لائیو, قطر نے تین ایرانی پائلٹوں کو حراست میں لے لیا: تہران کا الزام

ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انھوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 11 افراد ہلاک، حکام

    لبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

    لبنانی حکام کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جون میں کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد یہ مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیے جا رہے ہیں۔

    لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے بتایا کہ ضلع نبطیہ کے علاقے انصار کے نواح میں ایک گھر پر ہونے والے حملے میں سات افراد جان سے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین بچے اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق ہفتے کے روز بعد میں دیر الزہرانی قصبے پر ایک اور حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا اور یہ کارروائی اپنے فوجیوں کے خلاف مبینہ حملے کے جواب میں کی گئی۔

    حکام کے مطابق انصار میں حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے اس مقام پر ہوا جہاں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گاؤں کی گلیوں میں دھویں کے بادل بلند ہوتے اور سائرن بجتے سنے جا سکتے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نواف سلام نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے اور انہیں "عسکری ڈھانچہ" قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    ان کا کہنا تھا، ’اسرائیل کو یہ کشیدگی بڑھانا بند کرنا چاہیے۔ ہمارے لوگوں کی سلامتی اور اپنی سرزمین پر جینے کا حق کسی قسم کی سودے بازی کا موضوع نہیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے مطابق جس واقعے کے بعد انصار پر حملہ کیا گیا وہ علی الطاہر کی پہاڑی پر پیش آیا، جو جنوبی مشرقی لبنان پر نظر رکھنے والی ایک اہم عسکری پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے نے بھی اس پہاڑی کے اطراف متعدد حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    سرحدی علاقے بنت جبیل میں بھی کئی گھروں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ این این اے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رہائشی گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔

    جون میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک کے تحت حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کا منصوبہ شامل ہے۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے انصار میں ایک ہی خاندان کے افراد کی ہلاکت اور جنگ بندی معاہدے کی ’بار بار خلاف ورزیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کے لیے ایک واضح پیغام ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے، خلاف ورزیاں اور زمینی حقائق مسلط کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

    اگرچہ جون کے معاہدے کے بعد لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ لبنانی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں کے درمیان ستمبر میں مذاکرات کا آٹھواں دور متوقع ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔

  2. پرچم کی توہین کرنے والے دو طالب علموں کا تہران یونیورسٹی نے داخلہ منسوخ کر دیا

    تہران یونیورسٹی کے صدر محمد حسین امید نے کہا ہے کہ ایرانی پرچم کی توہین کے الزام میں دو طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا مرحلہ جاری ہے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی تادیبی کونسل ایسے متعدد طلبہ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے یا مکمل کر چکی ہے جن پر یونیورسٹی کے مفادات کو نقصان پہنچانے یا مقدسات کی توہین کے الزامات عائد ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ طلبہ کے بارے میں تادیبی کونسل کے فیصلوں سے آگاہ کیا جائے گا۔

  3. قطر نے تین ایرانی پائلٹوں کو حراست میں لے لیا: تہران

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انھوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد باقر زادہ نے آئی سی آر سی کی صدر ماریانا سپولیئرک کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ دو ایس یو-24 جنگی طیارے 2 مارچ 2026 کو قطر میں واقع ایک ’دشمن فوجی اڈے‘ کو نشانہ بنانے کے لیے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔

    ان کے بقول، مشن کی تکمیل کے بعد واپسی کے دوران طیاروں کو دشمن کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں چار ایرانی پائلٹ متاثر ہوئے۔

    ان چار پائلٹوں میں سے ایک، ماجد کاظمی، کی میت بعد ازاں ایران منتقل کی گئی اور انھیں 29 اگست کو شیراز میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے دعویٰ کیا کہ باقی تین پائلٹوں، جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروشیان، کو قطری افواج نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔

    اس سے قبل بھی ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا ان تینوں پائلٹوں کی ’حیثیت معلوم کرنے کی کوششوں‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

    اپنے خط میں بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے الزام عائد کیا کہ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود قطر نے ان قیدیوں کے بنیادی حقوق کا احترام نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ عمل جنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشنز اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود نہ تو ان قیدیوں کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی حالت سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی فوج اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ شیراز کے شہید دوران ایئر بیس سے اڑان بھرنے والے ان پائلٹوں نے قطر میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا تھا، تاہم مشن سے واپسی کے دوران ان کے طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

