لائیو, ٹرمپ ایران کے خلاف ’بڑے حملے کا فیصلہ کرنے کے قریب‘، امریکہ کو اڈے دینے پر ایران کی برطانیہ کو تنبیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجود بی-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ’جائز ہدف‘ ہوگا۔
کویت کی عراق کے ساتھ واقع سرحد پر ’دشمن ڈرون حملوں‘ کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters/UGC
کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام عراق کے ساتھ واقع ملک کے العبدلی بارڈر کو متعدد مرتبہ ’دشمن ڈرون حملوں‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کویتی وزارتِ دفاع کے مطابق ان حملوں سے مالی نقصان ضرور ہوا، تاہم کسی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارتِ دفاع کے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ اداروں نے واقعے کے فوراً بعد صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
کویتی فوج نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ملک کی سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل تیاری اور بلند ترین سطح کی الرٹ حالت میں تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے حملوں کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کی ایک تصویر شائع کی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویر عراقی جانب سے لی گئی تھی۔
ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
ان کے بقول ان میں ایسے حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کیے گئے حملوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ’بڑے حملے‘ کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کے نتائج ہوں گے اور اسی لیے فیصلہ احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔
دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی فوج کو اس حوالے سے کوئی نئے احکامات دیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل فوری طور پر کسی نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکہ کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں اور ’ابھی انھیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔‘
یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانا بنایا جس کے باعث عالمی تیل کی ترسیل کے ایک اور اہم راستے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوبارہ جہازوں پر حملے کیے تو امریکہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثی ایران کے حمایتی گروہ ہیں، اس لیے کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران پر حملے میں استعمال ہونے والا برطانوی فضائی اڈہ جائز ہدف ہوگا: پاسدارانِ انقلاب کی تنبیہ
پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجود بی-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ’جائز ہدف‘ ہوگا۔
اسی دوران ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایران پر امریکی حملوں میں برطانیہ کے اڈوں اور سہولیات کے استعمال کی اجازت کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں کے نفاذ میں کسی بھی قسم کا تعاون ’جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت‘ سمجھا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب سپاہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ بحرِ ہند میں موجود امریکی بحری جہازوں کے کروز میزائلوں کے ذخائر کم ہونے کے بعد، امریکہ نے حملے جاری رکھنے کے لیے ان بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔
اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بیان کے ایک اور حصے میں پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’نصر 2 آپریشن کی 26ویں لہر‘ میں اس نے العدیری اڈے میں امریکی الیکٹرانک جنگی یونٹ، وہاں موجود اہلکاروں کی رہائش گاہ اور اڈے کے فلائٹ کنٹرول ٹاور کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔
اس دعوے کی بھی ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بریکنگ, عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
برینٹ کروڈ، جو تیل کی عالمی قیمتوں کا معیار سمجھا جاتا ہے، جمعرات کو 6 فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔ یہ اضافہ کئی دنوں سے جاری بڑھوتری کے بعد ہوا، جب امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی حملے تیز کر دیے۔
قیمتوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب یمن میں حوثی ملیشیا نے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں پر حملہ کیا، جس سے ایک اہم برآمدی راستہ خطرے میں پڑ گیا۔ سعودی عرب آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے اس راستے کو استعمال کرتا رہا ہے۔
گیس کی قیمتیں بھی گذشتہ ایک ماہ کے دوران مسلسل بڑھتی رہی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو رہی تھیں۔
یہ قیمتیں دوبارہ ان سطحوں تک آ گئی تھیں جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے دیکھی گئی تھیں۔
تاہم، جنگ بندی ناکام ہو گئی ہے اور اس ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں فیصلے کرنے والے لوگ ’معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘۔
جاری تنازعے کے باعث برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے قیمتیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
تیل کی بلند قیمتوں کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل بھی مہنگے ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ اس کا براہِ راست اثر گاڑی چلانے والوں پر پڑتا ہے، لیکن گھریلو صارفین کو بھی خوراک سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ کاروبار اپنی زیادہ نقل و حمل کی لاگت صارفین کو منتقل کر دیتے ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ میں مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے، لیکن یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بھڑکنے والے تنازعے کی وجہ سے یہ سست روی عارضی ثابت ہوگی۔
برطانیہ میں پیٹرول کی قیمتیں ڈھائی ہفتوں کے دوران 5 پنس فی لیٹر بڑھ کر تقریباً 1.56 پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہیں۔ آر اے سی کے مطابق، ڈیزل کی اوسط قیمت 1.72 پاؤنڈ فی لیٹر ہے۔
موٹر سواروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اے اے اے کے مطابق، امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن سے زیادہ ہو گئی ہے، جو ایک ماہ پہلے 3.92 ڈالر تھی۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے مقرر ہونے والے چیئرمین کیون وارش نے گذشتہ ہفتے کانگریس کو بتایا کہ مرکزی بینک کو ’مسلسل بلند مہنگائی بالکل بھی قبول نہیں‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کیون وارش کے پیش رو جیروم پاول پر سود کی شرح کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے تھے۔
ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ وارش امریکی عوام کے لیے قرض لینے کی لاگت کم کرنے کے ان کے مطالبے کو پورا کریں گے۔
تاہم، فیڈرل ریزرو نے گذشتہ ماہ وارش کی پہلی میٹنگ میں امریکی سود کی شرح 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھی۔
انھوں نے کانگریس کو یہ بھی بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے نتیجے میں قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے بعد ’قیمتوں میں استحکام بحال کرنے‘ کے لیے پُرعزم ہیں۔
میرپور شہر سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال, تابندہ کوکب، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مخصوص علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال ہونی کی اطلاعات ہیں جس کے بعد شہری اطمینان کا اظہار کر ہے ہیں۔
میرہور شہر میں موجود لوگوں کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہر میں فور جی انٹر نیٹ بحال ہو چکی ہے۔
ایک رہائشی سیدہ شیریں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرپور
اور ڈڈھیال کے کچھ علاقوں میں ابھی فور جی
سروس پوری طرح بحال نہیں ہے۔ لیکن زیادہ علاقوں میں انٹر نیٹ کھل گیا ہے۔ مجھے بھمبھر
سے فون آیا ہے وہاں بھی انٹر نیٹ شام سے بحا ہو گیا ہے۔ ‘
انھوں نے انٹر نیٹ کی بحالی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا لگ رہا ہے ہم پتھر کے دور سے پھر جدید دور میں آ گئے ہیں۔ ہمیں ضروری کام سے انٹرنیٹ
استعمال کرنے کے لیے پاکستان کے قریبی علاقوں میں جانا پڑتا تھا۔ جب بھی جاتے 700
تک کا پیٹرول لگ جاتا اور کچھ کھانا پینا ہو تو الگ خرچہ۔‘
’ہمارے
علاوہ لوگ جو جو لوگ وہاں آتے تھے سب بہت خوش تھے۔ میں نے فوراً واپس گھر آ کر
وائی فائی چیک کیا تو سگنل آ رہے تھے۔ مقامی طور پر انٹر نیٹ مہیا کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا تو کہنے لگے شام تک زیادہ تر سروسز بحال ہو جائیں گی۔‘
واضح رہے کہ کشمیر میں آئندہ ہفتے ہونے والے مرحلہ وار انتخابات کے سلسلے میں سب سے پہلے پولنگ میرپور شہر میں ہونا ہے۔ کشمیر کے دیگر حصوں میں انتخابات چند روز کے وقفے سے تین مرحلوں میں ہوں گے۔ دار الحکومت مظفر آباد میں پولنگ دو اگست کو ہوگی۔ وہاں ابھی انٹر نیٹ سروس بحال نہیں کی گئی۔
مظفر آباد کے رہائشی انٹرنیٹ کی بندش کے باعث معلومات کی بروقت عدم فراہمی اور افواہوں کے درمیان صورتحال کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے فکر مند ہیں۔
مظفر آباد کی رہائشی سمیرا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’انٹر نیٹ نہ ہونے کے وجہ سے ہمیں بر وقت اور صحیح خبر نہیں ملتی۔ عجیب بے یقینی سی ہے۔ کیا ہوگا؟ کب حالات اچھے ہوں گے؟ سبھی فکر مند ہیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کپا تھا کہ ’میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پی پی پی کی کوششوں اور الیکشن کمیشن کی مداخلت پر شکر گزار ہوں۔ میں سن رہا ہوں کہ میرپور، کشمیر میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطے کی سہولت جلد بحال کر دی جائے گی۔ مجھے امید ہے کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں کے لیے ہماری درخواست بھی جلد از جلد قبول کر لی جائیں گی۔‘
