جوہری پروگرام کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط: سعودی عرب اب تک ابراہیمی معاہدوں کا حصہ کیوں نہ بن سکا؟

ٹرمپ، سعودی عرب، سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سویلین مقاصد کے جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہو گی۔

ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کی منظوری دی جائے گی۔‘

انھوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت ’کسی بھی مواد کی افزودگی نہیں ہو گی‘ اور یہ صرف ’غیر فوجی استعمال سے متعلق ہے‘۔ انھوں نے اس سلسلے میں ’ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک‘ میں سویلین جوہری پروگرامز کی مثال دی اور کہا کہ امریکہ ’سویلین (غیر افزودہ) جوہری تنصیبات کی مخالفت نہیں کرتا۔‘

تاہم ٹرمپ نے ساتھ یہ بھی کہا کہ سعودی جوہری معاہدہ ’اس بات سے مشروط ہو گا کہ سعودی عرب انتہائی قابل احترام اور کامیاب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو۔‘

سعودی عرب نے تاحال ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا۔ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے اس بیان کو دہرایا ہے کہ یہ ’مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے تاریخی قدم ہو گا۔‘

امریکی صدر کے اس بیان نے گذشتہ کئی ماہ سے زیرِ بحث اس معاملے کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ کے مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

مئی 2026 کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن سے یہ ’مطالبہ‘ کیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے۔

آسان لفظوں میں ابراہیمی معاہدے یا ’ابراہیم اکارڈز‘ سے مراد مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا ہے۔

سنہ 2020 کے دوران ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کر کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

ماضی میں سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ ان سبھی کا مطالبہ رہا ہے کہ پہلے ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو گا۔

امریکہ، سعودی جوہری معاہدہ کیا ہے اور اس پر اسرائیل نے کیا کہا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکہ اور سعودی عرب نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت خلیجی مملکت کو ایک سویلین جوہری پروگرام تیار کرنے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ’پُرامن مقاصد کے لیے‘ جوہری تعاون سے متعلق ’معاہدہ 123‘ پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے کو ’پرامن جوہری تعاون کا معاہدہ‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے بارے میں امریکی محکمۂ توانائی کا کہنا ہے کہ اس سے 'سعودی عرب کے جوہری توانائی پروگرام میں امریکی کمپنیوں کو وسیع رسائی حاصل ہوگی۔'

معاہدے کا مکمل متن عوام کے سامنے جاری نہیں کیا گیا، تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس میں مستقبل میں سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دینے کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔ یورینیم کو بجلی گھروں کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اسی مواد کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے اس بیان کو دہرایا ہے کہ یہ ’مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے تاریخی قدم ہو گا۔‘

ایکس پر بیان میں نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے ’امن کے دائرے کو وسعت دینے کا امکان پیدا کیا ہے۔‘

جبکہ جوہری ماہرین اور اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے اہم اتحادی ہے، کے سابق عہدیداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیرِ توانائی عبدالعزیز بن سلمان آل سعود 13 مئی 2025 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی دربار میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن13 مئی 2025 کو امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیرِ توانائی عبدالعزیز بن سلمان آل سعود ریاض میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شریک

اسرائیل کے وزیرِ اقتصادیات نیر برکات کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف توانائی کی ضروریات کے لیے استعمال کرے تو اسرائیل کو اس پر اعتراض نہیں۔

انھوں نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ اسے پرامن مقاصد کے لیے چاہتے ہیں تو ہم اس کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔‘

نیر برکات نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے معاملات میں خطرات کو سمجھے بغیر آگے نہیں بڑھتے۔

اس کے برعکس اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ اویگدور لیبرمین کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو اس معاہدے کی مخالفت کرنی چاہیے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’سعودی عرب کا سویلین جوہری پروگرام بالآخر جوہری ہتھیاروں کی جانب لے جا سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق یہ پیش رفت ’مشرقِ وسطیٰ میں اسلحے کی غیر ضروری دوڑ کو جنم دے گی۔‘

کیا نیا ابراہیمی معاہدہ ممکن ہے؟

ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے پہلے دورِ صدارت میں طے پانے والے ان معاہدوں کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دور میں ان معاہدوں پر دستخط کیے، جس سے ایک طویل عرصے سے قائم روایت ٹوٹ گئی اور وہ ایک چوتھائی صدی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بن گئے۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے بھی اسی راہ پر قدم بڑھایا۔

مذہب اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا محض ایک سفارتی سنگ میل نہیں بلکہ حساس قومی سلامتی کا مسئلہ ہے جو خطے کے قدیم اور پیچیدہ تنازعات میں سے ایک کے حل سے جڑا ہوا ہے۔

سعودی عرب کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ وہ اس وقت تک ابراہیمی معاہدوں پر دستخط نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے روڈ میپ پر اتفاق نہ ہو جائے۔

خیال رہے کہ مئی کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں ’مشترکہ طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں۔'

ایران کے خلاف جنگ اور معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے تناظر میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر سربراہان کے ساتھ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ لازم ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک کم از کم بیک وقت معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کریں۔‘

ٹرمپ نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے تاریخی ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ٹرمپ، اسرائیلی پرچم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن سکتا ہے؟

مئی کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکی معاہدے کا آغاز سعودی عرب اور قطر کی جانب سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط سے ہونا چاہیے۔

سی این این کے مطابق ایک سعودی ذریعے نے اس وقت بتایا تھا کہ اس معاملے پر ریاض کا موقف تبدیل نہیں ہوا جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے کال پر ممالک کی حوصلہ افزائی کی تھی، نہ کہ اسے ایران معاہدے کی کسی شرط کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔

سعودی عرب کے موقف کے بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر حسن الحسن نے کہا کہ ’کئی ممالک اسرائیل کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔۔۔ اسرائیل نے غزہ، لبنان اور شام میں علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے مصر، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے اتحاد بھی قائم کیا ہے۔ تو میرا نہیں خیال کہ خطے کے ممالک ٹرمپ کی اس خواہش سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

اس وقت انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ نے روئٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کو ’ابراہیمی معاہدوں کے تسلسل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسرائیل اور خطے دونوں کے لیے فائدہ مند اور واشنگٹن کے لیے مشکل ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک تصور کو دوسرے تصور سے بدل رہے ہیں۔ ایک جانب ایران کو جھکنے پر مجبور کرنے کا خیال اور دوسری جانب یہ تصور کہ ایک کمزور معاہدہ نئے مشرق وسطیٰ کے نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔‘