وکٹورین دور کا سیکس گروپ جس میں ایک بار شامل ہو گئے تو واپسی ممکن نہ تھی

The chapel still stands in Spaxton today and is rented to dozens of tourists each year

،تصویر کا ذریعہStuart Flinders

،تصویر کا کیپشن’اگاپیمونائٹس‘ نامی گروہ ایک چرچ میں قائم کیا گیا تھا
    • مصنف, چارلی ٹیلر، جوناتھن ہولمز
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

وکٹورین دور میں بننے والا ’اگاپیمونائٹس‘ نامی گروہ ’سپاکسٹن‘ میں واقع ایک گرجا گھر (چیپل) میں قائم تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جسے اب ایک ’ایئر بی این بی‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس گروہ میں شامل ہونے والوں سے کہا جاتا تھا کہ وہ کبھی اسے چھوڑ نہیں سکتے، اور اسی صورتحال نے اس گروہ سے منسلک ہونے والے بہت سے افراد کو بالآخر اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے پر مجبور کیا۔

وکٹورین دور کے اس گروہ (کلٹ) کے ارکان کے ساتھ کیا ہوا، اس بارے میں آج بھی بین الاقوامی سطح پر دلچسپی پائی جاتی ہے۔

’اگاپیمونائٹس‘ نامی اس گروہ کے رہنما ہنری جیمز روح القدس (ہولی سپرٹ) ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی جمع پونجی اور دولت اُن کے حوالے کر دیں اور پیروکاروں کو ایسی جنسی نوعیت کی رسومات میں شرکت پر آمادہ کیا جو ناول ’دی ہینڈ میڈز ٹیل‘ کے مناظر سے مشابہ تھیں۔

اِن رسومات کے دوران ہنری جیمز کی اہلیہ انھیں (اپنے شوہر) کو دوسری خواتین کو حاملہ کرتے ہوئے دیکھتی تھیں۔

بی بی سی کے سابق صحافی اور کتاب ’اے ویری برٹش کلٹ‘ کے مصنف سٹورٹ فلنڈرز کا کہنا ہے کہ ’ان دیواروں (جس چرچ میں یہ گروہ قائم تھا) کے پیچھے جو کچھ ہوتا تھا، اُس کے بارے میں ناصرف مقامی افراد کو تجسس تھا بلکہ یہ بین الاقوامی دلچسپی کا بھی موضوع بن گیا تھا۔‘

اس گروہ کے سربراہ ہینری جیمز پرنس ’سپاکسٹن‘ کے قریب ہی واقع ایک گاؤں میں بطور پادری تعینات ہوئے تھے اور یہ اُن کی پہلی باقاعدہ ملازمت تھی۔

فلنڈرز بتاتے ہیں کہ ہنری جیمز بطور پادری اس گاؤں میں زیادہ مقبول نہیں ہوئے ’کیونکہ وہ عبادت گزاروں سے کہا کرتے تھے کہ وہ نجات حاصل کرنے میں اُن کی مدد نہیں کر سکتے ہیں اور یہ کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔‘

آگے چل کر ’وہ (ہنری جیمز) اس بات پر یقین کرنے لگے تھے کہ وہ روح القدس کا جسمانی مظہر ہیں، دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو وہ خدا ہیں۔‘

’وہ روح القدس سے اس نوعیت کی گفتگو کرتے تھے: ’کیا آج بارش ہو گی؟ کیا مجھے چھتری ساتھ لے جانی چاہیے؟‘

مختلف علاقوں میں تبادلے اور چرچ آف انگلینڈ سے نکالے جانے کے بعد، انھوں نے سپاکسٹن میں ہی زمین خریدی اور اپنے پیروکاروں کے لیے ایک بڑا چیپل اور رہائش گاہ تعمیر کی۔

اس فرقے کی رکنیت کے قواعد کافی سخت تھے اور اس میں شامل ہونے والے لوگوں کو گروہ چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس صورتحال کے باعث اس گروہ کے کئی ارکان نے اپنی جان لے لی اور اس زمانے میں ہونے والی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنری جیمز پرنس اپنے پیروکاروں پر کس حد تک کنٹرول رکھتے تھے۔

فلنڈرز کہتے ہیں کہ ان کے پیروکاروں میں ناٹیج سسٹرز کے نام سے مشہور تین بہنیں بھی تھیں۔ اُن میں سے ہر ایک بہن کو وراثت میں چھ ہزار پاؤنڈ ملے تھے جو آج کی مالیت کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ پاؤنڈ بنتے ہیں۔

'ہنری جیمز نے انھیں بتایا کہ خدا کی مرضی ہے کہ وہ اُن کے ایک پیروکار سے شادی کریں، اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘

’چونکہ یہ 19ویں صدی کا دور تھا، اس لیے خواتین کو وراثت میں ملنے والی اپنی رقم اپنے نئے شوہروں کے حوالے کرنا پڑی، جنھوں نے وہ رقم براہِ راست اگاپیمونائٹس کے خزانے میں جمع کروا دی۔‘

فلنڈرز کے مطابق، ہنری جیمز پرنس نے اپنے پیروکاروں کے سامنے کی جانے والی جنسی رسومات کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ روح القدس کی جسمانی صورت ہیں اور یہ ایک مذہبی رسم کا حصہ ہے جس میں روح القدس انسانی روپ اختیار کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے متعلق جو بات یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک ایسی تقریب منعقد کی جاتی تھی جس میں ہنری پرنس کی اہلیہ سمیت سب لوگ شرکت کرتے تھے۔

John Hugh Smyth-Piggott claimed he was Jesus during his sermons

،تصویر کا ذریعہPublic domain

،تصویر کا کیپشن1899 میں پرنس کی موت کے بعد سمرسٹ سے تعلق رکھنے والے جان ہیو سمتھ پگاٹ نے اُن کی جگہ لے لی

سنہ 1899 میں ہنری جیمز پرنس کی وفات کے بعد سمرسٹ سے تعلق رکھنے والے جان ہیو سمتھ پگاٹ نے اُن کی جگہ لے لی۔

فلنڈرز کا کہنا ہے کہ ’سنہ 1902 میں لندن کے ایک چرچ میں مذہبی اجتماع کے دوران انھوں نے اعلان کیا کہ وہ دوبارہ آنے والے یسوع مسیح ہیں۔‘

’لوگوں نے ان کے اس دعوے کو گستاخی سمجھا اور مشتعل ہو گئے اور چرچ کے اطراف کی سڑکوں پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ جس کے بعد انھیں واپس سمرسٹ جانا پڑا۔'

سنہ 1927 میں پگاٹ کی موت کے بعد یہ افواہ پھیلی کہ ان کے پیروکاروں نے انھیں کھڑی حالت میں دفن کیا ہے تاکہ وہ آسمان پر اٹھائے جانے کے لیے تیار رہیں۔

ان کی موت کے بعد یہ فرقہ بتدریج کمزور پڑتا گیا اور بعدازاں وہ جگہ جہاں یہ فرقہ قائم تھا وہ بزرگ افراد کی نگہداشت اور دیکھ بھال کا مرکز بن گیا۔

سنہ 1960 کی دہائی میں اس جگہ کو فروخت کر دیا گیا اور پھر اس جگہ کو ٹی وی سٹوڈیو میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں ’کیمبروِک گرین‘ اور ’ٹرمپٹن‘ جیسے مشہور پروگراموں کی عکس بندی کی گئی۔

اب اسے چھٹیاں گزارنے کے لیے ایئر بی این بی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