  4. حزب اللہ کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امریکہ سے مذاکرات معطل کر دیے: باقر قالیباف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے گئے تھے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہونے والے آخری حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہل خانہ سمیت ہلاک ہوئے، جس کے بعد ہم نے وہیں سب کچھ روک دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران نے واضح کر دیا تھا کہ آج رات ہم آپ کو اسی انداز میں جواب دیں گے اور اگر صہیونی حکومت نے ردعمل دیا تو ہم پورے خطے کو نشانہ بنائیں گے۔‘

    ایرانی چیف مذاکرات کار کے مطابق ’اسی رات انھوں نے ناکہ بندی ختم کر دی، معاہدے کے 30 دن بعد نہیں۔ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ ہم آج رات ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے نیچے انھوں نے لکھا کہ اس کے بدلے ایرانی آبنائے ہرمز بھی کھولیں گے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قالیباف کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اسے روک دیا اور کہا کہ ہمارا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ثالثوں سے کہا کہ اگر یہ ٹوئٹ ابھی حذف نہ کی گئی تو ہم اسی شدت سے حملہ کریں گے جس کا میں نے اعلان کیا ہے۔ 58 منٹ بعد ٹرمپ نے ٹوئٹ کا دوسرا حصہ حذف کر دیا اور لکھا کہ آبنائے ہرمز معاہدے کے تحت سنیچر کے روز کھولی جائے گی۔‘

    قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’یہ مذاکرات دراصل جدوجہد کا نام ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع کر دی گئی اور تاحال جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ایرانی حکام نے ان بیانات پر شدید تنقید کی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ہمیشہ ایرانی رہی ہے، آج بھی ایرانی ہے اور آئندہ بھی ایرانی رہے گی‘ اور اسے ’صرف ایران کی کمان میں ہی بند یا کھولا جائے گا۔‘

  5. انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈونیشیا میں سنیچر کی علی الصبح 7.7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ملک کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق زلزلے کے باعث متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابتدائی ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    زلزلے اور اس کے بعد آنے والے درجنوں آفٹر شاکس کے باعث علاقے میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈونیشیا کی محکمہ موسمیات و جیو فزکس ایجنسی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح پانچ بجے کے قریب جزیرے فلوریس میں آیا۔ زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    ماؤمیرے بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انٹرآئی لینڈ فیری پر سوار ہونے کے منتظر مسافروں کے اوپر ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے گر رہے ہیں۔ جہاز تک پہنچنے والا گینگ وے منہدم ہونے کے باعث بعض افراد سمندر میں جاگرے۔

  6. آبنائے ہرمز میں نامعلوم شے کے حملے سے مال بردار جہاز متاثر، عملہ محفوظ

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کو آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے ایک واقعے کی تصدیق شدہ رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک بلک کیریئر جہاز نامعلوم شے کے حملے کی زد میں آیا جس سے جہاز کے ڈھانچے (ہل) کو نقصان پہنچا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ ہے تاہم نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلی جائزہ سامنے نہیں آیا، جبکہ ممکنہ ماحولیاتی اثرات کے بارے میں بھی تاحال معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع ادارے کو دی جائے۔

  7. ہم سمجھ نہیں سکے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے پاکستان آخر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے: امیر خان متقی

    طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی

    طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ ’بارہا کوششوں کے باوجود ہم یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی سے پاکستان کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار سید عبداللہ نظامی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے کبھی ان(پاکستان) پر حملہ نہیں کیا، ہم نے ان کی سڑکیں بند نہیں کیں، ہم نے ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ہم نے ان کے ٹرانزٹ (سامان) کی نقل و حمل میں بھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔‘

    امیر متقی کے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان نے آمدورفت محدود کی، حملے کیے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے۔‘

    یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    تاہم امیر متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس کی مجبوری یا تشویش کیا ہے اور معاملات یہاں تک کیوں پہنچے ہیں۔

    یاد رہے کہ ان حملوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسلح گروہوں کی جانب سے ہونے والے حملے ہیں، جنھیں وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

