لائیو, امریکہ، ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ: عباس عراقچی روس پہنچ گئے

امریکہ اور ایران میں ہونے والے مذاکرات میں حالیہ تعطل کے بعد پیر کی صبح ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2.2 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 107.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دورہ پاکستان مکمل کر کے اب روس پہنچ چکے ہیں جہاں اُن کی صدر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ، ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ: 2.2 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 107.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دورہ پاکستان مکمل کر کے روس روانہ ہو گئے ہیں۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے مطابق ایرانی وفد کا حالیہ دورۂ پاکستان 'دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت' کے لیے تھا
  • ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق دورہ پاکستان کے دوران عباس عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے ہیں
  • لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جنوبی لبنان پر ہوئے تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 14 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث اہم کردار ادا کیا: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں پاکستان اور عمان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔‘

    ٹیلی گرام پر موجود اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ’مذاکراتی عمل میں بعض مقامات پر پیش رفت کے باوجود امریکہ کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات کا گذشتہ دور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا، اس لیے موجودہ صورتحال پر پاکستان میں دوستوں کے ساتھ مشاورت ناگزیر تھی۔‘

    عباس عراقچی نے اپنے اس بیان میں کہا کہ ’پاکستان میں بہتر انداز میں مشاورت ہوئی اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں ماضی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ کن حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔‘

  2. پاسدارانِ انقلاب کے نئے سربراہ منظرِ عام سے غائب کیوں ہیں؟

    FARS

    ،تصویر کا ذریعہFARS

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی مارچ کے آغاز سے ہی میڈیا سے غائب ہیں۔

    مارچ میں ہی انھیں پاسدارانِ انقلاب کمانڈر ان چیف کے اعلیٰ عہدے پر تعینات کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

    وہ آخری مرتبہ 11 فروری کو عوامی سطح پر سامنے آئے تھے کہ جب انھوں نے جنوبی شہر شیراز میں سنہ 1979 کے انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک ریلی میں ’دشمن‘ کو ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

    یکم مارچ کو بعض خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس نے یہ خبر دی تھی کہ واحدی کو پاسدارانِ انقلاب کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

    تاہم ان ویب سائٹس میں کوئی بھی بڑی سرکاری خبر رساں ایجنسی یا پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ادارہ شامل نہیں تھا۔

    احمد واحدی کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف بننے کی یہ خبر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں میجر جنرل محمد پاکپور اور کئی سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق تقرری سے قبل احمد واحدی پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

  3. اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف تین مقدمات کی سماعت چھ ہفتے کی تاخیر کے بعد ایک مرتبہ پھر ملتوی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو

    یروشلم پوسٹ نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی عدالتی سماعت شروع ہونے سے تقریباً 90 منٹ قبل ان کے وکیل کی درخواست پر ’اچانک منسوخ‘ کر دی گئی۔

    نیتن یاہو کو آج تقریباً چھ ہفتوں کی تاخیر کے بعد فوجداری مقدمے میں گواہی دینا تھی۔

    یہ تیسری مرتبہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے باعث عدالتی سماعت ملتوی کی گئی ہے۔

    تاہم تاحال حکام کی جانب سے آج کی سماعت میں تاخیر اور اس کے منسوخ کیے جانے کی کوئی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔

    نیتن یاہو گزشتہ پانچ برس سے تین الگ مقدمات رشوت لینے، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

    گزشتہ سال موسمِ خزاں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ملک کے صدر سے اس معاملے میں معافی کی درخواست کی تھی۔

  4. ملزم پر آج عدالت میں باضابطہ فردِ جرم عائد کی جائے گی

    US President Trump via Truth Social/ Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہUS President Trump via Truth Social/ Getty Images

    واشنگٹن ڈی سی میں سنیچر کی رات وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے کے دوران ہونے والی فائرنگ کے ملزم کو آج عدالت میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ملزم کی شناخت کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے۔

    امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنا رہا تھا اور خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایک ’ممکنہ‘ ہدف تھے۔

