گوجرانوالہ میں ٹک ٹاکر بہن کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ کو ’والد نے معاف کر دیا‘

Indian woman in handcuffs

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی ایک سیشنز عدالت نے کم عمر لڑکی کے قتل کے الزام میں گرفتار بڑی بہن کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

پندرہ سالہ زوبیہ اور ان کی بڑی بہن کے درمیان 30 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے ویوز پر ایک جھگڑا ہوا تھا اور اہلخانہ کے مطابق بڑی بہن نے مبینہ طور پر اپنی بہن پر تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا تھا۔ زوبیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تھیں۔

ملزمہ آٹھ روز سے جیل میں قید تھیں۔ تاہم پیر کو عدالت میں ملزمہ کے والدین پیش ہوئے اور والد نے جج کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو معاف کرتے ہیں اور مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتے، جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کی درخواست ضمانت پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی اور انھیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

واقعہ کیسے پیش آیا اور ایف آئی آر میں کیا لکھا ہے؟

30 اگست کو گوجرانوالہ میں دو بہنوں کے درمیان مبینہ طور پر ٹِک ٹاک کے ویوز سے شروع ہونے والے ایک معمولی جھگڑے کا اختتام ایک بہن کے قتل پر ہوا تھا۔

لدھے والا وڑائچ پولیس نے لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے 15 سالہ زوبیہ مناہل کے قتل کے الزام میں 18 سالہ بڑی بہن کو گرفتار کر لیا تھا۔

لدھے والا وڑائچ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او محمد افضل نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ملزمہ سے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا ہے۔

تھانہ لدھے والا وڑائچ میں درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں عبدالشکور خان مدعی ہیں، جو ملزمہ اور مقتولہ دونوں کے والد ہیں۔

مدعی کے مطابق وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈرائیور ہیں اور ان کی چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ان کے گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور سب اہل خانہ صحن میں بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اچانک چھت سے شور کی آواز آئی۔ جب اہلخانہ چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ دونوں بہنیں ’آپس میں پیسوں کے لین دین پر جھگڑا کر رہی تھیں۔‘

’اس دوران بڑی بیٹی نے باورچی خانے میں پڑی ہوئی چھری اٹھائی اور زوبیہ کو ماری جو اسے کمر پر لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہوکر گر پڑی اور خون بہنے لگا۔‘

TikTok

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ہم سب اہل خانہ نے زوبیہ کو ابتدائی طبی مدد دینے کی کافی کوشش کی لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے زوبیہ مناہل فوت ہو گئی۔‘

مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی بڑی بیٹی نے اپنی چھوٹی بہن زوبیہ مناہل کو ناحق قتل کرکے سخت زیادتی کی ہے۔

قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس کی جانب سے مرتب کی گئی ابتدائی رپورٹ اس واقعے کے محرکات پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ رپورٹ ایس ایچ او محمد افضل نے پولیس کے اعلی افسران کو بھجوائی ہے۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ دونوں بہنیں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنایا کرتی تھیں اور ان دونوں کے درمیان جان لیوا جھگڑے کی بنیاد بھی یہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا۔

رپورٹ کے مطابق ’اس جھگڑے کے دوران ملزمہ نے اپنی ہمشیرہ زوبیہ مناہل عرف عیشہ کو تیز دھار آلے سے کمر پر وار کرکے اسے قتل کر دیا۔‘

ایس ایچ او محمد افضل نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے زیرحراست ملزمہ کا ابتدائی بیان قلمبند کیا ہے، جس کے مطابق ’مقتولہ کے فالورز زیادہ تھے جبکہ ملزمہ کے فالورز کم تھے۔ ملزمہ کا الزام تھا کہ تم میرے فالورز چوری کرتی ہو، جس وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہوا اور بات بڑھ گئی۔‘

تاہم ملزمہ کے رشتے دار غلام رسول کہتے ہیں کہ دونوں بہنوں نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز اس لیے بنانا شروع کی تھیں تاکہ وہ معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔

’دونوں بچیاں انتہائی تابعدار اور والدین کی فرمانبردار تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں، اسی لیے اکثر فوڈ وی لاگنگ کرتیں اور مختلف سوشل میڈیا اکائونٹس پر مصروف رہتیں۔‘

