’سٹریچر پر نہیں جاؤں گی، کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ ماہ نور ڈر گئی ہے‘: کوئٹہ میں تیزاب حملے میں زخمی ہونے والی ڈاکٹر کون ہیں؟

تیزاب

،تصویر کا ذریعہDr Sadia

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ماہ نور (بائیں)، ڈاکٹر سعدیہ (دائیں)
    • مصنف, محمد زبیر خان، محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

انتباہ: اس رپورٹ میں تیزاب سے ہوئے حملے سے متعلق تفصیلات موجود ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔

’میری بہن بہت بہادر ہے۔ اُس کو جب زخمی حالت میں کوئٹہ سے کراچی ایئر پورٹ پر لایا گیا تو اس نے کہا کہ ’میں سٹریچر پر نہیں جاؤں گی بلکہ خود چل کر جاؤں گی کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ ماہ نور ڈر گئی ہے۔‘

یہ کہنا ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں سنیچر کو تیزاب سے ہوئے ایک حملے میں شدید زخمی ہونے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے بھائی فرحت اللہ ناصر کا۔

فرحت اللہ ناصر نے بتایا کہ اُن کی بہن روایت شکن ہیں اور جب وہ ڈاکٹر بنیں تو اُن ہی کی بدولت اُن کی خاندان کی کئی لڑکیوں اور لڑکوں میں اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔

’ہمارے علاقے اور گاؤں کے لوگ جب سول ہسپتال کوئٹہ میں علاج کے لیے جاتے تھے تو ماہ نور ہی اُن کا سہارا ہوتی اور اُن کی مدد کرتی تھی۔‘

فرحت اللہ ناصر کے مطابق ’ہمیں نہیں معلوم کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور اس کے پیچھے محرکات کیا تھے۔ ان محرکات کا پتا چلنا لازمی ہے۔‘ تاحال پولیس یا حکام کی جانب سے سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے۔

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں کام کرنے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر سنیچر کو تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا جبکہ کوئٹہ پولیس نے اس واقعے کے لگ بھگ آدھ گھنٹے بعد ایک مبینہ پولیس مقابلے میں حملہ آور، جو اسی ہسپتال میں بطور لفٹ آپریٹر کام کرتا تھا، کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈاکٹر ماہ نور کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ برن سینٹر میں زیر علاج ہیں۔

ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ موجود اُن کے چچا نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق اب ڈاکٹر ماہ نور کی طبعیت قدرے بہتر ہے اور اُن کا علاج بدستور جاری ہے۔

چچا کے مطابق ڈاکٹرز نے انھیں بتایا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کی بینائی محفوظ ہے تاہم انھیں قدرے دھندلا نظر آنے کی شکایت ہے۔ اُن کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دھندلا نظر آنا چہرے پر موجود زیادہ سوجن کے باعث بھی ہو سکتا ہے تاہم اس ضمن میں حتمی رائے سوجن کم ہونے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈاکٹرز نے فی الحال ابتدائی طور پر ہمیں بتایا ہے کہ ہمیں تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ ہسپتال میں گزارنا ہوں گے جس کے دوران متعدد سرجریز ہوں گی اور صحتیابی کا عمل وقت لے سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر ماہ نور کی کزن اور دوست ڈاکٹر سعدیہ ناصر بتاتی ہیں کہ ماہ نور کے لیے تعلیم حاصل کرنے اور بطور ڈاکٹر کام کرنے کا عمل آسان نہیں تھا۔

ڈاکٹر سعدیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے خاندان کا تعلق بلوچستان کے ضلع دوکی سے ہے اور یہ خاندان زمینداری اور کاروبار کے شعبے سے وابستہ ہے۔

کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہFarhat Ullah Nasir

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ماہ نور اپنے بھائی فرحت اللہ ناصر کے ہمراہ
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ اُن کے خاندان میں خواتین کی پڑھائی اور اُن کے ملازمتیں کرنے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ ’مگر میرے والد ڈاکٹر آدم خان ہمارے خاندان کے پہلے ڈاکٹر بنے تو انھوں نے مجھے میڈیکل کی تعلیم دلوائی۔‘

