہمارے قبضے میں ہیں۔ تاہم حکومتی سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔



















