عمر عبدالقادر: صومالیہ کے پہلے ورلڈ کپ ریفری جنھیں امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, پوریا جافرے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

عمر آرتن، جو ورلڈ کپ فائنلز میں ریفری کے فرائض انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بننے والے تھے، کو ٹورنامنٹ کے آفیشلز کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ انھیں امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

عمر آرتن کو 2025 میں افریقی فٹبال کنفیڈریشن (سی اے ایف) کی جانب سے سال کا بہترین مرد ریفری قرار دیا گیا تھا۔ انھیں میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے بعد وہ اس وقت ترکی میں موجود ہیں۔

امریکی امیگریشن حکام نے انھیں ملک میں داخل نہ ہونے دینے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم صومالیہ ان ممالک میں شامل ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی حکام سے رابطے کے بعد عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے تصدیق کی کہ عمر آرتن 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ میں نہ تربیت دے سکیں گے اور نہ ہی ریفری کے فرائض انجام دے سکیں گے۔

فیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ عمر عبدالقادر آرتن کو امریکہ میں داخلے سے محروم کیے جانے کے باعث وہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فیفا میزبان ملک کے امیگریشن اور ویزا سے متعلق فیصلوں میں شامل نہیں ہوتا، اور حکام نے آگاہ کیا ہے کہ فی الحال عمر آرتن کی امیگریشن حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی۔

فیفا کے مطابق، ماضی کے ٹورنامنٹس کی طرح اس بار بھی میزبان حکومت ہی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس شخص کو ویزا دیا جائے اور کسے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

ایران فٹبال ٹیم

،تصویر کا ذریعہOrhan Cicek/Anadolu via Getty Images

ادھر جنگ کے سائے میں ایرانی ٹیم کو بھی امریکہ سفر کے لیے ویزا کے حصول میں متعدد مسائل کا سامنا رہا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب گذشتہ سال 25 مارچ کو ایران نے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو شاید کسی کو بھی ان مسائل کا اندازہ نہیں تھا جو سامنے آنے والے تھے۔ تقریبا ایک سال بعد اس عالمی ٹورنامنٹ میں ایران کی شرکت سب سے پیچیدہ کہانی بن چکی ہے کیوں کہ ایران ایک ایسے میزبان ملک میں کھیل رہا ہے جس نے اسرائیل سے مل کر ایران پر حملے کیے جن میں ملک کے رہبر اعلیٰ بھی ہلاک ہوئے اور یہ تنازع اب تک جاری ہے۔

ایران کی ٹیم اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ابتدائی ٹیموں میں شامل تھی لیکن اس کے اراکین کو امریکہ کا ویزا گزشتہ جمعے کے دن ملا ہے۔ ایرانی دستے کے کئی اراکین، جن میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج شامل ہیں، کو ویزا نہیں دیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کھلاڑیوں اور ضروری عملے کو ویزا جاری کیا جا چکا ہے تاہم یہ بھی کہا گیا کہ ’ایرانی ٹیم کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ امریکی نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ میں جھوٹے بہانوں سے دہشت گرد داخل کرے۔‘

میکسیکو میں ایرانی سفیر ابولفضل کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ ویزا شرائط کے تحت کھلاڑی امریکی سرزمین پر میچ کے دن ہی داخل ہو سکیں گے اور انھیں اسی دن ملک سے نکلنا ہو گا۔

ایران کی ٹیم ایسے میں مکسیکو میں ہی مقیم ہے جبکہ پہلے طے شدہ شیڈول کے مطابق اسے امریکی ریاست ایریزونا میں قیام کرنا تھا۔ لیکن ایرانی ٹیم گروپ مرحلے میں تینوں میچ امریکہ میں کھیلے گی جن میں نیوزی لینڈ اور بیلجیئم کے خلاف لاس اینجیلیس جبکہ مصر کے خلاف سیئیٹل میں میچ طے ہیں۔

ایرانی جہاز فٹبال ٹیم کو لیکر میکسیکو پہنچا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیکسیکو میں ایرانی سفیر ابولفضل کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ ویزا شرائط کے تحت کھلاڑی امریکی سرزمین پر میچ کے دن ہی داخل ہو سکیں گے اور انھیں اسی دن ملک سے نکلنا ہو گا

40 سال کا تناؤ

ایران اور امریکہ کے تعلقات چار دہائی قبل انقلاب ایران کے وقت خراب ہوئے تھے جب تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرنے والے مظاہرین نے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ دونوں ملکوں کے بیچ باضابطہ سفارتی تعلقات ختم ہو گئے تھے۔

