مکہ دفاعی معاہدہ بمقابلہ ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت: قطر اور انڈونیشیا پاکستان سے کس نوعیت کی شراکت داری چاہتے ہیں؟

Badr MoU
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے سے قریبی تعاون رکھنے والے پاکستان اور ترکی نے اب قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت کے شعبے میں ایک نئی کثیرالجہتی شراکت داری کا آغاز کیا ہے۔

بُدھ کو دوحہ میں چاروں ممالک نے ’بدر‘ کے نام سے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جس کا مقصد دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور تکنیکی تربیت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب پاکستان اور ترکی پہلے ہی مکہ معاہدے کے رکن ہیں، تو قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت کے لیے ایک الگ فریم ورک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

ماضی میں پاکستان اور ترکی یہ عندیہ بھی دیتے رہے ہیں کہ مستقبل میں مزید ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس نئے فریم ورک میں بھی نئے مماک کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ تاہم سعودی عرب نے تاحال بدر مفاہمتی یادداشت پر کوئی باضابطہ عوامی بیان جاری نہیں کیا۔

پاکستان کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت پر وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے دستخط کیے۔ انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق ’بدر‘ معاہدے میں چاروں ممالک کی وزارتِ دفاع کے علاوہ پاکستان کا دفاعی پیداواری ادارہ اور ترکی کا دفاعی صنعتی ادارہ بھی شامل ہیں۔

معاہدے کا محور دفاعی صنعت میں اشتراک، مشترکہ پیداوار، تحقیق و ترقی، تکنیکی تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے تاکہ شریک ممالک اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

قطری وزارتِ دفاع کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت معاشی لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے شریک ممالک اپنی دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو یکجا کر کے باہمی تعاون اور پیداوار میں اضافہ کر سکیں گے، جبکہ دوست اور اتحادی ممالک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کی جا سکیں گی۔

انڈونیشیا نے اس معاہدے کو قومی دفاعی صلاحیتوں اور دفاعی صنعت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، انجینیئرنگ، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی اور دفاعی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نبیل ملاچیلا کے مطابق ’بدر‘ تین بنیادی شعبوں پر مشتمل ہے: تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی صنعتی تعاون، اور انسانی وسائل کی استعداد میں اضافہ۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر، ترکی اور پاکستان کا انتخاب دفاعی صنعت میں باہمی مطابقت اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو مکمل کرنے کی بنیاد پر کیا گیا۔

جکارتہ نے اس معاہدے کو کسی فوجی اتحاد کے بجائے باہمی اعتماد، مساوات، خودمختاری کے احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی دفاعی صنعتی شراکت داری کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس کے تحت باقاعدہ دفاعی صنعتی اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے اور مستقبل میں دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے گا۔

Makkah Defence Agreement

کیا مکہ معاہدہ اور بدر مفاہمتی یادداشت کا دائرہ کار مختلف ہے؟

ترکی کی سقاریا یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ کے امور کے پروفیسر مصطفی جانیر نے بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے ضروری ہے کہ ان دونوں معاہدوں کے تکنیکی اور عملی فرق کو واضح کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ایک دفاعی اتحاد (ڈیفنس الائنس) ہے جو اپنے رکن ممالک پر باہمی دفاع کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

’یہ مکمل معنوں میں ایک دفاعی معاہدہ ہے اور رکن ممالک کے داخلی قانونی فریم ورک کے تحت اس کی پابندی لازم ہے۔ ترکی میں اس سے متعلق بل کو پارلیمان میں پیش کرنا بھی اس معاہدے کی آئینی اور قانونی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی اس معاہدے کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس، ’بدر‘ ایک مفاہمتی یادداشت ہے، نہ کہ دفاعی اتحاد کا معاہدہ۔ اس کی قانونی حیثیت نسبتاً نرم ہے۔‘

مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی امور کے تجزیہ کار عمر کریم نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کو مکہ دفاعی معاہدے کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ فی الحال محض ایک مفاہمتی یادداشت ہے جبکہ مکہ معاہدہ کہیں زیادہ گہرے سٹریٹجک اور دفاعی وعدوں پر مبنی فریم ورک ہے۔

ان کے بقول بدر ایم او یو کو اس وقت شریک ممالک کے درمیان ابتدائی نوعیت کی شراکت داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جو وقت کے ساتھ زیادہ جامع اور عملی تعاون میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

عمر کریم کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں شامل ممالک کے باہمی تعلقات بھی یکساں نوعیت کے نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دفاعی و سیاسی روابط ابھی محدود ہیں، جبکہ انڈونیشیا کے انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات موجود ہیں۔ اسی طرح قطر اور پاکستان کے تعلقات بھی بعض اوقات افغانستان سے متعلق پالیسی اختلافات سے متاثر رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگرچہ ترکی کے دیگر تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، تاہم وہ اکیلا اس پورے فریم ورک کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔

’مکہ معاہدہ نیٹو طرز جبکہ بدر اتحاد دفاعی تعاون سے متعلق ہے‘

سنگاپور کے ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز سے وابستہ سینیئر فیلو اور کتاب ’دی ٹربولنٹ ورلڈ‘ کے مصنف جیمز ایم ڈورسی نے بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بدر ایم او یو‘ کا دائرۂ کار صرف دفاعی صنعت اور دفاعی پیداوار تک محدود ہے۔

ان کے مطابق ان دونوں میں بنیادی فرق ان کے دائرۂ کار اور مقاصد کا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ایک اجتماعی دفاعی فریم ورک ہے، جس کا مرکز سکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاع ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، اس لیے یہ بنیادی طور پر دفاعی اور عسکری تعاون کا معاہدہ ہے۔

اس کے برعکس بدر مفاہمتی یادداشت پاکستان، قطر، ترکی اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کا ایک فریم ورک ہے۔ اس کا محور مشترکہ دفاع نہیں بلکہ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی، تربیت اور صنعتی استعداد میں اضافہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں مکہ معاہدہ اس بات سے متعلق ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے کے دفاع میں کیسے تعاون کریں گے، جبکہ بدر مفاہمتی یادداشت اس پر توجہ دیتی ہے کہ وہ دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیتیں مل کر کیسے تیار اور فروغ دیں گے۔

خلیجی عرب ریاستوں کے امور کی ماہر بیتول دوغان اکّاش کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ زیادہ تر نیٹو طرز کے اجتماعی دفاعی فریم ورک سے مشابہت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس میں دفاعی تجارت اور تعاون کے پہلو بھی موجود ہیں، لیکن اس کی اصل اہمیت رکن ممالک کے درمیان سلامتی کی عملی یقین دہانی اور دفاعی ضمانت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے دونوں انتظامات کو ایک دوسرے کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

قطر سمیت کوئی دیگر خلیجی ملک ابھی تک مکہ معاہدے کا حصہ کیوں نہیں بنا؟

بیتول دوغان اکّاش نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ خلیجی ممالک عموماً اپنی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں میں خودمختاری برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ باہمی تعاون کے باوجود اپنے علاقائی کردار اور اثرورسوخ کو کسی ایک طاقت کے زیرِ سایہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

ان کے مطابق قطر یا دیگر خلیجی ممالک کے لیے بدر جیسا فریم ورک انھیں علاقائی تعاون کا موقع دیتا ہے، جبکہ وہ اپنی الگ شناخت اور پالیسی آزادی بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ اپنے ارکان پر زیادہ ذمہ داریاں اور عملی تقاضے عائد کرتا ہے، جبکہ بدر مفاہمتی یادداشت نسبتاً نرم نوعیت کا فریم ورک ہے، جس میں شمولیت دیگر ممالک کے لیے نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔

بیتول دوغان اکّاش کا کہنا تھا کہ اگرچہ قطر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے اور سعودی عرب بھی بدر مفاہمتی یادداشت کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم خلیجی ریاستوں کی اولین ترجیح ایک دوسرے سے اپنی خودمختاری برقرار رکھنا ہے، نہ کہ لازماً باہمی مقابلہ آرائی۔

قطر کے حوالے سے بیتول دوغان اکّاش نے کہا کہ چونکہ دوحہ بیک وقت فرانس، برطانیہ اور امریکہ جیسے مغربی شراکت داروں کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کو فروغ دے رہا ہے، اس لیے مختلف نوعیت کے سکیورٹی اور دفاعی انتظامات میں حصہ لینا اس کے لیے علاقائی توازن برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول اگر قطر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ سعودی قیادت والے سکیورٹی ڈھانچے کے تحت آ رہا ہے، جبکہ بدر مفاہمتی یادداشت اسے زیادہ آزاد اور خودمختار علاقائی تعاون کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی دونوں فریم ورکس کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

بین الاقوامی امور کی ماہر اور ملائیشیا کی سن وے یونیورسٹی سے وابستہ محققہ ڈاکٹر جولیا روکنیفارڈ نے کہا کہ ’بدر‘ میں قطر کی شمولیت خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ نہ صرف سرمایہ کاری فراہم کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں دفاعی پیداوار کا ممکنہ خریدار بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں خلیجی ممالک میں قطر کی موجودگی اس تعاون کے لیے درکار سرمایہ کاری کے پہلو کو کافی حد تک پورا کرتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی امور کے تجزیہ کار عمر کریم کا کہنا ہے کہ قطر کے پاس کوئی بڑا دفاعی صنعتی ڈھانچہ موجود نہیں، اس لیے غالب امکان ہے کہ وہ مشترکہ منصوبوں میں بنیادی طور پر مالی معاونت کا کردار ادا کرے۔ ایسے میں مشترکہ دفاعی صنعت اور پیداواری منصوبوں کو عملی شکل دینا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔

عمر کریم کے خیال میں اسی وجہ سے بدر ایم او یو سے فوری طور پر غیر معمولی نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ البتہ اگر یہ تعاون مشترکہ منصوبوں، دفاعی پیداوار اور اعلیٰ سطح کی دفاعی وابستگیوں تک پہنچ جاتا ہے تو مستقبل میں اس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

