تجزیہ: لبنان میں لوگ اب بھی امریکہ، ایران معاہدے کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں, ہوگو بچیگا، بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کو ایک بار پھر امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
لبنان کے جنوبی حصے میں جہاں اسرائیل تواتر سے فضائی حملے کرتا آیا ہے آج صبح صورتحال بظاہر پُرسکون نظر آئی۔ تاہم لوگ جنگ بندی کے اعلان کو لے کر اب بھی کافی محتاط دکھائی دیتے ہیں۔
حکام کی جانب سے انتباہات کے باوجود کے علاقے میں واپس آنا ابھی محفوظ نہیں کچھ خاندان نے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد کا ایک قافلہ جب اپنے گاؤں پہنچا ہے تو ایک سڑک اسرائیلی ٹینک کی وجہ سے بند تھی۔
ایران اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ بات حزب اللہ کے حامیوں میں ایران کا امیج مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے جو اس تنازع سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لبنان میں تہران کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
یہ سب اُس وقت ہو رہا ہے جب لبنانی حکومت دونوں محاذوں کو علیحدہ رکھنے، ایرانی اس اثر و رسوخ کم کرنے اور اس کے نتیجے حزب اللہ کو مزید تنہا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مقصد تاحال حاصل نہیں کیا جا سکا۔
لبنان کے لیے یہ جنگ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
3,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ملک کے تقریباً 5 فیصد علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور اس انخلا کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہیں۔ جنوبی علاقوں کے درجنوں دیہات تباہ ہو چکے ہیں اور یہ واضح نہیں کہ تعمیرِ نو کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ دس لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں، جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے جو کہ حزب اللہ کی حمایتی ہیں۔
لبنانی عوام کے پاس شکوک و شبہات کی وجوہات موجود ہیں۔ 2024 میں ختم ہونے والی جنگ بندی بھی امن نہیں لا سکی تھی۔ اسرائیل تقریباً روزانہ حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہا، اور بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جب عالمی توجہ اس خطے سے ہٹ جائے گی تو حالات دوبارہ ویسے ہی ہو سکتے ہیں۔














