سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات ملتوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ جمعے کو امریکہ اور ایران کے درمیان برگن سٹاخ میں ہونے والی بات چیت کا عمل اب ملتوی کر دیا گیا ہے۔
برگن سٹاخ میں ہی ابتدائی طور پر پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کی یادداشت پر بھی باضابطہ دستخط کی تقریب بھی منعقد ہونا تھی لیکن وہ بھی دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے دستاویز پر الیکٹرانک دستخطوں کے بعد منسوخ کر دی گئی تھی۔
تاہم یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ جمعے کو امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے تکنیکی بات چیت ہو سکتی ہے۔
تاہم جمعے کی سوئٹزرلینڈ کے وفاقی محکمہ برائے اُمور خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے شیڈولڈ مذاکرات ملتوی ہو گئے ہیں تاہم سوئس حکام مذاکراتی عمل کے لیے تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
بیان کے مطابق بات چیت کے لیے برگن شٹاخ میں تیاریاں کی گئی ہیں تاہم فی الحال اس سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے جمعے کو سوئٹزرلینڈ نہیں جائیں گے تاہم اُن کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان مزید تفصیلات ملنے پر ہی کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جمعرات کی شام صحافیوں کو بتایا کہ جیسا کہ ’نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ تکنیکی مذاکرات کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی اور امریکی وفد کو جلد از جلد روانہ ہونے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاہم ان مذاکرات کے آپریشنل اور لاجسٹک معاملات کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔ لہذا انھی وجوہات کی بنا پر نائب صدر جمعے کو سوئٹزر لینڈ نہیں جا سکیں گے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کے روز ہی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے تیار ہیں لیکن ابھی تک صحیح تفصیلات معلوم نہیں اور یہ دورہ ہفتے یا اتوار کو ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ اور ایران کے صدور کی جانب سے جمعرات کی علی الصبح (پاکستانی وقت کے مطابق) مفاہمت کی یادداشت پر دستحظ کے بعد سب سے اہم یہ پوچھا جا رہا تھا کہ آج (جمعہ) سوئٹزر لینڈ میں کیا ہونے جا رہا ہے۔
یہ سوال پاکستان سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے وہ صحافی بھی کرتے نظر آ رہے ہیں جو سوئٹزر لینڈ میں ’مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی باقاعدہ تقریب‘ کی اُمید لیے یہاں پہنچے ہیں۔
بی بی سی اُردو کے نمائندے عمر دراز ننگیانہ اور خالد کرامت بھی برگن شٹاخ (سوئٹزر لینڈ) میں موجود ہیں۔
برگن شٹاخ میں موجود ایک پاکستانی سفارتی ذریعے نے بی بی سی کی ٹیم کو بتایا کہ انھیں پاکستانی اعلیٰ حکام کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ 19 جون کو کوئی باقاعدہ تقریب منعقد نہیں ہو رہی۔ سفارتی ذریعے کے مطابق پاکستانی سفارتی عملہ اب ’واپسی کی تیاری‘ کر رہا ہے۔
پاکستان کے ایک اور اعلیٰ سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انڈر سٹینڈنگ تھی کہ اس تقریب کا انعقاد ہو گا اور امریکہ، ایران اور پاکستان (بطور ثالث) کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط یہیں برگن شٹاخ میں ہوں گے، اور اسی لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور انتظامات کیے گئے تھے۔
انھوں نے کہا مگر اس کے برعکس صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان نے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ یادداشت پاکستان کو بھی بھجوائی گئی جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث دستخط کر دیے۔
سفارتی ذریعے کے مطابق پلان یہی تھا کہ دستخط کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ یہیں برگن شٹاخ میں ہو گا، مگر اب یہ واضح نہیں کہ اس ابتدائی مرحلے کا آغاز 19 جون (جمعہ) کو ہو پائے گا یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اُردو کی سوئٹزرلینڈ میں موجود ٹیم کے مطابق پاکستان کی طرح دنیا بھر سے میڈیا یہاں پہنچا اور اُن میں سے بیشتر صحافیوں کو یہاں پہنچ کر ہی اطلاع ملی کہ شاید اب یہ تقریب منعقد نہیں ہو رہی۔
انھوں نے بتایا کہ سوئس حکام نے اس تقریب کے لیے انتظامات کر رکھے تھے اور میڈیا کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے منسلک صحافیوں کی ٹیم بھی اس تقریب کی کوریج کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچی تھی تاہم پی ٹی وی کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی اُردو کو تصدیق کی کہ اس ٹیم کو اب واپس بُلا لیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس تقریب سے متعلق سرکاری ٹی وی کا مکمل کوریج پلان تھا جسے اب منسوخ کر دیا گیا۔ اُن کے مطابق پی ٹی وی سے منسلک صحافی جمعہ کی فلائٹ سے واپس آ رہے ہیں۔
باضابطہ دستخط کی تقریب کی منسوخی

،تصویر کا ذریعہWHITE HOUSE/REUTERS
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 15 مئی کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی باقاعدہ تقریب سوئٹزر لینڈ میں ہو گی اور پاکستان اس تقریب کا میزبان ہو گا۔
اس سے اگلے روز صدر ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا تھا کہ معاہدے پر دستخط کرنے کی سوئٹزر لینڈ میں ہونے والی باقاعدہ تقریب میں امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس شریک ہوں گے جبکہ ایران کی جانب سے اطلاع آئی تھی کہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
ان ہی اطلاعات کے بعد پاکستان اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں نے سوئٹزر لینڈ کا رُخ کرنا شروع کر دیا تھا۔
تاہم پاکستانی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لگ بھگ تین بجے وائٹ ہاؤس کی جانب سے اطلاع سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ دستخط فرانس میں ورسائی محل میں کیے اور اس موقع پر فرانسیسی صدر بھی موجود تھے۔ دستخط کرنے کے موقع پر بنائی گئی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ بعدازاں ایران کی جانب سے بھی آگاہ کیا گیا کہ صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ خبر سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں فریقین کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی اطلاع دی کہ ’پاکستان، معاون ثالث ریاست قطر کی معاونت سے، اس اہم سنگِ میل کی یاد میں 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا اور اس کے ساتھ ہی تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔'
تاہم کچھ ہی دیر بعد اُن کے اکاؤنٹ سے کی گئی یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی گئی اور اپڈیٹیڈ پوسٹ سے 19 جون کی تقریب کا حوالہ نکال دیا گیا۔
شہباز شریف کو اس تقریب میں شرکت کے لیے جمعرات کو سوئٹزر لینڈ روانہ ہونا تھا مگر بعدازاں یہ دورہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بی بی سی اُردو کے روحان احمد سے بات کرتے ہوئے یہ دورہ ملتوی ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے اور اور شہباز شریف کی بطور ثالث توثیق کے بعد یہ تقریب منسوخ کر دی گئی۔
دوسری جانب جمعرات ہی کی شب اپنے ایک پیغام میں ایران کی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی حکام کو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی تاہم کہا کہ ’آئندہ ہونے والے براہِ راست مذاکرات کا مقصد دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا نہیں ہو گا۔‘

























