پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ گیس باؤزر ٹرکوں کو نذرآتش کر دیا۔
انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سے کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان باؤزر کو نوکچاہ کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔
اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تاہم آگ کی وجہ سے ان ٹرکوں کے انجنوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ یہ گیس باؤزرز خالی تھے جو ایران کے سرحدی شہر تفتان ایل پی جی لینے جا رہے تھے۔
بلوچستان میں گذشتہ چند ماہ سے ایران سے ایل پی جی لانے والے گیس باؤزرز کے علاوہ معدنیات لے جانے والے مال بردار گاڑیوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
اب تک ان حملوں میں درجنوں باؤزرز، ٹرک اور کنٹینرز کو نقصان پہنچا ہے۔
تاجر رہنما صلاح الدین خلجی نے بتایا کہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ہونے والے حملوں کے علاوہ ایران کے ساتھ بارڈر مسائل کی وجہ سے سرحدی شہر تفتان میں 400 کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز قافلے کی صورت میں بعض مال بردار گاڑیوں کو تفتان سے کوئٹہ لانے کی کوشش کی گئی لیکن نوشکی کے قریب ان پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ گاڑیاں تاحال صوبائی دارالحکومت نہیں پہنچ سکیں۔
کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ کراچی شاہراہ سمیت دیگر شاہراہوں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے تاجر اور ٹرانسپورٹرز تشویش میں مبتلا ہیں۔
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کا کہنا ہے اہم قومی شاہراہوں اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو متحرک کیا جا رہا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان شاہراہوں میں چمن سے کراچی، تفتان سے کوئٹہ، اور کوئٹہ سے جیکب آباد اور ژوب تک کے راستے شامل ہیں۔
دوسری جانب ضلع واشک میں نامعلوم مسلح افراد نے شمسی کے علاقے میں متحدہ عرب امارات کے شیوخ کے فارم ہاؤس پر حملہ کر کے چھ گاڑیاں چھین کر لے گئے۔
ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایا کہ دو روز قبل ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ اس علاقے میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے شیوخ سردیوں کے موسم میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں۔