    واقعے کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘ اور بعد میں حملہ آور کی تصویر بھی شیئر کی۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ملزم کو گزشتہ روز شمال مغربی واشنگٹن ڈی سی کے میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک تھانے میں رکھا گیا تھا اور آج اسے دارالحکومت کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا۔

    امکان ہے کہ آج ہی حملہ آور پر ایک وفاقی اہلکار پر حملہ کرنے اور اسلحہ کے استعمال کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

  5. میں پریشان نہیں تھا، ہم ایک افراتفری کی شکار دنیا میں رہتے ہیں: صدر ٹرمپ

    BBC

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز کو اٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ واسنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کی وجہ سے وہ خوفزدہ یا فکر مند ہوئے؟

    تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میں پریشان نہیں تھا۔ میں زندگی کو بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔ ہم ایک افراتفری کی شکار دنیا میں رہتے ہیں۔‘

    سی بی ایس نیوز کو دیے جانے والے انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ مُمکنہ طور پر آپ اس حملے کا اصل حدف تھے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں تو کُچھ نہیں کہہ سکتا مگر میں نے حملہ آور کی اب تک سامنے آنے والی دستاویزات دیکھی ہیں اور وہ (حملہ آور) انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر ہو چکا ہے، وہ پہلے مسیحی نظریات پر چلنے والا تھا تاہم پھر اس نے انھیں چھوڑ دیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ زندگی میں بہت سے دیگر مسائل سے گُزر رہا تھا جن کے بارے میں اُس کے بھائی نے بھی ذکر کیا اور شکایت کی ہے اور انتظامیہ کو مزید بہت کُچھ بتایا ہے۔‘

    سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر امریکی صدر اور اُن کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    حملہ آور کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے پڑھیے یہ تحریر

  6. علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان تعاون اہمیت کا حامل ہے، عباس عراقچی

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ روسی حکام کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی ملاقاتوں کا ایجنڈا کئی اہم امور پر مشتمل ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پہ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روس میں اہم شخصیات کے ساتھ ملاقات میں جاری جنگ کی صورتحال، علاقائی اور عالمی پیش رفت کا جائزہ اور تہران و ماسکو کے درمیان سیاسی تعلقات کو فروغ دینا ایجنڈے میں سرِفہرست ہیں۔‘

    عراقچی نے مزید کہا کہ ماسکو کے ساتھ اس دورے کے دوران ایک وقفے کے بعد مشاورت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ روسی حکام کے ساتھ ملاقاتیں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کا اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ’مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا، ساتھ ہی علاقائی امور، خاص طور پر خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی معاملات کو آگے بڑھانے پر بات ہوگی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دورہ ان کے حالیہ دورے کا تسلسل ہے جس میں پاکستان اور سلطنتِ عمان شامل تھے، جہاں مذاکرات کی تازہ صورتحال اور مشترکہ امور پر بات چیت کی گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق مسقط کے ساتھ تکنیکی مشاورت بھی جاری ہے۔‘

    عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان قریبی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

  7. ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ گئے

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوموار کی صبح روس کے شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’ایران کے سفیر کاظم جلالی اور بعض روسی حکام نے ان کا روس پہنچنے پر استقبال کیا۔‘

    اطلاعات کے مطابق عراقچی ’پرواز میناب 168‘ کے ذریعے روس پہنچے ہیں، واضح رہے کہ یہ وہی پرواز ہے کہ جس پر انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں شمولیت کے لیے ایرانی وفد کے ساتھ پاکستان کا سفر کیا تھا۔

    اس پرواز کو ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب کے ایک سکول پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں سے منسوب کیا گیا ہے۔

    اس دورے کا مقصد ’روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت‘ بتایا گیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    واضح رہے کہ روس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ نے اتوار کے روز مسقط کا دورہ کرنے اور عمانی حکام سے ملاقات کے بعد گزشتہ تین دنوں میں دوسری بار اسلام آباد کا سفر کیا، جہاں ماسکو روانگی سے قبل مختصر قیام کے دوران انھوں نے پاکستانی حکام سے بھی ملاقات کی تھی۔

