عالمی منڈی میں ایک بار پھر تیل کی قیمتیں مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
برینٹ کروڈ، جو تیل کی عالمی قیمتوں کا معیار سمجھا جاتا ہے، جمعرات کو 6 فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔ یہ اضافہ کئی دنوں سے جاری بڑھوتری کے بعد ہوا، جب امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی حملے تیز کر دیے۔
قیمتوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب یمن میں حوثی ملیشیا نے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں پر حملہ کیا، جس سے ایک اہم برآمدی راستہ خطرے میں پڑ گیا۔ سعودی عرب آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے اس راستے کو استعمال کرتا رہا ہے۔
گیس کی قیمتیں بھی گذشتہ ایک ماہ کے دوران مسلسل بڑھتی رہی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو رہی تھیں۔
یہ قیمتیں دوبارہ ان سطحوں تک آ گئی تھیں جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے دیکھی گئی تھیں۔
تاہم، جنگ بندی ناکام ہو گئی ہے اور اس ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران میں فیصلے کرنے والے لوگ ’معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘۔
جاری تنازعے کے باعث برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے قیمتیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
تیل کی بلند قیمتوں کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل بھی مہنگے ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ اس کا براہِ راست اثر گاڑی چلانے والوں پر پڑتا ہے، لیکن گھریلو صارفین کو بھی خوراک سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ کاروبار اپنی زیادہ نقل و حمل کی لاگت صارفین کو منتقل کر دیتے ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ میں مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے، لیکن یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بھڑکنے والے تنازعے کی وجہ سے یہ سست روی عارضی ثابت ہوگی۔
برطانیہ میں پیٹرول کی قیمتیں ڈھائی ہفتوں کے دوران 5 پنس فی لیٹر بڑھ کر تقریباً 1.56 پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہیں۔ آر اے سی کے مطابق، ڈیزل کی اوسط قیمت 1.72 پاؤنڈ فی لیٹر ہے۔
موٹر سواروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اے اے اے کے مطابق، امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن سے زیادہ ہو گئی ہے، جو ایک ماہ پہلے 3.92 ڈالر تھی۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے مقرر ہونے والے چیئرمین کیون وارش نے گذشتہ ہفتے کانگریس کو بتایا کہ مرکزی بینک کو ’مسلسل بلند مہنگائی بالکل بھی قبول نہیں‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کیون وارش کے پیش رو جیروم پاول پر سود کی شرح کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے تھے۔
ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ وارش امریکی عوام کے لیے قرض لینے کی لاگت کم کرنے کے ان کے مطالبے کو پورا کریں گے۔
تاہم، فیڈرل ریزرو نے گذشتہ ماہ وارش کی پہلی میٹنگ میں امریکی سود کی شرح 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھی۔
انھوں نے کانگریس کو یہ بھی بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے نتیجے میں قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے بعد ’قیمتوں میں استحکام بحال کرنے‘ کے لیے پُرعزم ہیں۔