’میرے والد ڈاکٹر تھے جبکہ ڈاکٹر ماہ نور کا خاندان بھی متمول ہے، مگر اس کے باوجود ہمیں ڈاکٹر بننے کے لیے طعنے برداشت کرنا پڑے۔ مجھے کہا گیا کہ یہ اکیلی کراچی میں رہے گی اور ہسپتال میں کام کرے گی۔۔۔ یہ سوال بھی کیا گیا کہ ہمارے علاقے میں خواتین کب ڈاکٹر بنی ہیں؟ ایسی ہی باتیں اور رویہ ڈاکٹر ماہ نور کو بھی برداشت کرنا پڑا تھا۔‘

ڈاکٹر سعدیہ ناصر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس سے بطور نیورو فزیشن منسلک ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ انھیں دیکھ کر اُن کی کزن ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بھی تعلیم حاصل کرنے کی تحریک ملی اور ’میں نے ہر قدم پر جتنا ممکن ہو سکتا تھا ماہ نور کو رہنمائی اور مدد فراہم کی۔‘

ڈاکٹر سعدیہ نے بتایا کہ اُن کی کزن ڈاکٹر ماہ نور نے انٹرمیڈئیٹ کوئٹہ کے اسلامیہ گرلز کالج سے پاس کیا تھا اور اُس کے بعد انھوں نے کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی۔

ان کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور سرجری میں سپلائزیشن کرنا چاہتی تھیں۔ ’اُن کے پاس کافی آپشن موجود تھے اور وسائل بھی مگر ڈاکٹر ماہ نور نے سرجری کی تربیت سول ہسپتال سے حاصل کرنے کو ترجیح دی۔‘

ایف آئی آر اور حملے کی وائرل ویڈیو

تصویر

،تصویر کا ذریعہBalochistan Government

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ماہ نور کو ایئرایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا تھا

سول لائنز پولیس سٹیشن کوئٹہ نے اس واقعے کی ایف آئی سول ہسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ کی مدعیت میں ملزم ہمایوں شاہ کے خلاف درج کی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عبدالہادی کاکڑ نے پولیس کو بتایا کہ وہ سول ہسپتال میں اپنے روٹین کے کام میں مصروف تھے جب انھیں اطلاع ملی کہ سرجیکل کمپلیکس میں کوئی شخص ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا ہے۔

’جب میں فوری طور پر وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ڈاکٹر ماہ نور کے علاوہ انھیں بچانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک میڈیکل ٹرینی عبدالرزاق بھی زخمی ہیں۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر کاکٹر نے بتایا کہ ’دونوں کو پہلے سول ہسپتال میں ہی طبی امداد فراہم کی گئی تاہم بعد میں وہاں رش اور زخمی ڈاکٹر کے شعبے کے ڈاکٹروں کے بار بار اصرار پر اُن کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق 'سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے ملزم ہمایوں شاہ کی نشاندہی ہوئی جو کہ ہسپتال میں کام کرنے والی ایک نجی کمپنی کے ساتھ لفٹ پر کام کرتا تھا۔'

ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس کا تذکرہ ایف آئی آر میں بھی کیا گیا ہے۔ سول ہسپتال انتظامیہ نے بی بی سی کو اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک شخص (ملزم) اپنی جیب سے کچھ نکال کر تیزی سے ایک جانب بڑھتا ہے۔

اسی ویڈیو میں سیڑھیوں کے ساتھ سفید کپڑوں اور نیلے اپیرن میں ملبوس ایک اور شخص بھی نظر آ رہا ہے۔

اس کے بعد جیب سے کچھ نکالنے والا شخص (ملزم) تیزی کے ساتھ دوسری سمت میں بھاگتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

یہ تیزاب پھینکنے والا ملزم ہی تھا کیونکہ مبینہ پولیس مقابلے میں اس کی ہلاکت کے بعد اس کی لاش کی جو تصویر محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ہے، اُس میں وہ اُسی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھا، جس رنگ کے کپڑوں میں وہ ویڈیو میں بھاگتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

ملزم کے بھاگنے کے بعد وہ شخص جو کہ سیڑھیوں کے ساتھ کھڑا ہے دوسری جانب مڑکر دیکھتا ہے تو ایک خاتون اس کی جانب تیزی سے آتی ہیں اور اس کو تیزی سے اپنی جانب کھنیچتی ہیں، جس کے بعد متاثرہ خاتون زمین پر گر جاتی ہے۔

گاؤن میں ملبوس یہ شخص سول ہسپتال کے پیرا میڈیک عبدالرزاق خلجی ہیں، جنھوں نے سب سے پہلے خاتون ڈاکٹر کی مدد کی۔

ویڈیو میں وہ اپنا نیلا ایپرن اُتار کر خاتون ڈاکٹر کے اوپر ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مبینہ کارروائی میں ملزم کی ہلاکت

سنیچر کے روز بلوچستان کے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کہ پولیس کو ملزم کی گرفتاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کی گئی تھیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ملزم کا سراغ انٹر سٹی بس اڈے کے قریب لگایا، جہاں اُن کو گرفتاری دینے کا کہا گیا لیکن ملزم نے (مبینہ طور پر) پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔

وزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ملزم زخمی ہوا اور بعد میں ہلاک ہو گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم سے ایک پستول اور گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

اتوار کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر خان یوسفزئی نے بتایا تھا کہ ملزم ہمایوں شاہ کو آدھے گھنٹے کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔

بابر یوسفزئی نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے کے کوئی محرکات سامنے نہیں آئے ہیں تاہم اس سلسلے میں مختلف پہلووں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

’تیزاب کے اثرات سے میں بھی زخمی ہو گیا‘

بلوچستان حکومت نے عبدالرزاق خلجی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہ@PakSarfrazbugti

،تصویر کا کیپشنبلوچستان حکومت نے عبدالرزاق خلجی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے

’تیزاب سے ہوئے حملے کے فوراً بعد خاتون ڈاکٹر کی تکلیف کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ انھوں نے مدد کے لیے زور سے مجھے اپنی جانب کھینچا، جس کے باعث تیزاب کے اثرات مجھ پر بھی پڑے اور میں زخمی ہوا۔‘

یہ کہنا ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں کام کرنے والے پیرامیڈیک عبدالرزاق خلجی کا۔

عبدالرزاق خلجی وہ شخص ہیں جو ڈاکٹر ماہ نور کی مدد کو سب سے پہلے پہنچے تھے اور افراتفری کے عالم میں اُن کی مدد کرتے ہوئے وہ خود زخمی بھی ہوئے تھے۔

بلوچستان حکومت نے عبدالرزاق خلجی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان بھی کیا ہے۔

خلجی بتاتے ہیں کہ ’حملے کے فوراً بعد مدد کی غرض سے ڈاکٹر ماہ نور میری طرف تیزی سے بڑھیں، اور تکلیف کی شدت سے انھوں نے مجھے اپنی جانب کھینچا۔‘

خلجی کی جانب سے اس موقع پر مدد کے دوران وہ خود بھی تیزاب کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پائے۔

دوسری جانب خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اور کوئٹہ کے ینگ ڈاکٹرز نے اس واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔

ڈاکٹر ماہ نور کی مدد کرنے والے عبدالرزاق خلجی کے مطابق اُن کا چہرہ شدید زخمی تھا جبکہ اُن کے کپڑے بھی متاثر ہوئے تھے جس پر ’میں نے اپنا ایپرن اُتار کر اُن کے اوپر ڈال دیا۔‘

خلجی کے مطابق ’ابتدا میں مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اُن پر تیزاب پھینکا گیا ہے۔‘

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعلامتی تصویر

’کیا میں ٹھیک ہو جاؤں گی؟‘

کراچی منتقلی سے قبل ڈاکٹر ماہ نور کو جب سول ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد شہر میں واقع ’آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘ پہنچایا گیا، تو اُن کی جانب سے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نردوش رسانی سے پہلا سوال یہی کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر ماہ نور ماضی میں خود بھی آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ساتھ تربیت کی غرض سے منسلک رہ چکی ہیں۔ اور جب تیزاب حملے کے بعد انھیں مریض کی حیثیت سے اِسی ہسپتال پہنچایا گیا تو انھوں نے شدید تکلیف کے باوجود وہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نردوش کو پہچان لیا۔

