یمن میں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 140 سے زائد ہلاکتیں

یمن میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کی سہ پہر سے اتوار کی صب تک جنوب مغربی یمن میں حکومتی افواج اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔

خلاصہ

  • پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے 'غیر مجاز راستوں' سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور علاقے میں موجود تین امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • پنجاب کو ہمسایہ ممالک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے: وزیرِ اعلیٰ مریم نواز
  • امریکی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کے تین تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
  • یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں، امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف ماسکو پہنچ گئے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    سات ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو ہلاک ہو گئے۔

    نوشکی پولیس کے حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے اتوار کی شب ان کو ان کے گھر کے باہر نشانہ بنایا۔

    جب اس سلسلے میں نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مقامی رہنما پر حملہ نوشکی شہر سے جنوب مغرب میں کلی بٹو کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    تاحال کسی نے بلوچستان عوامی پارٹی کے مقامی رہنما پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کے معروف سیاسی اور سماجی رہنمائوں میں ہوتا تھا۔

    وہ بی اے پی کا مقامی عہدیدار ہونے کے علاوہ نوشکی میں یونین کونسل باغک کے چیئرمین بھی رہے۔

  3. بلوچستان: مستونگ کے دو مختلف مقام سے چھ نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اتوار کے روزچھ نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں جنھیں گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔

    سرکاری حکام نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دو مختلف مقامات سے ملیں۔

    مقامی لوگوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک بار لاشوں کو اٹھانے کے بعد واپس ان کو روڈ کے کنارے رکھ دیا گیا۔

    ان لاشوں کے حوالے سے مستونگ پولیس کے عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی اور نہ ہی میسیج کا جواب دیا۔

    جب اس سلسلے میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ان لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی۔

    انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم یہ بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان کے مطابق مستونگ شہر کے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے ایک جبکہ دتو موڑ کے مقام سے پانچ لاشیں برآمد ہوئیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او سٹی عبدالروف بلوچ نے اپنی نگرانی میں لاشوں کو شناخت اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔

    تاہم مقامی لوگوں نے ان لاشوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لاشیں دیر تک سڑک کنارے پڑی رہیں۔ مستونگ شہر کے ایک رہائشی مالک بلوچ نے فون پر بتایا کہ یہ لاشیں علی الصبح روڈ کنارے پھینکی گئی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیر تک سڑک کنارے پڑے رہنے کے بعد ان کو کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے جایا گیا لیکن کچھ دیر بعد ان کو واپس مستونگ میں شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ بعد میں ایمبولینسوں کے زریعے نہیں بلکہ ایک زمیاد گاڑی میں ان کو کہیں اور منتقل کیا گیا۔

  4. مصری ٹی وی میزبان اور 11 دیگر افراد کو منشیات کے مقدمے میں سزائے موت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSarah Khalifa Instagram account

    مصر کے سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق مصری ٹیلی وژن میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

    اخبار کے مطابق وہ ایک مجرمانہ گروہ کا حصہ تھے جس نے منشیات بنانے میں استعمال ہونے والے اجزا درآمد کیے تھے، جنھیں فروخت کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کے پاس غیر قانونی آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا۔

    39 سالہ خلیفہ اپنے ٹی وی پروگرام ’مشن امپاسبل‘ کی وجہ سے سب سے زیادہ معروف ہیں، جو جرائم سے متعلق مسائل پر مبنی تھا۔ خلیفہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    دیگر نو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ سات افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔

    خلیفہ کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ سزائے موت کے خلاف اپیل کریں گی۔

    فیصلے کا پہلی بار اعلان گذشتہ ماہ کیا گیا تھا۔ تاہم، سزائے موت کے مقدمات میں ایک قانونی تقاضے کے تحت عدالت کی جانب سے مصر کے گرینڈ مفتی کی مذہبی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی ایک ماہ بعد اس کی توثیق کی گئی۔

  5. انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں رہائشی عمارت منہدم، درجنوں طلبہ کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ, ایلکس فلپس، بی بی سی نیوز

