’اگر ہم سب ایک گھر میں رہ سکتے ہیں تو ہندو اور مسلمان اکٹھے کیوں نہیں؟‘: تقسیم کی یادوں سے جنم لینے والی کہانی

تقسیم ہند

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشناصغر وجاہت کے اسی مشہور ڈرامے پر ہدایت کار راج کمار سنتوشی نے فلم 'بٹوارا 1947' بنائی، جسے عامر خان نے پروڈیوس کیا۔ فلم میں سنی دیول اور پریتی زنٹا مسلمان خاندان کے افراد کا کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ مائی کا کردار شبانہ اعظمی نے نبھایا
    • مصنف, وندنا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ہندی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

’امّاں، اگر ہم سب اور مائی ایک ہی گھر میں رہ سکتے ہیں تو ہندو اور مسلمان ہندوستان میں اکٹھے کیوں نہیں رہ سکتے تھے؟‘

یہ سوال 10، 11 سالہ تنّو اپنی ماں اور گھر والوں سے کرتی ہے۔ یہ ایک معصوم بچی کا سوال ہے، مگر اس کے اندر برصغیر کی تقسیم کا پورا المیہ سمٹ آیا ہے۔

یہ منظر معروف ادیب اور ڈرامہ نگار اصغر وجاہت کے شہرۂ آفاق ڈرامے ’جس لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں‘ کا ہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد لکھنؤ سے نقل مکانی کرکے آنے والا ایک مسلمان خاندان لاہور کی ایک حویلی میں رہائش اختیار کرتا ہے۔ حویلی کی مالک ایک معمر ہندو خاتون ہیں، جو محلے میں رہ جانے والی آخری ہندو ہیں۔

اگرچہ لاہور اب پاکستان کا حصہ بن چکا ہے اور ان کے بیشتر ہندو ہمسائے ہندوستان جا چکے ہیں، لیکن وہ اپنے محبوب شہر کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بوڑھی خاتون پورے محلے کی ’مائی‘ بن جاتی ہیں۔

اصغر وجاہت کے اسی مشہور ڈرامے پر ہدایت کار راج کمار سنتوشی نے فلم ’بٹوارا 1947‘ بنائی، جسے عامر خان نے پروڈیوس کیا۔ فلم میں سنی دیول اور پریتی زنٹا مسلمان خاندان کے افراد کا کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ مائی کا کردار شبانہ اعظمی نے نبھایا ہے۔

مائی صرف ایک کردار نہیں بلکہ تقسیم کے بعد رہ جانے والی اُن بے شمار کہانیوں کی علامت ہیں جو مذہب، سرحد اور سیاست سے بالاتر ہو کر انسانیت، اپنائیت اور مشترکہ تہذیب کی یاد دلاتی ہیں۔

مائی کا کردار

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنڈرامے میں دکھائی جانے والی مائی محض اصغر وجاہت کے تخیل کی پیداوار نہیں تھیں۔

کیا مائی کا کردار حقیقت پر مبنی تھا؟

ڈرامے میں دکھائی جانے والی مائی محض اصغر وجاہت کے تخیل کی پیداوار نہیں تھیں۔

اصغر وجاہت کے دوست اور اردو صحافی سنتوش کمار تقسیم کے بعد ایک موقع پر اپنے آبائی شہر لاہور واپس آئے تھے۔ اپنی یادداشتوں میں انھوں نے ایک ایسی معمر ہندو خاتون کا ذکر کیا جو ہجرت کرنے کے بجائے لاہور ہی میں رہ گئی تھیں۔

اصغر وجاہت کے مطابق اس خاتون کی شخصیت ان کے ذہن میں نقش ہو گئی۔ پھر 1980 کی دہائی کے آس پاس یہ تصور آہستہ آہستہ ایک مکمل ڈرامے کی صورت اختیار کر گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈرامے میں اس کردار کا کوئی ذاتی نام نہیں۔ محلے کے لوگ رفتہ رفتہ انھیں صرف ’مائی‘ کہنے لگتے ہیں، اور وہ سب کی مائی بن جاتی ہیں۔

پاکستان میں پابندی اور تنازع

تقسیم ہند

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنگیتانجلی کے مطابق تقسیم پر فلمیں بننا ضروری ہیں تاکہ نئی نسل بھی اس تاریخ سے واقف ہو سکے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سنہ 1990 کی دہائی میں معروف تھیٹر شخصیت حبیب تنویر نے ’جس لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں‘ کو انڈیا میں سٹیج کیا۔ تقریباً اسی عرصے میں پاکستان میں اس ڈرامے کی پیشکش پر پابندی لگا دی گئی۔

اصغر وجاہت نے ڈرامے کے دیباچے میں لکھا ہے کہ کراچی کے تھیٹر آرٹسٹ خالد احمد کو کراچی کے پولیس کمشنر نے اس ڈرامے کے سٹیج ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔

تاہم فنکاروں نے اس پابندی کے باوجود جرمن انفارمیشن سینٹر کراچی میں ڈرامہ پیش کیا، جس کے بعد خاصی بحث اور تنازع پیدا ہوا۔

بی بی سی سے گفتگو میں اصغر وجاہت نے بتایا تھا کہ کراچی کے پولیس کمشنر کے مطابق ڈرامہ پاکستان میں پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں ایک مولوی کا قتل دکھایا گیا ہے۔

اصغر وجاہت کے مطابق یہی مولوی کردار محلے میں رہ جانے والی ہندو خاتون کا احترام کرتا ہے اور ان کی وفات کے بعد یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ ان کی آخری رسومات ہندو مذہبی روایات کے مطابق ادا کی جانی چاہیں۔

اصغر وجاہت کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں متعلقہ افسر ڈرامے کے اصل پیغام کو سمجھنے میں ناکام رہے تھے۔

ان کے بقول، ’انھیں محسوس ہوا کہ ڈرامہ اسلام کی توہین کرتا ہے، جبکہ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ ایک انڈین مصنف کی تحریر ہے۔‘

1947

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنتقسیمِ ہند کو 79 برس گزر چکے ہیں، لیکن یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ کیا نئی نسل اس سانحے اور اس پر بننے والی فلموں میں دلچسپی رکھتی ہے؟

تقسیم کا زخم اور نئی نسل

تقسیمِ ہند کو 79 برس گزر چکے ہیں، لیکن یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ کیا نئی نسل اس سانحے اور اس پر بننے والی فلموں میں دلچسپی رکھتی ہے؟

پنجاب کے شہر راج پورہ سے تعلق رکھنے والی گیتانجلی نے حال ہی میں انجینیئرنگ کی تعلیم مکمل کی ہے۔ ان کے مطابق تقسیم کی کہانیاں ان کے خاندان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’میری نانی اُس وقت صرف نو سال کی تھیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ جب اُن کا خاندان پاکستان سے انڈیا ٹرین کے ذریعے آ رہا تھا تو وہ اپنے ساتھ کھولتا ہوا تیل بھی لے کر چلے تھے۔ تمام لڑکیوں کو اُس کے قریب بٹھایا گیا تھا تاکہ اگر راستے میں حملہ ہو جائے تو عورتوں کو زندہ دشمن کے ہاتھ لگنے کے بجائے اُس کھولتے ہوئے تیل میں دھکیل دیا جائے۔‘

گیتانجلی کے مطابق تقسیم پر فلمیں بننا ضروری ہیں تاکہ نئی نسل بھی اس تاریخ سے واقف ہو سکے۔

وہ کہتی ہیں، ’سکول میں جب لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ میرا گاؤں کون سا ہے تو ہمارے پاس انڈیا میں کسی گاؤں کا نام نہیں تھا۔ ہمارا آبائی گاؤں پاکستان میں تھا۔ اس بات پر ہمارا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ یہ ایسا صدمہ ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔‘

یو پی ایس سی کے امتحان کی تیاری کرنے والی خوشپریت کا کہنا ہے کہ تقسیم سے متاثرہ خاندانوں اور دیگر لوگوں کے نقطۂ نظر میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’میرے کئی دوست اور جاننے والے، جن کے خاندانوں نے تقسیم کا براہِ راست تجربہ نہیں کیا، کہتے ہیں کہ یہ بہت پرانی باتیں ہیں اور اب انھیں بھلا دینا چاہیے۔ لیکن جن خاندانوں نے یہ سب جھیلا ہے، اُن کے لیے یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ذاتی یادداشت ہے۔‘

خوشپریت کے مطابق تقسیم پر بننے والی فلمیں دیکھنا اُن کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

’ایسی فلمیں دیکھنا میرے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا بننا ضروری ہے کیونکہ یہ ہمیں اپنی تاریخ اور اپنے خاندانوں کے تجربات سے جوڑے رکھتی ہیں۔‘

ان کے خیال میں تقسیم کے دوران سب سے زیادہ نقصان عورتوں نے اٹھایا، لیکن اس پہلو پر طویل عرصے تک خاموشی چھائی رہی۔

وہ کہتی ہیں، ’جب میں نے بزرگوں سے بات کی تو کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ دونوں جانب عورتوں کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ پہلی بار مجھے امرتسر کے پارٹیشن میوزیم میں جا کر معلوم ہوا کہ کتنی خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بنیں، اغوا ہوئیں یا زبردستی شادیوں پر مجبور کی گئیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان عورتوں کی کہانیاں بھی فلموں اور ڈراموں کا حصہ بننی چاہیں۔‘

فلم ’میں واپس آؤں گا‘ کی شریک مصنفہ نیانیکا ممتانی کے لیے تقسیم صرف ایک تاریخی موضوع نہیں بلکہ خاندانی تجربہ بھی ہے

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنفلم 'میں واپس آؤں گا' کی شریک مصنفہ نیانیکا ممتانی کے لیے تقسیم صرف ایک تاریخی موضوع نہیں بلکہ خاندانی تجربہ بھی ہے

فلم ’میں واپس آؤں گا‘ کی شریک مصنفہ نیانیکا ممتانی کے لیے تقسیم صرف ایک تاریخی موضوع نہیں بلکہ خاندانی تجربہ بھی ہے۔

وہ بتاتی ہیں، ’میری نانی کی شادی ہو چکی تھی اور وہ دہلی منتقل ہو گئی تھیں۔ پھر تقسیم ہو گئی۔ سرگودھا میں ہمارا خاندان اپنا گھر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ اُن کے مسلمان پڑوسیوں نے ان کی حفاظت کی، جس کی وجہ سے خاندان پاکستان ہی میں رہ گیا۔‘

لیکن اس تحفظ کی قیمت ایک مستقل جدائی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔

نیانیکا کہتی ہیں، ’میری نانی اپنی زندگی میں دوبارہ کبھی اپنے خاندان سے نہ مل سکیں۔ تقسیم نے صرف سرحدیں ہی نہیں بنائیں، بلکہ خاندانوں کو بھی ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا۔‘

تقسیم ہند

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنتقسیم کے بعد انڈین حکومت نے وزارتِ امداد و بحالی قائم کی۔ اس وزارت نے بعض خواتین کو ایک مخصوص زمرے میں رکھا جنھیں 'بے آسرا عورتیں' کہا جاتا تھا

تقسیم کی ’بے آسرا عورتیں‘ اور مائی کا کردار

تقسیم کے بعد انڈین حکومت نے وزارتِ امداد و بحالی قائم کی۔ اس وزارت نے بعض خواتین کو ایک مخصوص زمرے میں رکھا جنھیں ’بے آسرا عورتیں‘ کہا جاتا تھا۔