ڈاکٹر نردوش نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ نور نے انھیں دیکھتے ہی سوال کیا کہ ’کیا میں ٹھیک ہو جاؤں گی؟‘

وہ بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہ نور کو جواباً تسلی دینے کے بعد انھوں نے عملے کی مدد سے طبی امداد فراہم کرنا شروع کی۔

ڈاکٹر نردوس رسائی کے مطابق اس حملے میں ڈاکٹر ماہ نور کا چہرہ، ٹانگ، بازو اور آنکھیں متاثر ہوئی تھیں۔ ’اُن کی آنکھوں میں سخت تکلیف تھی جبکہ چہرے، بازو اور ٹانگ بھی متاثر تھے۔‘

ڈاکٹر نردوس رسائی کے مطابق انھیں فوری طور پر درد کش ادویات (پین کلرز) اور اینٹی بائیوٹیکس دیے گئے تھے۔

ڈاکٹر نردوس رسائی کا کہنا تھا کہ تیزاب کی شدت کی وجہ سے ڈاکٹر ماہ نور کے جسم کے مختلف حصے جلے ہوئے تھے۔ ’کہیں سے زیادہ اور کہیں کم۔ مجموعی طور پر اُن کا جسم کا لگ بھگ 15 سے 20 فیصد حصہ جلا ہوا تھا۔ مگر اچھی بات یہ تھی کہ ڈاکٹر ماہ نور حوصلے سے تھیں اور اُن کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔‘

تیزاب کی کُھلے عام خرید و فروخت پر سوالات

واقعے کے خلاف ڈاکٹروں کا احتجاج

اس واقعے کے خلاف کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز نے سنیچر اور اتوار کو احتجاج کیا تھا۔

اتوار کے روز ینگ ڈاکٹرز نے سول ہسپتال کوئٹہ کے احاطے سے ایک احتجاجی ریلی نکالی تھی جس کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے، جہاں انھوں نے مظاہرہ کیا۔

ڈاکٹروں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیکریٹری صحت، ایم ایس سول ہسپتال اور ہسپتال کے سکیورٹی انچارج کو معطل کرنے اور ان کے خلاف کارروائی اور واقعے کے بارے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے صارفین اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ جہاں واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہیں تیزاب کی کھلے عام خرید و فروخت پر بھی ایک بار پھر سوالات کھڑے کیے جا رہے ہیں۔

منہا نامی صارف نے لکھا کہ ’خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے کیا گیا وحشیانہ حملہ دل دہلا دینے والا اور ناقابل قبول ہے۔۔ یہ انسانیت، ہمدردی اور ہر عورت کے بلا خوف کام کرنے اور خدمت کرنے کے حق پر حملہ ہے۔‘

صحافی سدرہ ڈار نے لکھا کہ ’پاکستان میں تیزاب فروخت کرنا اور خریدنا اتنا آسان ہے کہ کوئی بھی مارکیٹ جا کر یہ جواز دے کر کہ سیوریج لائن بند ہے، تیزاب خرید سکتا ہے۔ کون خرید رہا ہے، کس مقصد کے لیے لے جا رہا ہے اور اس کا کیا کرے گا؟ اس کا کوئی ریکارڈ نہیں لیا جاتا۔‘

نزرانہ یوسف زئی نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کی ہولناک ویڈیو دیکھی۔ ہم اصل مسئلے کو نظر انداز کرتے چلے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے بارے میں گہری نفرت اور غیر انسانی سلوک ہے۔ یہ ہمارے گھروں، ہمارے اداروں، ہماری گفتگو اور ہمارے رویوں میں موجود ہے۔ جب تک ہم اس نفرت کا مقابلہ نہیں کرتے، اس وقت تک مزید خواتین اپنی حفاظت کے ساتھ اس کی قیمت ادا کرتی رہیں گی۔‘

ڈاکٹر رفیع نامی صارف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر ایک خاتون ڈاکٹر ہسپتال میں محفوظ نہیں تو وہ کہاں محفوظ ہے؟ خواتین پہلے ہی ڈاکٹر، اساتذہ اور پیشہ ور بننے کے لیے سماجی رکاوٹوں کا مقابلہ کرتی ہیں۔۔۔‘