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک رہائشی عمارت منہدم ہو گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درجنوں طلبہ اس کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً دوپہر 1:30 بجے جب جنوب مغربی دہلی کے علاقے ستیہ نکیتن میں واقع پانچ منزلہ عمارت گری، اس وقت اس میں ممکنہ طور پر 50 افراد موجود تھے۔

    این ڈی ٹی وی نے مقامی پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے جبکہ دیگر دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ اب تک چھ افراد کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔

    یہ عمارت، جس کا نام ’ہاسٹل ڈیز‘ تھا، دہلی یونیورسٹی کے کیمپس سے کچھ فاصلے پر واقع تھی۔ اطلاعات کے مطابق عمارت کے تہہ خانے میں تعمیراتی کام جاری تھا۔

    ہاسٹل میں مقیم بہت سے طلبہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کے منہدم ہونے کے وقت وہ اپنے کمروں میں موجود تھے، کیونکہ اتوار کے روز کلاسیں نہیں تھیں۔

    موقع پر موجود ایک رکنِ اسمبلی نے بتایا کہ ملبے تلے دبے بعض طلبہ وہاں سے فون کالز کر رہے تھے۔

    عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ ہاسٹل سے متصل ایک اور عمارت بھی منہدم ہو گئی تھی۔

    دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا کا کہنا ہے کہ ’احتیاطی اقدام‘ کے طور پر ملحقہ عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ’ملبے تلے پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

    دہلی پولیس کے مطابق عمارت صرف 40 یا 50 سال پرانی تھی۔

    ایک قریبی دکان کے مالک نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ عمارت 100 سالہ لیز پر تھی اور لیز ہولڈر نے اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے تہہ خانے میں کھدائی کا کام کروایا تھا۔

    انہوں نے کہا ’اوپری عمارت کو مضبوط کیا گیا تھا، لیکن نیچے کے ستون کمزور تھے۔‘ ان کے مطابق تعمیراتی کام کرنے والے مزدور بھی ملبے تلے دب گئے تھے۔

    نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت گرنے کی وجوہات کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ ’طلبہ اور عام لوگوں کی سلامتی کے ساتھ غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پولیس عمارت کے مالک کی تلاش کر رہی ہے۔

  6. یمن میں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 140 سے زائد ہلاکتیں

    یمن میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کی سہ پہر سے اتوار کی صب تک جنوب مغربی یمن میں حکومتی افواج اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔

    اے ایف پی کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے دو فوجی عہدیداروں نے بتایا کہ ان کی افواج کے 84 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر حوثیوں کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔

    حوثیوں کے چار فوجی ذرائع نے بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران ان کے 57 جنگجو ہلاک ہوئے۔

    بحیرہ احمر کے داخلی راستے ’باب المندب‘ پر کنٹرول کے لیے یمن میں حالیہ جھڑپیں گذشتہ دو ماہ کے دوران سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئی ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب حوثیوں اور یمنی حکومتی افواج کے درمیان 2022 کا جنگ بندی معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

    حوثیوں نے جمعرات کو ایک حملہ کیا جس کا مقصد ’موچا‘ (Mocha) کی بندرگاہ سے مواصلاتی رابطے منقطع کرنا تھا۔ یہ بندرگاہ کئی ہفتوں سے حملوں کی زد میں ہے اور وہ ’آبنائے باب المندب‘ سے ملحقہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

    فریقین کے مختلف فوجی اور طبی ذرائع سے اے ایف پی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات سے اب تک دونوں جانب سے 300 سے زائد فوجی اور کچھ عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے پیشِ نظر، دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے ’آبنائے باب المندب‘ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    حوثی جو خود کو ’انصار اللہ‘ کہلاتے ہیں، شمالی یمن، بحیرہ احمر کے مغربی ساحل اور دارالحکومت صنعا کے بڑے حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

    یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل جسے عالمی برادری تسلیم کرتی ہے، یمن کے مشرقی اور جنوبی ساحلی علاقوں بشمول ’عدن‘ کی بندرگاہ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

  7. صحافی بلال غوری کو پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا: این سی سی آئی اے کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہFamily

    نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تصدیق کی ہے کہ صحافی بلال غوری کو پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے۔

    این سی سی آئی کی جانب سے بلال غوری کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 20 اور 26 اے کے تحت چھ ستمبر کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بلال غوری نے پانچ ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یو ٹیوب چینل پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی پر غلط بیانیہ گھڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم کی جانب سے حقائق کے برعکس اور تصدیق کیے بغیر غلط معلومات کی تشہیر کی گئی جس سے عوام میں بے چینی اور ریاستی اداروں پر اُن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

    گمشدگی کی درخواست

    صحافی اور کالم نگار بلال غوری کے اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں واقع گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے پولیس کو گمشدگی کی درخواست دی تھی۔

    اہلِ خانہ کے مطابق تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بلال غوری کی گمشدگی کی درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    بلال غوری کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'وہ اپنا ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات بھر اوپر نہ آنے پر انھیں تشویش ہوئی۔ ان کے مطابق جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔'

    ان کی اہلیہ نے بتایا کہ 'گزشتہ چند روز سے ان کی طبیعت بھی ناساز تھی، مگر ان کا یوں گھر سے اچانک لاپتہ ہو جانا انتہائی پریشان کن ہے۔'

    انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے پولیس میں بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست دی ہے، تاہم 'اب تک پولیس کی جانب سے نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔'

    تاہم تھانہ شالیمار کے سب انسپکٹر نعمان شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق 'ابھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے، لیکن ابتدائی طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔'

    بلال غوری کی اہلیہ کے بھائی عبدلواسع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں واقعے کا علم ہوتے ہی انھوں نے پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر فون کرکے اپنے بہنوئی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی اور بعدازاں اتوار کی صبح مقامی شالیمار پولیس سٹیشن جا کر تحریری درخواست جمع کرائی۔

    عبدالواسع کے مطابق 'جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں نے فوراً پولیس کو 15 پر فون کرکے اپنے بہنوئی کے لاپتہ ہونے کے واقعے کی رپورٹ کی اور پھر اتوار کی صبح مقامی شالیمار پولیس سٹیشن میں جا کر بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست دی۔'

    بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    بلال غوری اس سے قبل بھی رواں برس فروری میں اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انھیں بنگلہ دیش کے عام انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوتے ہوئے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے کے باعث انھیں سفر سے روکا گیا تھا۔ بعدازاں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

    بلال غوری اس سے قبل قانونی کارروائی کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔ جون 2021 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے انھیں یوٹیوب پر مبینہ ہتکِ عزت کے معاملے میں طلب کیا تھا، تاہم بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے خلاف جاری نوٹس معطل کر دیے تھے۔

    بلال غوری کی موجودہ گمشدگی کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ان کے اہلِ خانہ ان کی خیریت اور موجودگی کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔

  8. حماد اظہر کے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو انھیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے: تحریکِ انصاف کا سابق وفاقی وزیر کی گرفتاری پر ردِعمل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہHammad Azhar

    پاکستان تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں حماد اظہر کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حماد اظہر ایک سابق وفاقی وزیر ہیں، ان کے خلاف اگر کوئی مقدمہ ہے تو انھیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

    تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو بلاجواز گرفتار کرکے خوف و ہراس پھیلانا جمہوریت اور آئین کی روح کے منافی ہے۔‘

    لاہور پولیس نے حماد اظہر کی گرفتاری کی باضابطہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی۔

  9. قالیباف کی امریکہ کو دھمکی: ’متناسب ردعمل کا دور ختم، سلامتی کے خلاف اقدامات کا جواب زیادہ شدید ہوگا‘

    Ghalibaf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب متناسب جواب دینے کا وقت ختم ہو چکا اور ’کھیل کے قواعد‘ تبدیل ہو چکے ہیں۔