اس زمرے میں مختلف حالات سے دوچار خواتین شامل تھیں۔ وہ عورتیں جو فسادات کے دوران اغوا کر لی گئی تھیں اور بعد میں ملنے پر ان کے خاندانوں نے انھیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ خواتین جنھوں نے تقسیم کے ہنگاموں کے بعد بچوں کو جنم دیا، مگر ان کے بچے ان سے جدا کر دیے گئے۔

ایسی عورتیں جن کا کوئی مرد سرپرست موجود نہیں تھا، جن میں بیوائیں، مطلقہ خواتین، غیر شادی شدہ عورتیں اور جنسی کارکن شامل تھیں۔

یہ عورتیں نئی قومی ریاستوں کی تشکیل کے دوران اکثر سرکاری پالیسیوں، سماجی تعصبات اور خاندانی فیصلوں کے درمیان کہیں کھو گئیں۔

1947

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنفلم میں مائی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ شبانہ اعظمی کا کہنا ہے کہ اس کردار نے انھیں جذباتی طور پر گہرے انداز میں متاثر کیا

ایک لحاظ سے فلم کی مائی بھی انھی بے شمار گمنام عورتوں کی نمائندہ محسوس ہوتی ہیں۔ ایک ایسی خاتون جو نئے وجود میں آنے والے پاکستان میں رہ جاتی ہیں، مگر اپنی شناخت کو نفرت کے بجائے محبت اور انسانیت سے جوڑتی ہیں۔

فلم میں مائی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ شبانہ اعظمی کا کہنا ہے کہ اس کردار نے انھیں جذباتی طور پر گہرے انداز میں متاثر کیا۔

وہ ایک منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’فلم میں ایک موقع پر ولن مجھے گھسیٹتا ہے اور میرا کرتا پھاڑ دیتا ہے۔ اس لمحے شاید میں نے اپنی زندگی میں کبھی خود کو اتنا کمزور اور اتنا غیر محفوظ محسوس نہیں کیا تھا جتنا اُس وقت کیا۔‘

شبانہ اعظمی کے مطابق یہ منظر صرف ایک کردار کی تذلیل نہیں بلکہ ان لاکھوں عورتوں کی بے بسی کی علامت ہے جو تقسیم کے دوران تشدد اور عدم تحفظ کا شکار ہوئیں۔

اگرچہ فلم ’بٹوارا 1947‘ میں سنی دیول کو نفرت اور تعصب کے خلاف کھڑے ہونے والے مرکزی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کہانی کی اصل روح درحقیقت ’مائی‘ کا کردار ہے، جو انسان دوستی، ہمدردی اور محبت کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر کی تقسیم کی تاریخ مائی جیسی حقیقی عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ایسی عورتیں جن کے خاندان تقسیم کے بعد سرحد پار کر گئے، مگر وہ خود کسی وجہ سے پیچھے رہ گئیں، بچھڑ گئیں یا ان سے ترک تعلق کر دیا گیا۔

فلم کے ایک اہم منظر میں جب مائی کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو سنی دیول کا کردار ان کے دفاع میں کہتا ہے: ’ماں کو ہندو مسلمان میں نہ بانٹیے۔ ماں اپنے آپ میں ایک مذہب ہے۔ ہر انسان کا پہلا مذہب ماں ہے۔‘

فلم بٹوارا 1947

،تصویر کا ذریعہAK

،تصویر کا کیپشنوقت گزرنے کے ساتھ تقسیمِ ہند کی بہت سی حقیقی کہانیاں لوگوں کی یادداشت سے دھندلا رہی ہیں، لیکن ادب، تھیٹر اور سنیما ان کرداروں کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بٹوارا 1947 جیسی فلمیں بھی اسی کوشش کا حصہ ہیں، جو تاریخ کے ان گمنام کرداروں کو نئی نسل کے سامنے لاتی ہیں۔

