امریکہ: سیئٹل میں فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک، چار زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹل میں فائرنگ کے ایک واقعے میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس نے کہا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دو متاثرین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جائے وقوع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک تیسرا متاثرہ شخص، جسے ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا تھا، بعد میں زخموں کی وجہ سے چل بسا۔
سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو جائے وقوع پر حراست میں لے لیا گیا جبکہ دوسرا پولیس اہلکاروں سے بچ کر فرار ہو گیا اور اس کی تلاش جاری ہے۔
اتوار کو مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر ایک منٹ پر اس وقت گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں جب ہزاروں خاندان ایک سالانہ فوڈ فیسٹیول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوس نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق زیرِ حراست مشتبہ شخص ایک ’نوجوان‘ ہے تاہم انھوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ وہ جان بچانے کے لیے بھاگے جبکہ بعض نے سیئٹل کی مشہور عمارت سپیس نیڈل کے اندر پناہ لی۔
اس واقعے میں دو سالہ بچے سمیت چار افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں ۔
سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے اس واقعے کو ناقابلِ یقین سانحہ اور تشدد کا ہولناک فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیئٹل اور امریکہ میں اسلحے کے تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یاد رہے کہ پولیس ایک دوسرے ایسے شخص کو بھی تلاش کر رہی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے اور تمام متاثرین کی حالت بہتر ہے۔
سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے فائرنگ کے اس واقعےکے حوالے سے کہا کہ ’اس شہر اور اس ملک میں اسلحے کے تشدد کی حد سے زیادہ وارداتیں ہیں۔‘
ان کے مطابق یہ تازہ فائرنگ ایسے ہفتے کے بعد ہوئی ہے جس میں سیئٹل میں صرف چند دنوں کے اندر اسلحے کے تشدد کے تین بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔







