یمنی حوثیوں کے متعدد سعودی شہروں پر حملوں میں 73 افراد زخمی، سعودی عرب کا ’فیصلہ کُن جواب‘ دینے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا فیصلہ کن جواب دے گا۔
حوثی جنگجو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں۔ انھوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب پر حملے کیے ہیں اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان نے حالیہ لڑائی میں اضافے کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک اور اوپیک کے عملاً قائد سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
کرنل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اتحاد ان دہشت گرد ملیشیاؤں کو روکنے اور ان کے جارحانہ طرزِ عمل کا فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے جیزان اور نجران سمیت مختلف شہروں میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے گزشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ نئے حملوں میں جیزان میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور حکام نقصان کی شدت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آرامکو نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

















