اب بہت ہوگیا حقوق کے لیے لڑنے کے دعوے دار بلوچ روایات کو پامال کررہے ہیں: ضیاء اللہ لانگو
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے لوگ انڈیا اور افغان طالبان کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اس لیے بلوچستان کے لوگوں کو ان کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے اور ان سے اپنے بچوں کو بچانا چاہیے۔
سینچر کو محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے ہمراہ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھر میں لوگوں نے 14 اگست کو جوش و خروش سے منایا جس پر وہ پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی وجہ سے ممکن ہوا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ بھی اپنے حلقہ انتخاب،قلات میں یوم آزادی منانے کے لیے ہیلی کاپٹر میں گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ کوئٹہ سے سکواڈ کی گاڑیاں اور لوگ نہیں گئے تھے اس لیے وہ کوئٹہ واپسی کے لیے ایس پی قلات کی گاڑی اور وہاں کے پولیس کے اہلکاروں کے ہمراہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ جب ان کا قافلہ ضلع مستونگ میں کُنڈ عمرانی کے قریب پہنچا تو ان پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے پہلے اس گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا جس میں، میں سوار تھا لیکن گاڑی کی ٹائروں کو گولیاں نہیں لگیں تاہم بعد ان کے سنائپرز نے مجھے نشانہ بنایا لیکن میں محفوظ رہا لیکن ان کی فائِرنگ سے میرے سکواڈ کے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب بہت ہوگیا۔ بلوچستان کے لوگوں کو نام نہاد آزادی اور بلوچوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے ان دعویداروں کے بارے میں سوچنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ بلوچ روایات کو پامال کررہے ہیں اور ان کے بقول خواتین کی بے توقیری سے بھی گریز نہیں کرتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے گذشتہ دس سال کے دوران قلات میں لوگوں بالخصوص خواتین کی سہولیات کے لیے 30 سے زائد ایمبولینس دیں جوان نام نہاد آزادی کے دعویدار چھین کر لے گئے ہیں۔‘
ان کا الزام تھا کہ ’اسی طرح وہ مقامی زمینداروں سے بھتہ کی وصولی کرتے ہیں جبکہ شاہراہوں پر ان کی مبینہ لوٹ مار اور ظلم و زیادتی کی وجہ سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ یہاں کے لوگوں کی عزت اور ناموس کے لیے جدوجہد نہیں کررہے ہیں بلکہ یہاں کے روایات کی پامالی کررہے ہیں کیونکہ ان کی قیادت انڈیا اور افغان طالبان کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوئی ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان کی باتوں میں نہیں آئیں بلکہ وہ ان سے اپنے بچوں کو بچائیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کوئی نو گو ایریا نہیں ہیں تاہم دہشت گرد موجود ہیں لیکن جب ان کے خلاف سکیورٹی فورسز کوئی کارروائی کرتے ہیں تو لوگ اور سول سوسائٹی حکومت اور سکیورٹی فورسز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔‘