جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 11 افراد ہلاک، حکام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جون میں کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد یہ مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیے جا رہے ہیں۔
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے بتایا کہ ضلع نبطیہ کے علاقے انصار کے نواح میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں سات افراد جان سے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین بچے اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق ہفتے کے روز بعد میں دیر الزہرانی قصبے پر ایک اور حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا اور یہ کارروائی اپنے فوجیوں کے خلاف مبینہ حملے کے جواب میں کی گئی۔
حکام کے مطابق انصار میں حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے اس مقام پر ہوا جہاں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گاؤں کی گلیوں میں دھویں کے بادل بلند ہوتے اور سائرن بجتے سنے جا سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نواف سلام نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے اور انہیں "عسکری ڈھانچہ" قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا، ’اسرائیل کو یہ کشیدگی بڑھانا بند کرنا چاہیے۔ ہمارے لوگوں کی سلامتی اور اپنی سرزمین پر جینے کا حق کسی قسم کی سودے بازی کا موضوع نہیں۔‘
اسرائیلی فوج کے مطابق جس واقعے کے بعد انصار پر حملہ کیا گیا وہ علی الطاہر کی پہاڑی پر پیش آیا، جو جنوبی مشرقی لبنان پر نظر رکھنے والی ایک اہم عسکری پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے نے بھی اس پہاڑی کے اطراف متعدد حملوں کی اطلاع دی ہے۔
سرحدی علاقے بنت جبیل میں بھی کئی گھروں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ این این اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رہائشی گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
جون میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک کے تحت حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کا منصوبہ شامل ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے انصار میں ایک ہی خاندان کے افراد کی ہلاکت اور جنگ بندی معاہدے کی ’بار بار خلاف ورزیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کے لیے ایک واضح پیغام ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے، خلاف ورزیاں اور زمینی حقائق مسلط کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
اگرچہ جون کے معاہدے کے بعد لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ لبنانی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں کے درمیان ستمبر میں مذاکرات کا آٹھواں دور متوقع ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔

