دوسری جانب کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم جموں کشمیر جوائینٹ عوامی کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ان کی تنظیم کے نمائندہ وفد اور حکومت میں شامل کچھ شخصیات کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تنظیم نے اگلے الایحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ۔
انھوں نے دعویٰ کیا حکمومت کی جانب سے وفد کی قیادت اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن کے چیئرمین کرر ہے ہیں انھوں نے کہا کہ مزاکرات ناکام ہونے کی صورت میں لانگ مارچ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے تاہم عابد شاہین کا کہنا تھا اگلی حکمت عملی کے بارے میں اعلان اگلے چوبیس سے چھتیس گھنٹوں میں کردیا جائے گا۔
ہمیں ثالث سے کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ واشنگٹن کا نقطہ نظر ہے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی میں عراق کے ممکنہ کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کافی ثالث موجود ہیں۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے رپورٹر کے ایک سوال کے جواب میں عراقی وزیر اعظم علی زیدی کے حالیہ دورہ امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’عراقی وزیر اعظم نے واشنگٹن کا سفر کیا تھا۔ اس سفر سے ان کے خیالات اور تاثرات ہم تک پہنچانا فطری بات ہے۔‘
عباس عراقچی نے مزید کہا: ’ہمیں فی الحال ثالثوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؛ ہمارے درمیان کافی ممالک ہیں جو یہ کام کرتے ہیں، اور مسئلہ پیغامات کے تبادلے کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس قسم کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔‘
عراقچی کے مطابق، ’مسئلہ امریکہ کا غیر منطقی، توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ رویہ ہے، جس کا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فیصلہ کن ردعمل سامنے آیا ہے۔‘
عراقچی نے مزید کہا کہ ’کسی پیغام یا ردعمل کی ضرورت نہیں ہے، یہ صرف امریکہ کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی حوثیوں کو تنبیہ: ’حملوں کا ذمہ دار ایران کو سمجھا جائے گا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کے حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملے
دوبارہ جاری رکھے تو امریکہ اس کے لیے ایران کو ذمہ دار سمجھے گا اور تہران کے
خلاف سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
امریکی
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ایک سال قبل امریکہ نے تجارتی
جہازوں کو نشانہ بنانے اور عالمی تجارت میں مداخلت پر حوثیوں کے خلاف بھرپور فوجی
کارروائی کی تھی۔
ان کے
مطابق ’اس کے بعد، اور ایران کے ساتھ تنازع کے دوران بھی، حوثیوں نے نسبتاً ذمہ
دارانہ رویہ اختیار کیا۔‘
تاہم
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں اور گزشتہ رات سعودی
عرب کے دو جہازوں پر فائرنگ کی۔
انھوں
نے خبردار کیا کہ ’اگر ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو امریکہ ایران کو اس کا ذمہ دار
قرار دے گا کیونکہ حوثی ایران کے ’نمائندہ‘ یا ’پراکسی‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔‘
امریکی
صدر نے کہا کہ ’ایسی صورت میں ایران کے ساتھ حوثیوں کو بھی سخت فوجی نتائج کا
سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی حمایت ابراہم اکارڈ سے مشروط کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔
امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’امریکہ کے محکمۂ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا سول جوہری معاہدہ (جس میں کسی بھی مواد کی افزودگی نہیں ہوگی!)، جو صرف غیر فوجی استعمال سے متعلق ہے۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ یہ معاہدے ویسا ہی ہے کہ ’جیسا کہ ایران، متحدہ عرب امارات (اور دیگر ممالک) کے پاس پہلے سے موجود ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ ’منظور کر لیا جائے گا تاہم، یہ مکمل طور پر اس شرط سے مشروط ہوگا کہ سعودی عرب انتہائی قابلِ احترام اور کامیاب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو۔‘
انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’امریکہ سول (غیر افزودہ) جوہری تنصیبات کی مخالفت نہیں کرتا۔‘