عصمت چغتائی کی ’امّاں‘ اور تقسیم کی زندہ یادیں

وقت گزرنے کے ساتھ تقسیمِ ہند کی بہت سی حقیقی کہانیاں لوگوں کی یادداشت سے دھندلا رہی ہیں، لیکن ادب، تھیٹر اور سنیما ان کرداروں کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بٹوارا 1947 جیسی فلمیں بھی اسی کوشش کا حصہ ہیں، جو تاریخ کے ان گمنام کرداروں کو نئی نسل کے سامنے لاتی ہیں۔

اس حوالے سے عصمت چغتائی کی مشہور کہانی ’جڑیں‘ یاد آتی ہے۔ اس کہانی کی ’امّاں‘ کئی اعتبار سے اصغر وجاہت کی ’مائی‘ سے ملتی جلتی ہیں۔ تقسیم کے بعد جب لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں، تب بھی امّاں اپنی حویلی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ وہ ایک تناور درخت کی ان گہری جڑوں کی طرح ہیں جو شدید طوفانوں کے باوجود اپنی زمین سے جڑی رہتی ہیں۔

اسی طرح راجندر سنگھ بیدی کی معروف کہانی ’لاجونتی‘ تقسیم کے ایک اور تلخ پہلو کو سامنے لاتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار سندر لال اُن عورتوں کی بحالی کی مہم چلاتا ہے جو فسادات کے دوران اغوا ہو گئی تھیں اور بعد میں واپس لائی گئیں۔

وہ لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ ایسی خواتین کو عزت اور محبت کے ساتھ قبول کیا جائے۔ لیکن جب اُس کی اپنی اغوا شدہ بیوی لاجونتی اچانک واپس آ جاتی ہے تو سندر لال کا رویہ بدل جاتا ہے۔ جو شخص پہلے بیوی پر ہاتھ اٹھاتا تھا، اب اُسے دیوی کے درجے پر بٹھا دیتا ہے، مگر دل سے کبھی قبول نہیں کر پاتا۔

بے سہارا خواتین

،تصویر کا ذریعہAK

ڈرامے اور فلم میں اسکندر مرزا کا کردار

اصغر وجاہت کے ڈرامے ’جس لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں‘ اور اس پر بننے والی فلم بٹوارا 1947 میں ایک نمایاں فرق اسکندر مرزا کے کردار کا بھی ہے۔

فلم میں سنی دیول کا کردار مضبوط، دلیر اور ہر طرح کے خوف سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے۔ ایک منظر میں اُن کا بیٹا غنڈوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے، تو میرے باپ کو نہیں جانتا۔ وہ نہ گھر دیکھیں گے نہ سرحد، سیدھا گھس کر ماریں گے۔‘

مگر اصل ڈرامے کا اسکندر مرزا اتنا بے خوف نہیں۔ ابتدا میں وہ حالات کے دباؤ اور سماجی تعصبات کے باعث یہاں تک سوچنے لگتا ہے کہ مائی کو راستے سے ہٹا دیا جائے، اور اس حوالے سے غنڈوں سے بات بھی کرتا ہے۔

تاہم کہانی آگے بڑھتی ہے تو نفرت، خوف اور بداعتمادی کے ماحول میں ایک عجیب سا رشتہ جنم لیتا ہے۔ لکھنؤ سے آیا یہ مسلمان خاندان آہستہ آہستہ اُس بوڑھی ہندو عورت سے محبت اور وابستگی محسوس کرنے لگتا ہے جو دراصل اُن کے لیے ایک اجنبی ہے۔

وہی خاتون جو تقسیم کے بعد سرکاری اصطلاح میں شاید ایک ’بے آسرا عورت‘ شمار کی جاتی۔

کہانی میں مذہب کے نام پر مائی کو قتل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اُن کا اپنا شہر اُنھیں تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے خاندان سے محروم ہو چکی ہیں، مگر اس کے باوجود لاہور چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتیں۔

ان کے لیے لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ شناخت، یادداشت اور محبت کا نام ہے۔ اسی لیے وہ ہر حال میں یہ یقین قائم رکھتی ہیں کہ ’جس لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں۔‘