X/@MOD_Qatar

سعودی عرب بدر مفاہمتی یادداشت کا حصہ کیوں نہیں بنا؟

بیتول دوغان اکّاش نے سعودی عرب کی بدر مفاہمتی یادداشت میں عدم شمولیت کے بارے میں بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’ریاض کے پاکستان اور ترکی کے ساتھ پہلے ہی قریبی دفاعی اور سکیورٹی تعلقات موجود ہیں، اس لیے اسے ایسے کسی نئے فریم ورک میں اضافی سرمایہ کاری یا توجہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

پروفیسر مصطفیٰ جانیر کے مطابق مجموعی صورتحال کو دیکھیں تو نئے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت میں شامل نہ ہونے کا سعودی عرب کا فیصلہ کسی سیاسی اختلاف کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر ایک تکنیکی ترجیح دکھائی دیتا ہے۔

ریاض ممکنہ طور پر اپنی سفارتی توجہ یمن جیسے معاملات پر مرکوز رکھنا چاہتا ہو، جسے وہ اس وقت زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب تحقیق و ترقی اور دفاعی صنعتی تعاون کو زیادہ تر دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے آگے بڑھانے کو ترجیح دے سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کی ماہر اور ملائیشیا کی سن وے یونیورسٹی سے وابستہ محققہ ڈاکٹر جولیا روکنیفارڈ بھی اس بات سے متفق ہیں۔

انھوں نے بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت میں شامل نہ ہونا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ اسے کسی اہم دفاعی معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ اور ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کے مقاصد مختلف ہیں۔ مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کے تصور پر مبنی ہے، اگرچہ یہ ابھی واضح نہیں کہ اسے عملی طور پر کس طرح نافذ کیا جائے گا، جبکہ ’بدر‘ کا محور دفاعی سازوسامان کی پائیدار سپلائی چین اور دفاعی پیداوار میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ڈاکٹر روکنیفارڈ کا کہنا تھا کہ جب مکہ معاہدہ طے پایا تھا تو اسے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر گلوبل ساؤتھ میں سکیورٹی تعاون کو متنوع بنانے کی متعدد کوششوں میں سے ایک سمجھا گیا تھا۔ ان کے بقول، امریکہ کے بطور قابلِ اعتماد سکیورٹی ضامن کردار میں تبدیلی کے تناظر میں ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

مصطفی جانیر کا کہنا ہے کہ ’بدر‘ ایم او یو کی توجہ اجتماعی دفاع کے بجائے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار پر مرکوز ہے، جبکہ مشترکہ دفاعی صنعتی پیداوار کا پہلو مکہ معاہدے میں پہلے ہی شامل ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سعودی عرب ترکی اور پاکستان کے ساتھ دفاعی صنعت میں تعاون سے گریز نہیں کر رہا۔

بین الاقوامی امور کی ماہر اور ملائیشیا کی سن وے یونیورسٹی سے وابستہ محققہ ڈاکٹر جولیا روکنیفارڈ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس وقت بڑی حد تک امریکی اسلحے سے لیس ہے، جبکہ خطے میں سب سے زیادہ ضرورت فضائی دفاعی نظاموں کی محسوس کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر روکنیفارڈ کے مطابق اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ سعودی عرب یا دیگر ممالک مستقبل میں اس تعاون کے فریم ورک کا حصہ بن جائیں۔

ان کے خیال میں خطے میں اُبھرنے والے نئے اتحادوں اور معاہدوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دراصل مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں امریکہ کے بدلتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے، جہاں واشنگٹن پر مکمل انحصار یا اعتماد کرنا اس کے دیرینہ اتحادیوں کے لیے بھی پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔

جیمز ایم ڈورسی کے بقول سعودی عرب اس وقت خود کو بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات سے دوچار محسوس کرتا ہے، جس کے باعث وہ اپنے دفاع کے لیے صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل شراکت داریوں اور اتحادوں کی جانب بھی دیکھ رہا ہے۔

جیمز ایم ڈورسی کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کو عملی شکل دینے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کے لیے فوری طور پر سعودی عرب کی کسی ممکنہ جنگ میں اپنی افواج تعینات کرنا آسان نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ سعودی عرب کے لیے آسان فیصلہ ہو گا اگر پاکستان کی انڈیا سے کشیدگی ہو۔

انھوں نے نشاندہی کی کہ ترکی میں اس معاہدے پر عملدرآمد پارلیمانی منظوری سے مشروط ہے، جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے فی الحال ایسی بحث دکھائی نہیں دیتی جیسی 2015 میں یمن جنگ کے معاملے پر پارلیمان میں ہوئی تھی۔

ان کے مطابق اگر پاکستان، ترکی، مصر یا فرانس جیسے ممالک سعودی عرب کی مدد کے لیے آگے بھی آتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ ان کی عسکری معاونت سعودی عرب کی سرزمین پر دفاعی تعاون، تربیت، لاجسٹک سپورٹ یا حفاظتی انتظامات کی صورت میں ہو، نہ کہ براہِ راست کسی بیرونی محاذ پر جنگی کارروائیوں کے لیے۔