ایسے میں فٹبال کا میدان دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست تعلق کی وجہ بنا جس میں سب سے مشہور مقابلہ 1998 کے ورلڈ کپ میں فرانس میں ہوا جب ایران نے امریکہ کو دو ایک سے شکست دی۔ اس میچ کی سیاسی اہمیت کی وجہ سے پوری دنیا کی توجہ حاصل رہی اور ورلڈ کپ کی تاریخ کا یادگار مقابلہ بن گیا تھا۔

میچ شروع ہونے سے پہلے ایرانی کھلاڑیوں نے امریکی ٹیم کے اراکین کو امن کی نشانی کے طور پر سفید گلاب کے پھول پیش کیے تھے۔ 2022 میں دونوں ٹیموں کا ایک بار پھر قطر میں آمنا سامنا ہوا تو امریکہ نے ایک صفر سے ایران کو شکست دی۔

حالیہ ٹورنامنٹ میں بھی یہ امکان موجود ہے کہ ایران اور امریکہ کا میچ ہو سکتا ہے۔ ورلڈ کپ کے موجودہ فارمیٹ کے تحت ناک آؤٹ مرحلے میں دونوں ٹیمیں مدمقابل ہو سکتی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ جنگ کے تناظر میں اس میچ کی اہمیت کافی زیادہ ہو گی۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن1998 کے ورلڈ کپ میں میچ شروع ہونے سے پہلے ایرانی کھلاڑیوں نے امریکی ٹیم کے اراکین کو امن کی نشانی کے طور پر سفید گلاب کے پھول پیش کیے تھے

فٹبال: وہ کھیل جو کبھی ایران کو متحد رکھتا تھا

ایران کی قومی فٹبال ٹیم اور ایرانی عوام کے درمیان تعلق اس بار ماضی کے مقابلے میں پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔

روایتی طور پر ایران کی فٹبال ٹیم ایک ایسا ادارہ رہا ہے جو سیاسی اور معاشرتی تقسیم کے باوجود سب حلقوں کی جانب سے حمایت حاصل کرتا رہا۔ دو ہزار چودہ اور دو ہزار اٹھارہ کے عالمی ٹورنامنٹ کے دوران ٹیم کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت ملی تھی۔

تاہم دو ہزار بائیس میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل جب ملک میں مظاہرے شروع ہوئے جب ایک خاتون کی پولیس حراست میں ہلاکت ہوئی تو معاملات بدل گئے تھے اور ایرانی فٹبال ٹیم نے خود کو ایک سیاسی بحث کا مرکز پایا۔

کچھ ایرانی توقع کر رہے تھے کہ ٹیم کے کھلاڑی بھی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کریں گے جبکہ چند کا اصرار تھا کہ کھلاڑیوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ دو ہزار چھبیس کا ورلڈ کپ بھی حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون کے چھ ماہ بعد ہو رہا ہے جس کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چند شائقین ٹیم کو سیاسی اختلافات کے باوجود قومی فخر کی علامت سمجھتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ایسا حلقہ بھی ہے جو اب پہلے سے زیادہ تنقید کر رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ کھلاڑی اور ٹیم ریاستی اداروں سے اتنا قریب ہیں کہ انھیں سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ٹیم کی حمایت کم ہوئی ہے۔ فٹبال ایران میں سب سے مقبول کھیل ہے اور لاکھوں لوگ امریکہ میں ٹیم کی مصروفیات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایران کی فٹبال ٹیم ترکی میں پریکٹس کرتی رہی تھی

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Dilara Senkaya

،تصویر کا کیپشنایران کی فٹبال ٹیم ترکی میں پریکٹس کرتی رہی تھی

ایرانی ٹیم کی کوشش ہو گی کہ اس بار وہ کچھ ایسا کر پائیں جو وہ پہلے کبھی نہیں کر سکے۔ سات بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے باوجود ایران گرVپ مرحلے سے آگے نہیں جا سکا ہے۔

لیکن اس بار 48 ٹیموں کے ہوتے ہوئے زیادہ مواقع ہیں اور ایران اس بار ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کو ممکن سمجھ رہا ہو گا۔

فٹبال ورلڈ کپ اکثر اپنے زمانے کی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سفارتی تنہائی، عسکری تنازع، ویزا کی غیر یقینی اور اپنے ہی ملک میں سیاسی تقسیم کی وجہ سے بٹی ہوئی حمایت کے بیچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے لیے اتنے مسائل شاید ہی کسی اور ٹیم کو ماضی میں پیش آئے ہوں۔