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان جاری، جولائی میں انڈیکس میں 12000 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 2690 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 171739 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں حصص کاروبار آج بھی فروخت کے دباو کا شکار نظر آیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت میں زیادہ دلچسپی دیکھی گئی جس نے انڈیکس میں کمی کی
مشرق وسطٰی میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر منفی اثر ڈالا اور انڈیکس میں کمی دیکھی گئی۔
جولائی کے مہینے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور خطے میں جنگ کے دائرہ کار کے بڑھنے سے تیل کی عالمی قیمتوں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں کاروبار مندی کا شکار ہوا۔
جولائی کے آغاز پر انڈیکس 184050 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے اور ایک دوسرے پر حملوں نے تیل کی قیمتوں میں اضٓافہ کیا جس کا منفی اثر اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر ہوا۔
آٹھ جولائی کو انڈیکس میں 4600 پوائنس کی کمی ہوئی تھی ، 14 جولائی کو 6400 کمی کے ساتھ انڈیکس بند ہوا اور 16 جولائی کو انڈیکس میں تقریباً 2900 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
آج جمعرات کے روز انڈیکس میں 2690 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی کے مہینے میں انڈیکس میں اب تک 12311 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جولائی کے مہینے میں حصص کاروبار مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے دباو کا شکار ہوا۔
انھوں نے کہا جمرات کے روز انڈیکس میں بڑی کمی کی وجہ بحیرہِ احمر کے راستے تیل کی سپلائی کو بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہے۔
انھوں نے کہا برینٹ خام تیل کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جس پر سرمایہ کاروں نے منفی رد عمل دیا اور مارکیٹ میں کاروبار مندی کا شکار نظر آیا۔
عراقی وزیراعظم علی زیدی سرکاری دورے پر تہران میں
،تصویر کا ذریعہisna
عراق کے وزیر اعظم علی زیدی ایرانی صدر مسعود پیزکیان کی دعوت پر ایک وفد کے ساتھ ایران پہنچے ہیں۔
عراقی حکومت کے ترجمان کے مطابق، علی زیدی اس سفر کے دوران ’خطے میں کشیدگی کو روکنے اور تجارت، نقل و حمل اور درآمد شدہ گیس کے معاملات‘ پر بات چیت کریں گے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ عراق کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور وہ ملک کے اقتصادی مفادات کے پیش نظر خارجہ تعلقات میں کشادگی چاہتا ہے۔
عراقی وزیر اعظم نے حال ہی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی کمپنیوں کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کیے، اس دورے کو میڈیا میں بغداد نے تہران کی پالیسیوں سے دوری سے تعبیر کیا تھا۔
عمان کا خطے میں استحکام کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں کا اعلان
عمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب، یمنی جماعتوں اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن کے ساتھ مل کر سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کر رہا ہے جس کا مقصد خطے میں سلامتی اور استحکام حاصل کرنا ہے۔
ایک بیان میں، عمانی وزارت خارجہ نے بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے اور بحیرہ احمر میں صورتحال کو مزید خراب کرنے اور جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام سے گریز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کا جواباً اردن اور کویت میں امریکی اہداف کو نشانے بنانے کا دعویٰ
ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی سازوسامان پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری کردہ اور سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان کے مطابق، اہداف میں امریکی ٹھاڈ میزائل دفاعی نظام سے تعلق رکھنے والا ایک ریڈار، ایک پیٹریاٹ سسٹم، ایک سی ریم ریڈار، اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر شامل تھے۔
ادھر اردن کی فوج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاع نے جمعرات کی صبح تین میزائلوں کو روک کر مار گرایا، جب کہ چوتھا میزائل دور دراز، غیر آباد علاقے میں گرا۔ بدھ کی شام چھ ڈرونز کو بھی روک کر مار گرایا گیا۔
اردنی فوج نے مزید کہا کہ آپریشن کے نتیجے میں کوئی انسانی جانی یا مادی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی مسلح افواج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انھوں نے کویت میں ان مقامات کو نشانہ بنایا ہے جو ان کے بقول امریکی فوج استعمال کر رہی ہیں۔
ایرانی فوج نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ڈرون کے ذریعے ’کیمپ دوحہ میں امریکی فوج کے گولہ بارود کے ڈپو اور لاجسٹکس سائٹس، علی السلم ایئر بیس پر ایندھن کے ٹینک اور کویت میں عارفجان بیس پر ایک گولہ بارود ڈپو‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