    ایرانی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ’پورے کفر کے محاذ کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ‘ لڑ رہا ہے اور ’امریکی اڈوں پر شدید حملوں کے بعد دشمن ممالک کے رہنما مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور کھوکھلے بیانات اور نعروں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی مدد سے محاذِ جنگ کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ متناسب ردِعمل کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور جارح قوت کے اڈے پر ہماری حالیہ کارروائی میں کیے گئے حملے صرف آغاز تھے۔‘

    ’اگر وہ اب تک یہ نہیں سمجھے تو انہیں تاخیر ہونے سے پہلے سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے قواعد بدل چکے ہیں اور اب سے ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب زیادہ تیز، زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔‘

  10. صحافی بلال غوری گھر سے لاپتہ، پولیس کی شکایت موصول ہونے کی تصدیق, عبید ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    Family

    ،تصویر کا ذریعہFamily

    ،تصویر کا کیپشناسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے صحافی بلال غوری

    صحافی اور کالم نگار بلال غوری کے اسلام آباد کے سیکٹر ای 11 میں واقع گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے پولیس کو گمشدگی کی درخواست دی ہے۔

    اہلِ خانہ کے مطابق تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بلال غوری کی گمشدگی کی درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    بلال غوری کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ اپنا ہفتہ وار کالم لکھنے اور وی لاگ شوٹ کرنے کے لیے گھر کی نچلی منزل پر موجود تھے، تاہم رات بھر اوپر نہ آنے پر انھیں تشویش ہوئی۔ ان کے مطابق جب وہ نیچے جا کر دیکھنے گئیں تو بلال غوری گھر میں موجود نہیں تھے۔‘

    ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ’گزشتہ چند روز سے ان کی طبیعت بھی ناساز تھی، مگر ان کا یوں گھر سے اچانک لاپتہ ہو جانا انتہائی پریشان کن ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے پولیس میں بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست دی ہے، تاہم ’اب تک پولیس کی جانب سے نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔‘

    تاہم تھانہ شالیمار کے سب انسپکٹر نعمان شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق ’ابھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے، لیکن ابتدائی طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘

    بلال غوری کی اہلیہ کے بھائی عبدلواسع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں واقعے کا علم ہوتے ہی انھوں نے پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر فون کرکے اپنے بہنوئی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی اور بعدازاں اتوار کی صبح مقامی شالیمار پولیس سٹیشن جا کر تحریری درخواست جمع کرائی۔

    عبدالواسع کے مطابق ’جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں نے فوراً پولیس کو 15 پر فون کرکے اپنے بہنوئی کے لاپتہ ہونے کے واقعے کی رپورٹ کی اور پھر اتوار کی صبح مقامی شالیمار پولیس سٹیشن میں جا کر بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی درخواست دی۔‘

    بلال غوری کے لاپتہ ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    اس سے قبل بنگلہ دیش جاتے ہوئے حراست میں لیے گئے تھے

    بلال غوری اس سے قبل بھی رواں برس فروری میں اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انھیں بنگلہ دیش کے عام انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ روانہ ہوتے ہوئے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے کے باعث انھیں سفر سے روکا گیا تھا۔ بعدازاں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

    بلال غوری اس سے قبل قانونی کارروائی کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔ جون 2021 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے انھیں یوٹیوب پر مبینہ ہتکِ عزت کے معاملے میں طلب کیا تھا، تاہم بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے خلاف جاری نوٹس معطل کر دیے تھے۔

    بلال غوری کی موجودہ گمشدگی کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ان کے اہلِ خانہ ان کی خیریت اور موجودگی کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔

  11. لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک، متعدد زخمی

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ فوج کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی اہلکاروں پر دو ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو افراد جنوبی لبنان کے علاقے نباتیہ الفوقہ میں جبکہ دو خواتین عرب سلیم کے قریب جان کی بازی ہار گئیں۔ وزارت نے بتایا کہ زخمیوں میں متعدد خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے عرب سلیم میں ایک عمارت کے اطراف رہنے والے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ فوج کا مؤقف تھا کہ حزب اللہ اس عمارت کو استعمال کر رہی ہے اور اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