    تاہم امیر خان متقی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کا سامنا ہے جبکہ وہاں (پاکستان میں) اختیارات کی تقسیم بھی غیر متوازن ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین اس کے مخالف مسلح گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

    تاہم اس بارے میں امیر خان متقی نے کہا کہ ’اگر بات بلوچ گروہوں کی ہے تو وہ گزشتہ 78 برس سے حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر ٹی ٹی پی کی بات کی جائے تو وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اور جہاں تک افغان سرزمین کا تعلق ہے تو ہم نے ماضی کے مقابلے میں سرحدی نگرانی اور کنٹرول کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔‘

    جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا مخالف فریق کے مطالبات اور خدشات کو سمجھنا بھی ان کی ذمہ داری نہیں، تو امیر خان متقی نے جواب میں دعویٰ کیا کہ ’ہماری جانب سے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں اور ہماری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

    امیر خان متقی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی حکام اور حکومت کے حامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔

    اگرچہ طالبان حکومت مذاکرات اور تحمل کے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے، تاہم اس نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو وہ اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے۔

    طالبان حکومت کے وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے حال ہی میں افغان سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو اپنی پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔

  8. امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پیغامات کا مقصد مذاکرات ہونا نہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: عباس عراچی نے کہا کہ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم اس کا مطلب مذاکرات ہونا نہیں ہے

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    بی بی سی فارسی نے خبر رساں ادارے اسنا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’مذاکرات کے حوالے سے عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم اس کا مطلب مذاکرات ہونا نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت میں ’جنگ کے خاتمے‘ کی بات کی گئی تھی، نہ کہ جنگ بندی کی۔

    عباس عراقچی کے مطابق امریکہ نے اس مفاہمت کی خلاف ورزی کی جس کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

    انھوں نے کہا کہ اسی لیے ’60 روزہ جنگ بندی‘ جیسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس میں توسیع کی ضرورت پڑتی۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ رابطوں کے لیے پہلے استعمال ہونے والے ذرائع اب مؤثر نہیں رہے۔

    ان کے بقول تہران اس وقت رابطے کے لیے ایک ’عبوری راستہ‘ تیار کر رہا ہے جو بعد میں مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  9. انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے سے ایک شخص ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری

    انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہBASARNAS

    انڈونیشیا میں سنیچر کو 7.7 شدت کے زلزلے سے کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ حکام کی جانب سے سونامی وارننگ جاری کیے جانے پر لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم بعد میں یہ وارننگ واپس لے لی گئی۔

    ماؤمیرے میں امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اب تک چار افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم دور افتادہ اور پہاڑی علاقے میں نقصان کی مکمل نوعیت جاننے میں وقت لگ سکتا ہے۔

    زلزلے کے باعث جزیرۂ فلورس کے مرکزی شہر ماؤمیرے میں لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔

    بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر وہاں گرے جہاں بین الجزائر فیری پر سوار ہونے کے منتظر مسافر موجود تھے۔ جہاز تک پہنچنے والا راستہ گرنے سے کچھ افراد سمندر میں جا گرے۔

    حکام کی جانب سے سونامی وارننگ جاری کیے جانے کے بعد موٹر سائیکلوں پر سوار لوگوں کی بڑی تعداد کو ساحل سے دور محفوظ علاقوں کی طرف جاتے دیکھا گیا۔

    انڈونیشیا کی موسمیات، موسمیاتی تبدیلی اور ارضی طبیعیات کی ایجنسی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے کچھ پہلے مشرقی نوسا تنگارا کے فلورس علاقے میں آیا۔ ادارے کے مطابق زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔

    زلزلے کے بعد حکام نے سونامی کے خدشے کے پیش نظر وارننگ جاری کی، تاہم بعد میں اسے ختم کر دیا گیا۔

    انڈونیشیا میں زلزلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت ترجیح عوام کی حفاظت اور آفٹر شاکس یا دیگر خطرات کے باعث مزید جانی نقصان کو روکنا ہے۔

    اسی علاقے میں کئی شدید آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے جن میں ایک کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔

    ادارے نے لوگوں کو پرسکون رہنے اور ساحلی علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ’لوگوں کو عمارتوں میں داخل ہونے سے بھی گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسی عمارتوں میں جن میں پہلے ہی دراڑیں پڑ چکی ہوں یا جن کی ساخت کو نقصان پہنچا ہو۔‘