  8. مالی کے وزیرِ دفاع علیحدگی پسندوں کے حملے میں ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتصویر میں بائیں جانب مالی کے ہلاک ہونے والے وزیرِ دفاع سادیو کامارا ہیں

    مالی کے وزیرِ دفاع دارالحکومت باماکو کے قریب اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے بظاہر ایک خودکش ٹرک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔

    متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق سادیو کامارا کی ہلاکت ملک بھر میں جہادی شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی جانب سے کیے گئے مربوط حملوں کی ایک لہر کا حصہ ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے چند گھنٹوں بعد ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

    اطلاعات کے مطابق مالی میں فوجی حکومت کے سربراہ جنرل اسیمی گوئتا کو ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    ادھر شمالی علاقے میں مالی کی فوج کی جانب سے معاوضے پر خدمات سر انجام دینے والے روسی فوجیوں نے دو روزہ جھڑپوں کے بعد کڈال شہر سے انخلا پر آمادگی ظاہر کی، یہ بات علیحدگی پسند گروپ ازواد لبریشن فرنٹ کی جانب سے بتائی گئی ہے۔

    مالی گزشتہ کئی برسوں سے القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ سے منسلک گروہوں کے ساتھ ساتھ ایف ایل اے کی بغاوتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار رہا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سادیو کامارا مالی کے فوج کے رکن رہ چُکے ہیں اور انھیں فوج کی جانب سے حکومت میں آنے کے بعد وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔

    کامارا کے اہلِ خانہ اور فرانسیسی میڈیا کے حوالے سے خبر رساں اداروں نے بتایا کہ سنیچر کے روز کاتی میں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے اس حملے میں کامارا کے خاندان کے کم از کم تین افراد بھی ہلاک ہوئے۔

    حکومتی ترجمان عیسیٰ عثمان کولیبالی نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا کہ کامارا اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک خودکُش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سے اُن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا اور ’کچھ کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہے، تاہم وہ زخمی ہو گئے اور بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمالی کے وزیرِ دفاع سادیو کامارا
  9. امریکہ، ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اضافہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایشیا میں پیر کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرا دور ایک بار پھر سے تعطل کا شکار دیکھائی دے رہا ہے۔

    عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت میں دو اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا اور یہ 107 اعشاریہ سات صفر ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا خام تیل دو اعشاریہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ 96 اعشاریہ چار صفر ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان بھیجے جانے والے وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں نہ صرف آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے بلکہ اس اہم تجارتی آبی گُزر گاہ سے آنے اور جانے والے مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ ’عمان کے ساتھ، جو آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع اس کا ہمسایہ ملک ہے دو طرفہ امور اور علاقائی پیش رفت سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہماری توجہ ان طریقوں پر مرکوز ہے جن کے ذریعے محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے جو تمام عزیز ہمسایہ ممالک اور دنیا کے مفاد میں ہو۔‘

    انھوں نے اپنے بیان کے آخر پر لکھا کہ ’ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری ترجیح ہیں۔‘

    عام طور پر دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. عباس عراقچی کا عمانی میزبانوں کا شکریہ: ’محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز رہی‘

    @araghchi

    ،تصویر کا ذریعہ@araghchi

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے عمانی میزبانوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں عراقچی نے لکھا ہے کہ وہ عمان میں اپنے شفیق میزبانوں کے شکر گزار ہیں۔

    ان کے مطابق ’عمان دورے کے دوران دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر اہم بات چیت ہوئی۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہماری توجہ ایسے طریقوں پر مرکوز رہی جن کے ذریعے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے، جو ہمارے تمام عزیز ہمسایوں اور دنیا کے مفاد میں ہو۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ’ہمارے ہمسائے ہماری ترجیح ہیں۔‘

  11. ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اچھی بات چیت ہوئی: عمانی وزیر خارجہ

    عمان کے وزیر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان کی ایرانی منصب کے ساتھ آبنائے ہرمز پر اچھی بات چیت ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ عباس عراقچی سنیچر کو پاکستان سے دورہ کرنے کے بعد عمان روانہ ہوئے تھے جہاں ان کی عمان کے سلطان کے ساتھ علاقائی پیش رفت اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    عمانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عراقچی کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

