لائیو, امریکہ کے ایران پر نئے حملے، پاسداران انقلاب کا جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران میں گوروک اور جزیرہ قشم پر ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خلاصہ
امریکہ اور ایران جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ 50 فیصد منجمد اثاثے فوری جاری کیے جائیں: ایران کا مطالبہ
روس کی ایران اور عرب ممالک کے درمیان 'عدم جارحیت' کے معاہدے کی تجویز
عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا ہزاروں قیدیوں کو معافی دینے کا اعلان
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کے پیش نظر جامعہ کشمیر میں امتحانات ملتوی، انٹرنیٹ میں سست روی کی شکایات
لائیو کوریج
’لبنان کو اس کے حقیقی دشمن سے نجات دلائیں‘: لبنانی صدر کے بیان پر ایران کا ردعمل
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے
لبنان کے صدر جوزف عون کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ
مذاکرات میں لبنان ایران کا ’سودے بازی کا کارڈ‘ ہوتا تو تہران کافی پہلے واشنگٹن
کے ساتھ معاہدہ کر سکتا تھا۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے سی این این
کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران اور اس کی اتحادی حزب اللہ لبنان کو
امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ’سودے بازی کے ایک آلے‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ایران کے
مفادات کی قیمت لبنان کے عوام چکا رہے ہیں اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ
سے تھک چکے ہیں۔‘
جوزف عون نے ایران سے مطالبہ کیا تھا
کہ وہ ان کے ملک میں مداخلت نہ کرے اور حزب اللہ سے بھی کہا تھا کہ اسرائیل کے
ساتھ تنازع کا واحد حل سفارت کاری ہے۔
لبنان کے صدر نے اس گفتگو میں ایران
کے پاسداران انقلاب سے مخاطب ہو کر کہا تھا: ’یہ آپ کا نہیں، ہمارا ملک ہے۔ آپ کا
کام نہیں کہ ہمارے ملک میں مداخلت کریں۔‘
لبنانی
صدر کے اس انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ایکس پر لکھا: ’جوزف عون کے بیانات کے مطابق، بظاہر یہ ایران ہے جس نے لبنان کے
پانچویں حصے پر قبضہ کیا، ایک چوتھائی لبنانیوں کو بے گھر کیا اور ان کے ملک پر
روزانہ بمباری کرتا ہے۔ جناب صدر، لبنان کو اس کے حقیقی دشمن سے نجات دلائیں۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی کال کے پیش نظر رینجرز تعینات، مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ریفرنس کی آج سماعت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی
سپریم کورٹ میں مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت آج ہو رہی
ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ یہ کیس سن رہا ہے۔
چیف جسٹس نے اس کیس میں معاونت کے
لیے سپریم کورٹ کے دو سینیئر وکلا کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے، جبکہ عوام الناس
(پبلک ایٹ لارج) کو بھی کیس میں مدد کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، تاکہ متعلقہ
فریق یا دلچسپی رکھنے والے شہری اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں زیرِ سماعت
ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انہی مہاجر نشستوں کے معاملے پر نو جون کو پاکستان
کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ان 12 نشستوں میں سے 10 صوبہ
پنجاب میں واقع ہیں۔
دوسری جانب چند وکلا نے پاکستان کے
زیرِ انتظام کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کی تعیناتی کو بھی ہائی کورٹ
میں چیلنج کر رکھا ہے۔ چوہدری لطیف اکبر اس وقت قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ہیں اور
31 جنوری کو سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد سے قائم مقام صدر کی ذمہ
داریاں سنبھال رہے ہیں۔ درخواست گزار وکلا کا مؤقف ہے کہ صدر کا عہدہ ایک اہم
آئینی منصب ہے اور اسے طویل عرصے تک خالی نہیں رکھا جا سکتا۔
ممکنہ احتجاج اور ہڑتال کے پیش نظر
حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر بڑے
شہروں میں رینجرز تعینات کر دی گئی ہے۔
محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق
12 ہزار سے زائد رینجرز اہلکار مختلف علاقوں میں پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسلام آباد
پولیس کے تقریباً 1500 اہلکاروں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تا حکمِ ثانی انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ موبائل فون سروس بدستور فعال ہے۔
ادھر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے
وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی نمائندوں سے ملاقات
کی اور انھیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن
راجہ الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پُر امن ہوگا۔ ان کے
مطابق وہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل در آمد کا
مطالبہ کر رہے ہیں اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مہاجرین کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟ اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے بی بی سی کی یہ تحریر پڑھیں۔
صحرائے صحارا میں گاڑی خراب ہونے پر پھنس جانے والے 50 افراد پیاس سے ہلاک
حکام کے مطابق کم از کم 50 افراد نائجر کے شمالی حصے میں واقع صحراۓ صحارا کے ایک دور دراز علاقے میں اس وقت پیاس سے ہلاک ہو گئے جب ان کو لے جانے والا ٹرک خراب ہو گیا۔
یہ گروہ مالی سے واپس آ رہا تھا، جہاں وہ عید الاضحیٰ کی تقریبات میں شرکت کے لیے گیا تھا، لیکن راستے میں ان کا پانی ختم ہو گیا اور وہ اسمکہ سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) مغرب میں پھنس گئے، جو نائجر اور الجزائر کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔
اگادیز کے گورنر نے کہا، ’مسافرایک ایسے خطرناک ماحول کے بیچ میں پھنس گئے جہاں انتہائی درجہ حرارت اور سہولیات کی عدم دستیابی بقا کو نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔‘
صرف دو افراد زندہ بچ سکے، جو صحرا عبور کرتے ہوئے اسمکہ تک پہنچے اور وہاں حکام کو اطلاع دی۔
ایک مقامی این جی او کے سربراہ چیہو ازیزو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے خلاف ہم برسوں سے کام کر رہے ہیں۔‘
’ہم ڈرائیوروں، مسافروں اور نقل نکانی سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہر فرد کو صحرا عبور کرنے کے خطرات کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں۔ یہ حالیہ واقعہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ عام طور پر ہم لیبیا یا الجزائر جانے والے راستوں پر اس طرح کے واقعات دیکھتے ہیں۔‘
اس تازہ واقعے میں، اگادیز کے گورنر کے بیان کے مطابق، یہ گاڑی مالی کے شہر تلہنڈیک سے روانہ ہوئی تھی لیکن اپنے مقررہ راستے سے بھٹک گئی۔
ڈرائیور اور مسافروں نے کئی دنوں تک گاڑی کو ٹھیک کرنے کی بار بار کوشش کی، لیکن ان کی یہ کوششیں آخرکار ناکام ثابت ہوئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا، ’پانی سے محروم ہونے اور گاڑی کو ٹھیک نہ کر پانے کے باعث‘ زیادہ تر لوگ زندہ نہ رہ سکے۔
حکام کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’درجنوں لاشیں اس ناکارہ لاری کے نیچے اور اس کے اطراف سے ملی ہیں‘۔
متاثرین، جو سب کے سب نائجر کے شہری تھے، کو مقامی حکام کی جانب سے بھیجی گئی امدادی ٹیم نے اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا۔
،تصویر کا ذریعہAgadez governorate/Facebook
ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے واپسی کے دوران انھیں ایک اور خراب گاڑی نظر آئی جس میں 60 سے زائد افراد سوار تھے، جو بیٹری خراب ہونے کے باعث تین دن سے پھنسے ہوئے تھے۔
گورنر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لاری مالی کے شہر ہاروبا سے روانہ ہوئی تھی، جو نائجر کی سرحد سے 300 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔
ریسکیو ٹیم، جس میں نائجر کی فوج بھی شامل تھی، انھوں نے ’تھکے ماندہ اور پریشان حال مسافروں‘ میں پانی تقسیم کیا اور گاڑی کی مرمت میں مدد دی، جس کے بعد وہ محفوظ طریقے سے اپنا سفر دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہو گئے۔
نائجر کا صحرا اب بھی مغربی افریقہ بھر سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جو اس خطرناک سفر سے جڑے خطرات کے باوجود بار بار اسے اختیار کرتے ہیں۔
قریب ترین شہر اگادیز کے گورنر نے کہا کہ یہ سانحہ ان نوجوانوں کی ’کمزوری اور بے بسی‘ کو اجاگر کرتا ہے جو ہجرت اور سرحد پار معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اکثر بہتر زندگی کی تلاش میں غیر مستحکم علاقوں سے گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
امریکی فوج نے ایران میں گوروک اور جزیرہ قشم پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
،تصویر کا ذریعہx.com/CENTCOM
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے
ایک ویڈیو جاری کی ہے جو اس کے مطابق گوروک اور جزیرہ قشم میں ایران کے ریڈار
مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’بحری آمد و
رفت کو لاحق فوری نوعیت کے خطرے‘ کے جواب میں امریکی افواج نے ان مقامات کو نشانہ
بنایا۔
اس
سے قبل سینٹکام نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی طرف داغے گئے چار خودکش ڈرون
مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ایران کے چھ میزائل روکے، ساتواں ہدف تک نہ پہنچ سکا: سینٹکام
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام)
نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے ہمسایہ
ممالک کی طرف داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون روکے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ایکس پر لکھا کہ پہلے ایران نے آبنائے ہرمز کی طرف چار خودکش ڈرون داغے جنھیں مار
گرایا گیا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک
میزائل داغے۔
سینٹکام کے مطابق ابتدائی جائزوں سے
ظاہر ہوتا ہے کہ چھ میزائل روک لیے گئے جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک نہ پہنچ
سکا۔
امریکی
فوج نے یہ بھی کہا کہ امریکی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی
اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے سے
متعلق ایران کے دعوے ’غلط‘ ہیں۔
کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کویت میں امریکہ کے دو فضائی اڈوں اور بحرین میں
امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کی اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا
گیا۔
پاسداران
انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کی صبح ’امریکی فوج کے اکسانے پر اور اس کی رہنمائی
میں چار تیل بردار بحری جہاز غیر قانونی طور پر آبنائے ہرمز عبور کرنے کا ارادہ
رکھتے تھے۔‘
پاسداران
انقلاب کے مطابق اس کی بحریہ نے انتباہ بھی جاری کیا، جسے نظر انداز کیا گیا۔ اس
پر ایک بحری جہاز کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا اور دیگر واپس لوٹ گئے۔
پاسداران
انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے کے بعد ’امریکی ڈرونز نے قشم میں ایک مواصلاتی ٹاور اور
سیریک میں ایک ٹاور کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔‘
اس
سے پہلے امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے
ہرمز کی طرف داغے گئے چار ایرانی ڈرون مار گرائے اور پھر گوروک اور جزیرہ قشم میں
ایران کے ریڈار مقامات کو نشانہ بنایا۔
خطے میں امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسداران انقلاب
کے شعبۂ تعلقات عامہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گوروک اور جزیرہ قشم پر امریکی ’جارحیت‘
کے بعد خطے میں ’دشمن‘ کے اڈوں کو ایرانی فوج کی جانب سے ایروسپیس میزائلوں سے
نشانہ بنایا گیا۔
بحرین میں خطرے کا سائرن اور فضائی انتباہ جاری
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے
خطرے کے سائرن بجائے گئے ہیں اور ملک میں فضائی انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ انتباہ آبنائے ہرمز میں تازہ
جھڑپوں کے بعد اس وقت جاری کیا گیا جب کویت نے اعلان کیا کہ وہ میزائل اور ڈرون
حملوں کا نشانہ بنا ہے۔
بحرین
کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں لکھا: ’خطرے کا
سائرن بج چکا ہے۔ شہریوں اور رہائشیوں سے درخواست ہے کہ وہ پر سکون رہیں اور قریبی
محفوظ مقام پر چلے جائیں۔‘
فضائی دفاع کا نظام میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے: کویت
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کونا
نے ملک کی مسلح افواج کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کویت کا فضائی دفاع کا نظام سنیچر
کے روز حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے۔
کویتی فوج نے مزید کہا کہ دھماکوں کی
آوازیں فضائی دفاع کے نظام کی جانب سے اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے ہیں۔
کویت
کے فوجی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ
حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایک آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا: پینٹاگون
،تصویر کا ذریعہUniversal Images Group via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ
جمعرات کی شب بغیر پرچم والے ’ڈاوینا‘ نام ایک ایسے تیل بردار بحری جہاز کو بحر
ہند میں روک کر تلاشی لی گئی جس پر پابندیاں ہیں۔
امریکہ نے ایران کی بحری تجارت پر
محاصرہ نافذ کر رکھا ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران نے بعض جہازوں
کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کے لیے ان پر فائرنگ بھی کی۔
امریکی افواج نے حالیہ مہینوں میں
بحرِ ہند میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو روکا ہے۔
جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق
تیل بردار بحری جہاز ڈاوینا 20 لاکھ بیرل تک خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور
ایرانی تیل کی تجارت میں استعمال ہونے پر اکتوبر 2024 میں اس پر امریکہ نے
پابندیاں لگائی تھیں۔
بحری نگرانی کے نظام میرین ٹریفک کے
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جہاز لینور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور
اسے آخری بار پانچ جون کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔
شپنگ
کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پکڑے جانے کے وقت اس بحری جہاز میں تیل
کی کھیپ موجود تھی۔
امریکی فوج کا آبنائے ہرمز پر چار ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی طرف داغے گئے چار خودکش ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
کیا ہے۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون خطے
میں بحری آمد و رفت کے لیے فوری نوعیت کا خطرہ تھے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے
مزید حملوں کو روکنے کے لیے گوروک اور جزیرہ قشم میں ایران کے ساحلی نگرانی کے
ریڈار مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایران
کی کارروائیوں کو بلاجواز اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے سینٹکام نے یہ بھی کہا کہ
امریکی افواج بدستور چوکس ہیں اور اپنے دفاع کے لیے جوابی کارروائیاں کریں گی۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے کمی کا اعلان
پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں چار روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔
وزارت توانائی کے پیٹرولیئم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنستمبر 2025 کے دوران مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا منظر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے
محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی
میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے اقدام سے ریاست میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔
محکمۂ داخلہ کا الزام ہے کہ جموں وکشمیر
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کو ریاست کے خلاف اُکسایا، نفرت انگیزی کو فروغ دیا
اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔
اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان
کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 2014 کی شق 12 کے تحت جموں و
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست ’فرسٹ شیڈول‘ میں شامل کرنے
کی منظوری دے دی ہے۔
تاحال عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے اس
اعلامیے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں مظفر آباد سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کر چکی ہے اور اس کی جانب سے اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں، حکمران اشرافیہ کی مراعات اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
آئندہ منگل کو احتجاج کی کال کے پیش نظر جموں و
کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے
ہیں جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس سست روی اور تعطل کا شکار
ہے۔
یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے
مطالبات کے حق میں نو جون کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جبکہ آئی جی کشمیر
ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی
سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی
حکومت نے کہا تھا کہ احتجاج کے نام پر ’کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے
گا۔‘
دریں اثنا کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے
انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی
صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے
کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
ربوہ میں ’نامعلوم افراد‘ کی ایک گاڑی پر فائرنگ، احمدی برادری کے تین افراد زخمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پنجاب کے شہر چنیوٹ کے علاقے چناب نگر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ربوہ میں ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں تین افراز زخمی ہو گئے ہیں اور ان میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔
تھانہ چناب نگر میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ربوہ، جو کہ احمدی برادری کا ایک مقدس مقام ہے، کی حفاظت کے لیے کچھ مقامی افراد گاڑی پر علاقے کا گشت کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس دوران ایک موٹر سائیکل، جس پر دو افراد سوار تھے، نے پیٹرولنگ کرنے والی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں موجود تین افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس اہلکار کے مطابق نامعلوم افراد نے ’اندھا دھند اس گاڑی پر فائرنگ کی‘ جس میں پولیس کے بقول پانچ افراد سوار تھے اور ان سب کا تعلق احمدی برادری سے ہے۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کہ تمام علاقے کو ’گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔‘ پولیس کے مطابق شہر کی ناکہ بندی بھی شروع کر دی گئی ہے تاہم ابھی تک کوئی شخص گرفتار نہیں ہوا۔
مقامی پولیس کے مطابق زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں پر ایک زخمی شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ربوہ میں ایک حملے کی کوشش ناکام بنائی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور احمدیوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا ہزاروں قیدیوں کو معافی دینے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دو ہزار سے زائد قیدیوں کی سزائیں معاف یا کم کر دی ہیں، یہ بات سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے رپورٹ کی ہے۔
پریس ٹی وی کے مطابق ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژئی کی جانب سے رحم کی اپیل منظور کیے جانے کے بعد بیشتر قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔
تاہم دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی سے متعلق جرائم، بشمول جاسوسی کے الزامات میں قید افراد کو اس معافی میں شامل نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ ایران میں دسمبر میں ملک گیر احتجاج کے بعد ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، یہ احتجاج پہلے سے جاری معاشی بحران کے تناظر میں ہوا تھا جسے کئی دہائیوں سے امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں نے مزید شدت دی ہے۔
ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ، 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا: امریکی دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے آغاز کے بعد سے اب تک 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے، جبکہ چھ دیگر جہازوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ متعلقہ قواعد پر عمل پیرا ہو سکیں۔
سینٹکام کے مطابق یہ اقدامات اپریل میں شروع کیے گئے بحری محاصرے کے تحت کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
امریکہ اور ایران جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنآئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفال گروسی