کویتی فوج نے جمعرات کے اوائل میں اعلان کیا کہ اس کا فضائی دفاع ملک پر مسلسل ایرانی حملوں کے درمیان، ’دشمن‘ ڈرونز کے ذریعے حملوں کو پسپا کر رہا ہے۔
کویتی آرمی جنرل سٹاف نے کہا کہ ’دھماکوں کی آوازیں، اگر سنی جاتی ہیں، تو یہ فضائی دفاعی نظام کے دشمن حملوں کو روکنے کا نتیجہ ہیں۔‘
ہفتے کے دوران، ایران نے کویت میں پانی کو صاف کرنے اور بجلی پیدا کرنے کی اہم تنصیبات کے ساتھ ساتھ کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔
اسے سے پہلے سعودی سرکاری میڈیا نے بھی اطلاع دی ہے کہ بحیرہ احمر میں ایک مقامی کمپنی کے جہاز کو نشانہ بنایا گیا، یمن میں حوثیوں کے اعلان کے بعد کہ انھوں نے آبی گزرگاہ میں دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز میں ایران کے پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق تین آئل ٹینکروں میں سے ایک میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جب اسے آبنائے کے جنوب میں بارودی سرنگوں سے بھرے راستے سے گزرنے کی کوشش کی گئی، جب کہ باقی دو ٹینکر واپس پلٹ گئے۔
حوثیوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے ایران نے اُکسایا: مارکو روبیو کا الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا کہ یمن کے حوثیوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے ایران نے ’اُکسایا‘۔
روبیو نے منیلا میں ایسوسی ایشن آف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک (آسیان) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر کہا، ’حوثی اس تنازعے کے دوران بڑی حد تک عقلمند رہے ہیں اور وہ اس سے دور رہے ہیں، لیکن اب لگتا ہے کہ وہ بے وقوف بن گئے ہیں اور سعودی عرب اور اس کے جہازوں پر حملہ کرنے کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔‘
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں گے، سچ پوچھیں تو میرے خیال میں حوثیوں کو ایران نے دھوکہ دیا اور وہ اس تنازعے میں داخل ہو گئے۔‘
یاد رہے کہ ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ کے سینئر سفارت کار جمعرات کو فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جمع ہوئے ہیں، جس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے علاقائی سربراہی اجلاس میں سلامتی کے مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایران میں جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اس جنرل میٹنگ میں ہونے والی بات چیت پر حاوی ہو سکتی ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کایا کالس اور چین، آسٹریلیا، انڈیا، جاپان، برطانیہ اور دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔
آسیان کے زیر اہتمام ہونے والے اجتماع میں جنگ ایک اہم موضوع ہے، ایک ایسا خطہ جس کی مجموعی گھریلو پیداوار تقریبا 3.8 کھرب ڈالر ہے جو مشرق وسطیٰ کے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور خاص طور پر اس بحران سے ہونے والے نقصانات کا شکار ہے، جس نے پوری دنیا میں مہنگائی کو ہوا دی ہے۔
چین کی نائب وزیر خارجہ ہوا چن ینگ نے جمعرات کو آسیان، چین اور جاپان کے درمیان ایک اجلاس میں اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ’دنیا ہنگامہ آرائی اور تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال توانائی اور خوراک کی فراہمی کی زنجیر میں پھیل گئی ہے، جس سے سلامتی اور لچک میں خلل پڑ رہا ہے۔۔۔ امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہنگامی ہے۔‘
مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ امریکہ سفارتی حل چاہتا ہے لیکن تہران تعاون نہیں کر رہا ہے۔
انھوں نے آسیان کے وزراء کو بتایا کہ ’ابھی ہمیں جس مسئلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔‘
میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ ہے: وزیر اعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں
پر یمن کے حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا
ہے کہ ’اس نازک وقت میں وہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم سعودی
قیادت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے
دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھوں نے ’جمعرات کی صبح سعودی عرب کے ولی عہد
محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر
حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔‘
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری
بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’اس نوعیت کی کارروائیاں ناقابلِ قبول
ہیں، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل
کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی
ہیں۔‘
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان
میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف نے ’سعودی عرب کی سلامتی، خود مختاری، علاقائی
سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔‘
بیان
کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان بحیرہ احمر،
آبنائے ہرمز اور خطے میں قانونی سمندری تجارت کے بلا تعطل بہاؤ، امن، سلامتی اور
استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی تعاون
جاری رکھے گا۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد گرفتاریاں، روپوش عسکریت پسندوں کے گھر منہدم کر دیے گئے, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہNadeem Gulzar
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع
اننت ناگ میں بدھ کے روز نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ
کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کے قتل کے بعد کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ نے
مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کی ہیں۔
پولیس کے مطابق 35 سالہ عاشق حسین سالانہ
امرناتھ یاترا پر سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے۔ بدھ کے روز دوپہر کے وقت
علاقے میں تعینات پولیس پارٹی پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ عاشق حسین کو شدید
زخمی حالت میں گورنمنٹ میڈیکل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی
تصدیق کر دی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک حملہ آور
کو بندوق بیگ میں چھپا کر قریب سے فائرنگ کرتے اور فرار ہوتے دیکھا گیا۔
حملے کے بعد کشمیر پولیس کے سپیشل
آپریشنز گروپ نے اننت ناگ کے قصبے بجبہاڑہ میں کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ دو
روپوش عسکریت پسندوں، عادل ٹھوکر اور ہارون رشید گنائی، کے گھروں کو دھماکہ خیز
مواد کے ذریعے منہدم کر دیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عادل
ٹھوکر کا گھر پہلگام حملے کے بعد گذشتہ برس بھی منہدم کیا گیا تھا، تاہم ان کے والدین
نے نیا گھر تعمیر کیا تھا جسے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دوبارہ دھماکے سے اڑا
دیا گیا۔ ہارون رشید گنائی کا گھر بھی اسی کارروائی کے دوران منہدم کیا گیا۔
،تصویر کا ذریعہNadeem Gulzar
بجبہاڑہ کے ایک رہائشی زبیر احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ رات کے وقت ہونے والے پے در پے دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ ایک مسجد، قریبی عمارتوں اور ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
مقامی لوگوں کے مطابق پولیس نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا ہے۔ ان نوجوانوں کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے سہولت کار ہیں اور انھیں تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے وسیع سرچ آپریشن جاری ہے اور واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر وادی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
بحری مفادات کے خلاف کوئی بھی اقدام قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا: پاکستان
،تصویر کا ذریعہx.com/ForeignOfficePk
پاکستان نے یمن کے حوثی گروہ کو ایک
بار پھر خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات
کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے
گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر
اندرابی نے جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے
مطابق اپنے دفاع میں تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بحیرہ احمر میں
سعودی عرب کی تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں
اور سعودی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حوثیوں کی جانب
سے سعودی عرب کی تجارتی جہاز رانی کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں علاقائی
سلامتی، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گذشتہ
ہفتے سعودی عرب پر حملوں کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح
کے اقدامات علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور موجودہ
صورتحال میں ان کے یہ خدشات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی
کشیدگی اور مسلح حملوں کے تناظر میں پاکستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے
کی اپیل کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے
کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ علاقائی تنازعات
کا واحد پائیدار حل بات چیت اور سفارت کاری میں ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے
یورپی یونین کی جی ایس پی پلس مانیٹرنگ رپورٹ پر بھی ردعمل دیا۔ انھوں نے کہا کہ
رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے قانون سازی اور 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل
درآمد میں پیش رفت کو تسلیم کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کا خیال ہے کہ رپورٹ کا