    @badralbusaidi

    ،تصویر کا ذریعہ@badralbusaidi

    بدر البوسعيدی نے لکھا کہ ’ساحلی ممالک کی حیثیت سے ہم بین الاقوامی برادری کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داری اور اس فوری انسانی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے حراست میں موجود ملاحوں کو رہا کیا جائے۔‘

    ان کے مطابق ’آزادیٔ نقل و حرکت کو پائیدار طور پر یقینی بنانے کے لیے وسیع سفارت کاری اور عملی حل درکار ہیں۔‘

  12. جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 14 ہلاک اور 37 زخمی: لبنانی وزارت صحت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارت صحت نےدعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اتوار کو جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حال ہی میں جنگ بندی میں مزید تین ہفتے کی توسیع کی گئی تھا۔

    وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ’دو بچوں اور دو خواتین سمیت 14 افراد ہلاک اور تین خواتین سمیت 37 زخمی ہوئے ہیں۔

  13. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی وفد کے ہمراہ روس روانگی

    بی بی سی فارسی نے کچھ دیر قبل خبر دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ اپنے دورے کو جاری رکھتے ہوئے روس روانہ ہو گئے ہیں۔

    عباس عراقچی کل ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت کرنے والے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل اسلام آباد اور مسقط کے دورے کے دوران پاکستانی اور عمانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

  14. مشتبہ حملہ آور کو حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، سی بی ایس کی رپورٹ

    @realDonaldTrump/ Truth Social

    ،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump/ Truth Social

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ واشنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کا مشتبہ حملہ آور اس وقت واشنگٹن ڈی سی کے شمال مغربی علاقے میں میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک تھانے میں زیرِ حراست ہے۔

    ان کے مطابق اسے آج بعد میں دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد پیر کے روز مشتبہ حملہ آور کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا تھا۔

  15. ایرانی وفد کا دورۂ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے تھا: ایرانی سفیر

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنسنیچر کے روز عباس عراقچی کی ملاقات وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ بھی ہوئی: فائل فوٹو

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کرنا تھا اور یہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے بتایا کہ یہ دورہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاقائی سفارتی دورے کے آغاز کا حصہ تھا۔ ان کے مطابق اس دوران پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام کی جانب سے مکمل تعاون رہا۔

    رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

    ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا: ایرانی سفیر

    ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پچھلے مرحلے کی طرح اس بار بھی ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا، جو پاکستانی حکام کی مؤثر منصوبہ بندی اور انتظامات کا نتیجہ تھا۔

    اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے فوج کے عملے، سکیورٹی فورسز، پولیس، سرکاری اداروں کے ملازمین اور بالخصوص اسلام آباد کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے اس عرصے کے دوران مہمان نوازی، تعاون اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

    انھوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنی ٹویٹ میں سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف ٹریفک پابندیاں ختم کیے جانے اور شہریوں کے صبر پر شکریہ کا اظہار کیا تھا۔

    انھوں نے لکھا تھا کہ ’ میں اہلِ پاکستان، بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے صبر اور تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی حمایت ہمیں اپنے مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور خطے میں امن کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کے قابل بناتی ہے۔‘

  16. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گزشتہ روز کی چند اہم خربں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • بکنگھم پیلس نے تصدیق کی ہے کہ کنگ چارلس کا امریکہ کا سرکاری دورہ ’منصوبے کے مطابق ہوگاـ‘ بکنگھم پیلس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ’دن بھر بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر ہونے والی بات چیت ‘کے بعد کیا گیا۔
    • ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی دارالحکومت ماسکو کے دورے کے دوران صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ کاظم جلالی نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ ماسکو میں ’مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال، جنگ بندی اور علاقائی پیش رفت کے بارے میں روسی حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے۔‘
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘
    • وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے درخواست کی ہے کہ 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کی جائے۔
  17. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبریں اور تجزیے شامل کرتے ہیں۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