غلام رسول نے مزید بتایا کہ ’یہ خاندان کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ ایک بیٹی وفات پا چکی ہے اور دوسری پولیس کی حراست میں ہے۔ والدین پر جیسے پر قیامت ٹوٹ گئی ہے، کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔‘

مقدمے کے مدعی عبدالشکور کہتے ہیں کہ وہ اپنی بڑی بیٹی کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے اپنی بڑی بیٹی کو خود پولیس کی تحویل میں دیا ہے اور اب وہ ملزمہ کی طرف سے ’کیس کی پیروی نہیں کریں گے۔‘

’جس نے میرے ہنستے بستے گھر کو برباد کردیا میرا اب اس کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں رہا۔‘

کیا والد کے معاف کر دینے کے بعد ریاست مقدمے میں مدعی بن سکتی ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فوجداری قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ والد نے اپنی بیٹی کو معاف کرنے کا اپنا قانونی حق استعمال کیا ہے لیکن اگر ریاست یا پولیس چاہے تو اب اس مقدمے میں مدعی بن سکتی ہے۔

سعود سلطان خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل عمد کا جرم ضابطہ فوجداری کی شقوں کے مطابق قابلِ راضی نامہ ہے، بشرطیکہ یہ راضی نامہ مقتول کے تمام قانونی ورثا کی رضامندی سے ہو۔

’پاکستانی قوانین (تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور اسلامی قوانین برائے دیت و قصاص) کے تحت قتلِ عمد کے مقدمات میں مقتول کے قانونی ورثا کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ملزم کو معاف کردیں یا اس کے ساتھ صلح کرلیں۔‘

انھوںے نے مزید بتایا کہ چونکہ اس مقدمے میں مدعیِ مقدمہ خود مقتولہ کا والد اور قانونی وارث ہے، اس لیے قانون کے مطابق اس کی رضامندی اور بیان حلفی کی بنیاد پر عدالت کے لیے ضمانت کی درخواست منظور کرنے کی قانونی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

تاہم قانون کی رُو سے صلح اور معافی کے بعد بھی عدالت مقدمے کے باقی ماندہ قانونی مراحل اور ضابطے کی کارروائی کو آگے بڑھاتی ہے۔

تاہم سینیئر قانون دان سید خالد جاوید ایڈووکیٹ اس بارے میں الگ مؤقف پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو فوری نظرثانی کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو دائر کردینی چاہیے، کیونکہ اگر اس طرح قتل کے آٹھویں روز قاتل جیل سے باہر آنے لگے تو ملک میں انارکی پھیل سکتی ہے۔

’مدعی مقدمہ نے اس کیس میں صلح کرلی ہے، لیکن ریاست نے تو صلح نہیں کی۔ اس باپ سے پوچھا جانا چاہیے کہ جو قتل ہوئی کیا وہ آپ کی بیٹی نہیں تھی؟ اور اگر اسے کوئی دوسرا شخص قتل کرتا تو کیا تب بھی آپ صلح کرلیتے۔‘

Policeman

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹک ٹاک کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان

پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا پر تحقیق کرنے والے ارحم شفیع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’نئی نسل ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب سے پیسے کمانے کا ہنر جان گئی ہے اور یہ ان کے لیے کمائی کا آسان ذریعہ بن گیا ہے، جس وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ فالورز بنانے اور ویوز لینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ڈیجیٹل میڈیا ایکسپرٹ کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان میں اپنے موناٹائیزیشن پروگرام کے تحت براہ راست رقم کی ادائیگیاں کرتا ہے۔

’جن افراد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ مونیٹائزڈ ہیں انھیں ایک ہزار ویوز پر چالیس سینٹ سے ایک ڈالر ملتا ہے، جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ ایک ملین ویوز پر چار سو سے ایک ہزار ڈالرز تک کمایا جاسکتا ہے جو کہ پاکستانی کرنسی میں اچھی خاصی رقم بن جاتی ہے۔‘

ارحم شفیع نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں اکثر لوگ امریکہ یا برطانیہ میں رجسٹرڈ شدہ اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے انھیں معاوضہ زیادہ ملتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات سب کے سامنے ہیں، سوشل میڈیا روایتی ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے ایک بہترین پارٹ ٹائم یا فل ٹائم آمدن کا ذریعہ بن چکا ہے۔‘

’ٹک ٹاک پر آپ کو دولت اور شہرت دونوں مل جاتی ہیں۔ لیکن یہ سارا کھیل فالورز اور ویوز کا ہے۔‘