    تاہم لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے انتباہ میں ذکر کی گئی عمارت کے بجائے ایک دوسرے گھر کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دو خواتین ہلاک ہوئیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بعد میں اس عمارت پر بھی حملہ کیا گیا جسے خالی کرنے کی وارننگ دی گئی تھی۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا کہ نباتیہ میں واقع غنڈور ہسپتال کے ایک حصے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہسپتال کئی برسوں سے فعال نہیں تھا۔

    ادھر نباتیہ شہر میں ہونے والے ایک شدید فضائی حملے میں ایک تاریخی عمارت کو نقصان پہنچا، جبکہ سرکاری مالیاتی اور زرعی اداروں کے دفاتر بھی متاثر ہوئے۔

  12. ایران جنگ میں شریک امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن تھائی لینڈ سے روانہ

    طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پانچ روزہ قیام کے بعد اتوار کو تھائی لینڈ سے روانہ ہو گیا۔

    یہ جہاز ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے فوراً بعد امریکی فوجی تعیناتی کے حصے کے طور پر خلیج فارس کی جانب بھیجا گیا تھا۔

    یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر ڈین کیلر نے ایک بیان میں تھائی لینڈ کی میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

    امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہازوں کے مشن عموماً چھ سے نو ماہ تک جاری رہتے ہیں، تاہم جنگی حالات میں اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

    جوہری توانائی سے چلنے والے اس جہاز پر تقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات تھے۔ اس نے ایران کے ساتھ جنگ، بحری ناکہ بندی اور امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ابراہم لنکن بدھ کے روز امریکی بحریہ کے کئی دیگر جہازوں کے ہمراہ تھائی لینڈ پہنچا تھا۔ تھائی لینڈ مین لینڈ جنوب مشرقی ایشیا میں امریکہ کا واحد دفاعی معاہداتی اتحادی ہے۔ تھائی حکام کے مطابق اس دورے کی مدت پانچ دن مقرر کی گئی تھی۔

    یہ جہاز پٹایا کے ساحل کے نزدیک لنگر انداز رہا۔ پٹایا اپنی متحرک شبانہ سرگرمیوں اور سیاحتی صنعت کے لیے مشہور شہر ہے۔

    دریں اثنا، حالیہ مہینوں میں امریکی کانگریس کے متعدد ارکان نے جہاز پر خوراک کی قلت، خراب بیت الخلا کی سہولیات اور عملے کو درپیش نفسیاتی دباؤ سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  13. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انھوں نے اتوار کی صبح جنوبی لبنان میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیل کے مطابق یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر دو ڈرون حملے کیے جانے کے جواب میں کی گئی۔

    اسرائیلی فوج نے اس سے قبل جنوبی لبنان کے قصبے عرب سالم میں ایک عمارت کے آس پاس رہنے والے افراد کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ فوج کا کہنا تھا کہ ’اس عمارت کو نشانہ بنایا جائے گا کیونکہ اسے حزب اللہ استعمال کر رہی تھی۔‘

    حزب اللہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

    اسرائیل جنوبی لبنان کے ایک حصے کو ’سکیورٹی زون‘ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ غیر مسلح نہیں ہوتی، وہ ان علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیلی حملوں کے آغاز سے دو مارچ کے بعد لبنان میں 4,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. عراقچی کی سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    اس دوران دوطرفہ امور، خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور خطے میں استحکام کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔

    ٹیلیفونک رابطے کو دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  15. توانائی مصنوعات کی درآمد میں کمی سے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ کم, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کا خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ، جولائی میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ خطے سے درآمدات میں بڑی کمی جبکہ برآمدات میں معمولی اضافہ ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے پاکستان کی برآمدات پانچ اعشاریہ چھ فیصد اضافے کے ساتھ 271.60 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال جولائی میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔

    متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن کو پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوا، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کو برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب جولائی میں مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی درآمدات 44.3 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد 879.98 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ 1.578 ارب ڈالر تھیں۔

    درآمدات میں اس کمی کی بڑی وجہ توانائی کی خریداری میں کمی بتائی گئی ہے۔ پاکستان نے جولائی کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد میں نمایاں کمی کی، تاہم بحرین اور اردن سے توانائی کی درآمد میں اضافہ ہوا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر نمایاں انحصار کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان اور بحرین پاکستان کو مختلف مصنوعات کے ساتھ ساتھ تیل، گیس اور دیگر توانائی کی مصنوعات فراہم کرنے والے اہم ممالک ہیں۔

    پورے مالی سال 2025-26 کے دوران بھی مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی درآمدات میں تقریباً چار فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 17.097 ارب ڈالر سے کم ہو کر 16.413 ارب ڈالر رہیں۔ اسی عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے پاکستانی برآمدات بھی دو فیصد سے زیادہ کم ہوئیں اور 3.152 ارب ڈالر کے مقابلے میں 3.093 ارب ڈالر رہیں۔

    توانائی کے شعبے کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی کی سب سے بڑی وجہ قطر سے گیس کی درآمد میں کمی ہے۔‘

    ان کے مطابق پاکستان پہلے قطر سے روزانہ 700 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درآمد کرتا تھا، جو اب کم ہو کر 450 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔

    فرحان محمود کے مطابق قطر سے درآمدات میں مشکلات کے باعث توانائی کی مصنوعات کی مجموعی درآمد بھی متاثر ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تیل اور گیس کی تقریباً 90 فیصد ضروریات خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور خطے میں جاری جنگ کے باعث ان درآمدات میں بھی تعطل آیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق توانائی کی درآمدات میں اتار چڑھاؤ اور خلیج کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی حجم کے ساتھ ساتھ تجارتی خسارے پر بھی براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

  16. پشتو افغانستان کی ’قومی زبان‘ جبکہ دری ’سرکاری زبان‘ ہے: طالبان عہدیدار کا دعویٰ

    SHAMSHAD TV/YOUTUBE

    ،تصویر کا ذریعہSHAMSHAD TV/YOUTUBE

    ،تصویر کا کیپشنطالبان کی وزارتِ دفاع کے چیف انسپکٹر مفتی لطف اللہ حکیمی

    طالبان کی وزارتِ دفاع کے چیف انسپکٹر مفتی لطف اللہ حکیمی نے حال ہی میں پشتو اور دری (فارسی) کو افغانستان کی سرکاری زبانیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشتو ’قومی زبان‘ بھی ہے۔

    ان کے اس بیان پر نہ صرف اس لیے تنقید کی جا رہی ہے کہ افغانستان میں ’قومی زبان‘ کی کوئی باضابطہ حیثیت موجود نہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انھوں نے پشتو کو دری سے برتر قرار دیا ہے، حالانکہ دری تاریخی طور پر ملک میں رابطے کی مشترکہ زبان رہی ہے اور افغانستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

    31 اگست کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر نجی ٹی وی چینل شمشاد ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب حکیمی سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی زبانیں بولتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ پشتو، دری، عربی اور اردو جانتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’دری افغانستان کی سرکاری زبان ہے۔ بلاشبہ افغانستان کی قومی زبان پشتو ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض لوگ کہتے ہیں کہ دو قومی زبانیں ہیں، لیکن قومی زبان صرف ایک ہو سکتی ہے، ورنہ لوگ ہم پر ہنسیں گے۔ ایک قومی (زبان) ہے اور دوسری سرکاری۔ سرکاری زبانیں 10 بھی ہو سکتی ہیں۔‘

    طالبان پر اس سے قبل بھی دری زبان کو کمزور کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ دارالحکومت کے مختلف اہم علاقوں کے تاریخی ناموں کو پشتو میں تبدیل کرکے شہر میں نصب کیے گئے نئے سائن بورڈز پر درج کیا گیا۔