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور نقصان کے حجم کا تعین کرنے کے لیے فوری جائزہ لیا جا رہا ہے اور معلومات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

  10. حوثیوں کے میزائل حملے میں کم از کم چار شہری ہلاک: یمنی حکومت

    یمن کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعے کے روز بحیرہ احمر کی بندرگاہ موچا پر چھ بیلسٹک میزائل داغے جس کے نتیجے میں کم از کم چار شہری ہلاک ہو گئے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے حکام کے مطابق حملے میں شہری بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد ماہی گیر کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔

    دوسری جانب حوثیوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے موچا میں فوجی مقامات، ہتھیاروں اور سعودی حمایت یافتہ افواج کے جہازوں کو بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور یمن میں وسیع پیمانے پر تنازع کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

  11. آبنائے ہرمز ایران کی تھی، ہے اور رہے گی: ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز ایرانی تھی، ہے اور رہے گی۔‘

    کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آبنائے ہرمز پر نہ تو کسی ٹویٹ کے ذریعے اور نہ ہی طیارہ بردار بحری جہاز سے قبضہ کیا جا سکتا ہے۔‘

    ان کا دعویٰ تھا ’کہ ایران نہ دھمکیوں سے ڈرتا ہے اور نہ ہی طاقت کے مظاہرے سے۔‘

    غریب آبادی نے دعویٰ کیا کہ ’امریکہ کو اب تک بھاری سٹریٹیجک شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

    ان کے مطابق ’آبنائے ہرمز کو بند یا کھولنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔‘

  12. آبنائے ہرمز کو بہت جلد امریکہ کا علاقہ قرار دے دوں گا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بہت جلد ’امریکہ کا علاقہ‘ قرار دیں گے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے نیویارک میں ایک جلسے کے دوران اس حوالے سے اپنے دعوے میں مزید کہا کہ’ اس وقت ایران کو بہت بری طرح شکست ہو رہی ہے اور جب عنقریب ہم ایران کو مکمل شکست دے دیں گے تب آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دوں گا۔‘

    یاد رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل عام طور پر آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

    جنگ کے بعد سے اس راستے میں طویل مدتی رکاوٹ کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

  13. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • امریکہ کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن تہران کے خلاف ایسے اقدامات کرنے جا رہا ہے ’جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھے۔‘۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے۔
    • امریکی صدر ٹرمپ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات فوجی اہلکاروں کی رہائش اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات کو مسترد کیا ہے، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ اس جہاز کو جلد ہی ایک دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز سے تبدیل کر دیا جائے گا۔
    • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے یونانی ہم منصب جورجوس گیراپیٹریٹس کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
    • ایران کے پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان کی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اور داماد جیرڈ کشنر، غزہ امن کونسل کے سربراہ نکولائے ملادینوف کے ہمراہ اگلے ہفتے اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
    • اسرائیلی وزیرِاعظم کے ترجمان نے بنیامن نیتن یاہو کے برطانیہ کے بارے میں دیے گئے بیان اور اس ملک کو ’اسلامی جمہوریہ‘ قرار دینے کے بیان کا دفاع کیا ہے۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے ایک پوڈکاسٹ میں ونسٹن چرچل کے پوتے سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انھیں ’اسرائیل کا دوست‘ قرار دیا اور کہا کہ آج کل برطانیہ میں ایسا رویّہ نظر نہیں آتا۔
    • بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ان کے سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے، تاہم وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے۔
  14. ہرمزگان کی فضائی حدود میں امریکی ڈرون مار گرایا: پاسداران انقلاب کا دعویٰ

    ایم کیو-9 ڈرون

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان کی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو-9 ڈرون کو فضائیہ کے جدید دفاعی نظام نے ہرمزگان کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو ’روک کر تباہ‘ کر دیا گیا۔

    تاہم بیان میں واقعے کے وقت، مقام اور دیگر تفصیلات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

  15. یورپی یونین ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے یونانی ہم منصب جورجوس گیراپیٹریٹس کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