مجموعی تاثر متوازن نہیں اور اس میں اصلاحاتی اقدامات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے 22 افراد ہلاک، 23 زخمی: پی ڈی ایم اے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے
پروونشیئل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 19 جولائی سے اب تک
خیبر پختونخوا میں تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں پیش آنے والے مختلف
حادثات میں 22 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و
شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں نو مرد، تین خواتین اور 10 بچے شامل ہیں، جبکہ
زخمیوں میں 11 مرد، پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق تیز بارشوں اور فلیش
فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں 29 جزوی طور پر جبکہ
آٹھ مکمل طور منہدم ہو گئے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ
حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال،
لوئر اور اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، ٹانک، تورغر، کرم اور شمالی و
جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے تمام
دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ ادارے نے مزید
کہا ہے کہ تیز بارشوں کا سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے
پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ رہنے کے لیے مراسلہ جاری کیا جا چکا
ہے۔
پی
ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی
مقامات کا رخ نہ کریں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے 21 افراد ہلاک، 154 زخمی، 38 گھروں کو نقصان: پی ڈی ایم اے
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے
لیے بنائے گئے ادارے پروونشیئل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم
اے) نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں 25 جون سے 22 جولائی تک بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات کے باعث 21 افراد ہلاک جبکہ 154 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاک
ہونے والوں میں نو مرد، چار خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کی مجموعی تعداد
154 ہے جن میں 67 مرد، 41 خواتین اور 46 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد
و شمار کے مطابق گوجرانوالہ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اٹک، جھنگ اور پاکپتن
میں تین، تین اموات رپورٹ ہوئیں۔ خوشاب، میانوالی، چنیوٹ، سیالکوٹ، فیصل آباد،
گجرات اور ساہیوال میں ایک، ایک شخص جان سے گیا۔
پی ڈی
ایم اے کے مطابق پنجاب بھر میں 38 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں 37 جزوی اور ایک
مکمل طور پر تباہ ہوا۔ گوجرانوالہ سب سے زیادہ متاثر رہا جہاں نو گھروں کو نقصان
پہنچا، جبکہ میانوالی، مظفرگڑھ، جھنگ اور منڈی بہاؤالدین سمیت متعدد اضلاع میں بھی
گھروں کو نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
ایران پر امریکی حملوں میں اہواز اور رامشیر کے نواحی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا: خوزستان انتظامیہ
گورنر خوزستان کے معاون برائے
سکیورٹی، ولی اللہ حیاتی نے کہا ہے کہ گذشتہ شب امریکی حملوں کے دوران اہواز شہر
کے نواح میں ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے حملے سے ہونے والے نقصان کے
بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
گورنر خوزستان کے سکیورٹی امور کے
معاون کے مطابق سڑکیں بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اسفالٹ کو رامشیر شہر کے جس گودام
میں ذخیرہ کیا گیا تھا، امریکی حملوں میں اسے بھی نشانہ بنایا گیا۔
سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہاز پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی: خبر رساں ایجنسی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی
(ایس پی اے) نے ملک کے ٹرانسپورٹ ادارے کے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا
ہے کہ ایک حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر ’اینسیلیا‘ کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی جنرل
ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے کہا ہے کہ سعودی کمپنی سے وابستہ جہاز اینسیلیا
کو بحیرہ احمر میں سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی نے ذریعے کے حوالے
سے رپورٹ کیا کہ جہاز پر سوار عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور اس واقعے میں کوئی
جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے
اپنی رپورٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ حملہ کس کی جانب سے کیا گیا، تاہم جمعرات
کی صبح یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے دو
سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جو ان کے بقول ان کی نافذ کردہ بحری ناکہ بندی
کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