    تاہم مئی 2024 میں طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دری اور پشتو میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    طالبان کے پاس اس وقت کوئی آئین نہیں ہے، تاہم 2004 میں منظور کیے گئے افغانستان کے آئین کے آرٹیکل 16 میں پشتو اور دری کو ریاست کی سرکاری زبانیں قرار دیا گیا تھا۔

    آئین کے مطابق ملک میں رائج پشتو، دری، ازبکی، ترکمنی، بلوچی، پشائی، نورستانی، پامیری اور دیگر زبانوں میں سے پشتو اور دری ریاست کی سرکاری زبانیں ہیں، جبکہ آئین میں کسی بھی زبان کو ’قومی زبان‘ قرار نہیں دیا گیا۔

  17. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’انھوں نے امریکی بحریہ کی ایک آبدوز کو نشانہ بنایا ہے، جسے ریموٹ کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔‘

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ آبدوز آبنائے ہرمز کے ’محفوظ علاقے‘ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

    اس سے قبل سنیچر کی رات گئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا تھا کہ انھوں نے آبنائے ہرمز میں ’غیر مجاز راستوں‘ سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور دیگر علاقوں میں موجود تین امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔‘

    ایران نے اسے امریکی افواج کی جانب سے تین ایرانی ٹینکروں پر کیے گئے حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔ تاہم امریکہ نے ان حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    اس سے قبل سنیچر کی صبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج نے تین ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک کو جزیرۂ خارگ کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ جزیرۂ خارگ ایران سے تیل کی برآمدات کا ایک اہم مرکز ہے۔

  18. مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو منشیات کیس میں سزائے موت

    Sarah Khalifa Instagram account

    ،تصویر کا ذریعہSarah Khalifa Instagram account

    ،تصویر کا کیپشنمصر کی ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ

    مصر کی ایک ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی دے کر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

    سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق یہ افراد ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کا حصہ تھے جو منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال اس مقصد سے درآمد کرتا تھا کہ اس سے منشیات تیار کرکے فروخت کی جائیں۔ ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

    39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے ٹی وی پروگرام ’مشن امپاسیبل‘ کے لیے مشہور ہیں، جس میں جرائم سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی جاتی تھی۔ انھوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔

    عدالت کا فیصلہ، جس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے، ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ سنایا گیا تھا۔ تاہم اس کی باضابطہ توثیق ایک ماہ بعد کی گئی، جب عدالت نے مصر کے گرینڈ مفتی سے مذہبی رائے حاصل کر لی۔ سزائے موت کے مقدمات میں یہ ایک قانونی تقاضا ہے۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ حکام نے 750 کلوگرام سے زیادہ منشیات اور منشیات تیار کرنے کے لیے درآمد کیا گیا خام مال ضبط کیا تھا۔

    ’الاہرام‘ کے مطابق 20 گواہوں نے استغاثہ کے سامنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے، جبکہ الیکٹرانک شواہد میں گفتگو اور ویڈیو کلپس بھی شامل تھے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سرکاری اخبار ’اخبار الیوم‘ کے مطابق گزشتہ ستمبر میں عدالت میں پیشی کے دوران جج کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر سارہ خلیفہ نے کہا تھا کہ انھوں نے منشیات اس وقت تک کبھی نہیں دیکھی تھیں جب تک انسدادِ منشیات ادارے کے دفاتر میں ان کی منشیات کے ساتھ تصویر نہیں بنائی گئی۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران دنیا بھر میں 492 افراد کو سزائے موت سنائی گئی، جن میں سے 23 کو پھانسی دی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں ملزمان کو منشیات کی سمگلنگ اور ریپ کا مجرم قرار دیا گیا، تاہم ’یہ ایسے جرائم نہیں تھے جن میں ’جان بوجھ کر قتل‘ شامل ہو، جبکہ بین الاقوامی قانون اور معیار کے تحت سزائے موت کا اطلاق صرف ایسے جرائم تک محدود ہونا چاہیے جن میں جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو۔‘