    بدھ کے روز تقریباً 30 ممالک، جن میں بعض یورپی ممالک اور کینیڈا بھی شامل تھے، نے ایران میں سزائے موت کے واقعات کی مذمت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس پر ایران کی وزارتِ خارجہ نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ نے گفتگو کے دوران یورپی یونین پر انسانی حقوق کے معاملے میں ’دوہرے معیار‘ اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے ’بے حسی‘ کا الزام لگایا۔

    یونانی ہم منصب سے گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے ایران کے خلاف امریکی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا اور ایران کی بندرگاہوں کے محاصرے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا۔

    رپورٹ کے مطابق، عراقچی نے تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ مذاکرات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس سے قبل عباس عراقچی اور آسٹریا کی وزیرِ خارجہ بیاتے مائنل رائزنگر نے بھی ٹیلی فونک گفتگو میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

  16. طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو جلد ایک اور جہاز سے تبدیل کر دیا جائے گا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہKent NISHIMURA / AFP via Getty Images

    امریکی صدر ٹرمپ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات فوجی اہلکاروں کی رہائش اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات کو مسترد کیا ہے، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ اس جہاز کو جلد ہی ایک دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز سے تبدیل کر دیا جائے گا۔

    ابراہم لنکن کو تقریباً نو ماہ قبل ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے میں تعینات کیا گیا تھا۔

    امریکی ذرائع ابلاغ، جن میں فوجی امور سے متعلق رپورٹ کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں، نے جہاز پر تعینات بعض اہلکاروں کے رشتہ داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ابراہم لنکن پر رہائشی حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح وہاں تعینات اہلکاروں کی جانب سے خودکشی کی متعدد کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ڈیموکریٹک سیاست دانوں نے اس صورتِ حال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    صحافیوں نے جب ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کے اہلِ خانہ موجودہ صورتِ حال پر تشویش رکھتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا: ’نہیں، وہ فکر مند نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ یہ جہاز غیر معمولی طور پر زیادہ عرصے سے سمندر میں تعینات ہے، اور کہا: ’نہیں، نہیں، نہیں؛ بالکل بھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔‘

    ٹرمپ نے ابراہم لنکن کی جگہ کسی دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی سے متعلق رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’یہ جہاز ابھی یا بہت جلد روانہ ہو رہا ہے اور اس کی جگہ ایک اور جہاز لے گا جو اس سے بہت ملتا جلتا ہے۔‘

    یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل برقرار ہے۔

    ابراہم لنکن نومبر 2025 میں جنوبی بحیرۂ چین کے لیے کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا، تاہم 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے آغاز سے قبل اس کا رخ مشرقِ وسطیٰ کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔

  17. بلوچستان: کچھی میں پل کو دھماکے سے نقصان، چاغی میں مشینری نذرِ آتش, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے اضلاع کچھی اور چاغی میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچانے کے علاوہ معدنیات نکالنے کے دو مقامات پر نصب مشینری کو نذرِ آتش کیا گیا ہے۔

    ضلع کچھی میں پل کو نقصان بولان کے علاقے میں کوئٹہ اور سبی کے درمیان شاہراہ پر کمبڑی کے مقام پر پہنچایا گیا۔

    ڈھاڈر میں تعینات پولیس اہلکار نصراللہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے پل کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، جس کے پھٹنے سے پل کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم متبادل پل موجود ہونے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت متاثر نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب ضلع چاغی میں معدنیات نکالنے کے دو مقامات، چاغی تھانے کی حدود میں زیارت بلانوش اور زر دکان، پر مشینری کو نذرِ آتش کیا گیا۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں واقع دونوں مقامات پر تقریباً 15 موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد پہنچے اور وہاں موجود مشینری کو آگ لگا دی۔

    اہلکار کے مطابق دالبندین کے صدر تھانے کی حدود میں برتاگزی لانڈھی کے علاقے میں بھی مشینری کو آگ لگائی گئی۔

    اہلکار کے مطابق دالبندین سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع اس علاقے میں پانچ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے کرش پلانٹ کی مشینری کو آگ لگا دی۔

    ان کے مطابق تینوں حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ مشینری کو پہنچنے والے مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

  18. برطانیہ کو ’اسلامی جمہوریہ‘ قرار دینے پر نیتن یاہو کے ترجمان کا دفاع

    Biritish

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسرائیلی وزیرِاعظم کے ترجمان نے بنیامن نتن یاہو کے برطانیہ کے بارے میں دیے گئے بیان اور اس ملک کو ’اسلامی جمہوریہ‘ قرار دینے کے بیان کا دفاع کیا ہے۔