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رفال گروسی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس سے فریقین کو باقی مسائل حل کرنے کے لیے وقت مل سکے گا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رفال گروسی نے کہا کہ ادارہ دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم وہ براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری رائے میں دونوں فریق اس بات کے قریب ہیں کہ ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق ہو جائے جو انھیں مختلف مسائل کا جائزہ لینے کے لیے وقت فراہم کرے۔‘
رفال گروسی نے یہ بیان ویانا میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے بعد دیا۔
یہ اجلاس مصر، اردن، مراکش اور سعودی عرب کی درخواست پر بلایا گیا تھا، جس کی وجہ گذشتہ ماہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ تھا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے رفال گروسی نے ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
جرمنی کی شہریوں کو بحرین اور کویت کا سفر نہ کرنے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی نے اپنے شہریوں کو بحرین اور کویت کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ نے خاص طور پر بحرین کے سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بدستور ’انتہائی غیر مستحکم‘ ہے۔
جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہوائی پروازوں پر نمایاں پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے کے وسط میں ایران نے بحرین اور کویت میں اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
ایران کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی قشم جزیرے پر ٹیلی کمیونیکیشن مرکز پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی دعویٰ بے بنیاد، ہمارے جہازوں پر کوئی وارننگ فائر نہیں کیا گیا: امریکی فوج
امریکی فوج نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر وارننگ شاٹس فائر کیے تھے، اور کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا:’ایرانی افواج نے امریکی بحری جہازوں پر نہ کوئی حملہ کیا ہے اور نہ ہی ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔ ایسا کرنا جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہوتا۔‘
اس سے قبل ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا تھا کہ ملک کی بحریہ نے بحیرۂ عمان میں امریکی ڈسٹرائرز پر وارننگ شاٹس فائر کیے۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے ایسی ویڈیوز بھی نشر کیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ وارننگ فائر کے مناظر ہیں، جن میں ایک موبائل لانچر سے میزائل فائر کرتے ہوئے اور ایک ڈرون کے اڑان بھرنے کے لمحات دکھائے گئے۔
ایرانی فوجی بیان کے مطابق یہ کارروائی امریکی بحریہ کی جانب سے ’سمندری خلاف ورزیوں، ہراسانی اور تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے اغوا” کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ تھی۔
تاہم امریکہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کے پیش نظر جامعہ کشمیر میں امتحانات ملتوی، انٹرنیٹ میں سست روی کی شکایات, نصیر چوہدری، صحافی
،تصویر کا ذریعہYahya
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں
احتجاج کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات
تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے ہیں، جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس
سست روی اور تعطل کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی
نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون (منگل) کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جبکہ
آئی جی کشمیر ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے
اضافی سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام
کشمیر کی حکومت نے کہا ہے کہ احتجاج کے نام پر کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے
دیا جائے گا۔
جامعہ کشمیر کی جانب سے جاری کردہ
پریس ریلیز کے مطابق بی ایس، اے ڈی، ڈی پی ٹی اور ایل ایل بی پروگرامز کے وہ
ٹرمینل امتحانات جو آٹھ جون سے شروع ہونا تھے، انھیں ملتوی کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر مبشر نقوی کے مطابق امتحانات کے نئے شیڈول کا اعلان بعد
میں کیا جائے گا۔
کشمیر کے مختلف شہروں سے شہریوں نے
انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ عمران میر نامی ایک شہری کے
مطابق جمعہ کی دوپہر سے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے اور پیغامات بھیجنے اور موصول کرنے
میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر لیاقت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاج کی کال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی سکیورٹی نفری طلب کی گئی ہے۔
آئی جی پولیس کے مطابق امن و امان برقرار رکھنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی مقام پر جانی یا مالی نقصان سے بچنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاق سے طلب کی گئی اضافی نفری کا ایک حصہ پہلے ہی پہنچ چکا ہے، جبکہ حالات کے مطابق ضرورت پڑنے پر مزید اہلکار بھی طلب کیے جا سکتے ہیں۔
کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