  19. پوتن سے ماسکو میں بات چیت کے بعد ٹرمپ کے دو اعلیٰ مذاکرات کار یوکرین پہنچ رہے ہیں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکام کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے بعد امریکہ کے دو خصوصی ایلچی یوکرین میں بھی ’اسی طرح نتیجہ خیز ملاقاتوں‘ کی امید کر رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اتوار کو کیف پہنچیں گے۔ دونوں نے سنیچر کو ماسکو میں صدر پوتن سے ملاقات کے دوران ’آئندہ کے اقدامات کے لیے ٹھوس منصوبوں‘ پر بات چیت کی۔

    تاہم ان منصوبوں کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، البتہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی کے درمیان آئندہ چند ہفتوں میں کسی اعلان کی توقع ہے۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کا یوکرین کے دارالحکومت کا پہلا دورہ ہوگا۔

    سنیچر کو ماسکو میں پوتن کی سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور روسی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔ دونوں جانب سے مذاکرات کے بارے میں مجموعی طور پر مثبت بیانات سامنے آئے، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پوتن کے مشیر یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’تعمیری اور انتہائی دوٹوک‘ قرار دیا۔

    ان کے مطابق بات چیت صرف یوکرین بحران کے حل تک محدود نہیں رہی بلکہ اقتصادی معاملات اور روس و امریکہ کے درمیان ممکنہ بڑے اور باہمی مفاد کے منصوبوں پر بھی تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں روسی فوج کی محاذِ جنگ پر ’نمایاں پیش قدمی‘ کا بھی ذکر کیا گیا اور اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ تنازع کی ’بنیادی وجوہات‘ کو مذاکرات میں حل کیا جانا چاہیے۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ ’بامعنی بات چیت‘ کے لیے تیار ہیں۔ اُن کی جانب سے یہ بیان تب سامنے آیا کہ جب وٹکوف اور کشنر کریملن میں مذاکرات کر رہے تھے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس نے حالیہ عرصے میں کئیو سمیت یوکرین کے شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے، تاہم جنگ کے بیشتر عرصے میں روسی زمینی افواج کی پیش قدمی انتہائی سست رہی ہے اور اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ روس اب بھی یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے سنہ 2022 میں قبضہ کیا تھا۔

    جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف روس کے متعدد دورے کر چکے ہیں، تاہم فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی فضائی حدود بند ہیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ دونوں ماسکو سے کئیو تک کیسے سفر کریں گے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنروس کے یوکرین پر حملوں کے بعد کے مناظر (فائل فوٹو)

    روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ مہینوں میں فضائی حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ ’انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث اسے بیلسٹک میزائل حملوں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئیو نے روس کے معاشی بنیادی ڈھانچے، خصوصاً تیل کی تنصیبات، کو اپنے حملوں کا اہم ہدف بنایا ہے۔

  20. عراق کی یومیہ تیل برآمد کرنے کی صلاحیت 30 لاکھ بیرل سے تجاوز کر گئی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے کہا ہے کہ ’ملک نے خام تیل برآمد کرنے کی اپنی یومیہ صلاحیت بڑھا کر 30 لاکھ بیرل سے زیادہ کر دی ہے اور اسے 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔‘

    عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے باسم محمد خضیر نے بتایا کہ ’ستمبر کے آغاز سے ملک کی خام تیل کی برآمدات تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’عراق کے شمال میں واقع فیش خابور اور بحیرۂ روم کی ساحلی بندرگاہ بنیاس کو عراق کے تیل کے ذخائر سے ملانے والی سٹریٹیجک پائپ لائنوں کی تکمیل کے بعد برآمدی صلاحیت 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔‘

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عراق کے پاس تقریباً 145 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر ہیں۔

    ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران عراق کی تیل کی پیداوار 33 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر تقریباً 13 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھی، تاہم موسمِ گرما کے وسط سے اس میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا۔