    نتن یاہو نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے ایک پوڈکاسٹ میں ونسٹن چرچل کے پوتے سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انھیں ’اسرائیل کا دوست‘ قرار دیا اور کہا کہ آج کل برطانیہ میں ایسا رویّہ نظر نہیں آتا۔

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ اب ’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    برطانیہ اور اسرائیل، جو طویل عرصے سے اتحادی رہے ہیں، کے تعلقات غزہ جنگ کے بعد نمایاں طور پر کشیدہ ہو گئے ہیں۔

    برطانوی حکومت نے اب تک ان بیانات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

  19. تیل کی برآمدات ایران امریکہ جنگ کے آغاز کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں: عراقی وزیرِ تیل

    عراق تیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عراق کی وزارتِ تیل نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ مہینے اگست کے آغاز سے ملک کی یومیہ اوسط تیل برآمدات ایران امریکہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ماہ کے آغاز سے تیل کی برآمدات روزانہ 20 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہیں اور مجموعی طور پر تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا جا چکا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یومیہ برآمدات کی یہ سطح ’بحران کے آغاز کے بعد پہلی بار‘ ممکن ہوئی ہے۔

    جنگ سے پہلے عراق یومیہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا اور اوسطاً ماہانہ 10 کروڑ 50 لاکھ بیرل برآمد کرتا تھا، جس کا بڑا حصہ بصرہ کے تیل ٹرمینل اور آبنائے ہرمز کے راستے بھیجا جاتا تھا۔

    اوپیک کے بانی اراکین میں شامل عراق کو جنگ کے دوران اپنے بیشتر تیل کے میدانوں میں پیداوار روکنا پڑی، کیونکہ تیل کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھر چکے تھے۔

    آبنائے ہرمز میں آمدورفت میں رکاوٹ کے بعد عراق نے خام تیل کی برآمدات شام کے راستے آئل ٹینکروں اور ترکیہ جانے والی تیل پائپ لائن کے ذریعے شروع کر دیں۔

  20. غزہ امن منصوبے پر اختلافات حل کرنے کے لیے کشنر اور ملادینوف اسرائیل جائیں گے

    کشنر اور ملادینوف

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اور داماد جیرڈ کشنر، غزہ امن کونسل کے سربراہ نکولائے ملادینوف کے ہمراہ اگلے ہفتے اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

    اس دورے کا مقصد غزہ امن منصوبے سے متعلق اختلافات کو حل کرنا ہے، جسے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو نے مسترد کر دیا ہے۔

    جیرڈ کشنر اور نکولائے ملادینوف اسرائیل کے علاوہ مصر کا بھی دورہ کریں گے۔ مصر مذاکرات میں اہم ثالثوں میں سے ایک ہے۔

    یہ دورہ نتن یاہو نے عوامی طور پر غزہ امن کونسل کے 15 نکاتی منصوبے کی مخالفت کیے جانے کے بعد ہو رہا ہے۔

    اس منصوبے کے تحت حماس نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار غزہ پر حکمرانی کرنے والی ایک نئی فلسطینی کمیٹی کے حوالے کر دے گی۔

    امن کونسل کے ایک عہدیدار نے کہا کہ جیرڈ کشنر اور نکولائے ملادینوف امید رکھتے ہیں کہ اس دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے "تعمیری بات چیت" ہوگی۔

    غزہ امن منصوبے کے تازہ ترین حصے کے مطابق، جس سے حماس نے جولائی کے آخر میں اتفاق کیا تھا، اسرائیلی افواج کو مرحلہ وار غزہ کی پٹی کے بیشتر علاقوں سے نکلنا تھا۔ تاہم بعد میں نکولائے ملادینوف اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیل کو اپنی افواج نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    بنیامین نیتن یاہو نے بھی پہلے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج غزہ سے واپس نہیں جائیں گی، اور انھوں نے حماس کے غیر مسلح ہونے کے بارے میں شک کا اظہار کیا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم نے زور دیا کہ اس گروہ کو اپنے ہتھیار ایسے طریقے سے تباہ کرنے ہوں گے جس کی تصدیق کی جا سکے۔