لائیو, یمنی حوثیوں کے متعدد سعودی شہروں پر حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی، سعودی عرب کا ’فیصلہ کُن جواب‘ دینے کا اعلان

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

خلاصہ

  • سعودی عرب کی حوثیوں کے متعدد شہروں پر حملوں کی شدید مذمت، خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی
  • ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر اسلامی ممالک ذمہ دارانہ ردِعمل دیں: عباس عراقچی
  • بین الاقوامی جوہری تنظیم کے بورڈ آف گورنرز نے قرارداد منظور کی تو تہران جوابی کارروائی کرے گا: اسماعیل بقائی
  • سعودی عرب نے یمن کے متعدد علاقوں کو 'فضائی حملوں اور کروز میزائلوں' کے ذریعے نشانہ بنایا: حوثیوں کا الزام
  • ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے

لائیو کوریج

  1. ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر اسلامی ممالک ذمہ دارانہ ردِعمل دیں: عباس عراقچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نئے سیکریٹری جنرل سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلامی ممالک کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے اور طاقت کے استعمال اور جارحیت کا مقابلہ کرنا چاہیے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل مقرر ہونے پر حسین ابراہیم طٰہٰ کو مبارکباد دی اور ان کے نئے منصب میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ نئے سیکریٹری جنرل اسلامی دنیا کو درپیش حالات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ’اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی رابطے کو فروغ دینے میں تنظیم کی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائیں گے۔‘

    گفتگو کے دوران عراقچی نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کے بعد خطے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’اسلامی ممالک کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر ذمہ دارانہ ردِعمل دینا چاہیے اور طاقت کے استعمال اور جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔‘

  2. امریکہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے نئے میزائلوں سے ’دوٹوک پیغام‘ مل گیا: محسن رضائی

    Irna

    ،تصویر کا ذریعہIrna

    ،تصویر کا کیپشنایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو حالیہ دنوں میں ایران کے نئے میزائلوں کے حوالے سے ’دوٹوک پیغام‘ مل چکا ہے۔

    محسن رضائی نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ ’معاشی جنگ کا جواب خلیجِ فارس میں سمندری آمدورفت کے لیے ممنوع زون قائم کرکے دیا جائے گا، جو ناکہ بندی کے علاقے تک پھیلا ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف ہماری عملی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے۔‘

    گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حکام دعویٰ کر چکے ہیں کہ انھوں نے بحری جہاز شکن ہتھیاروں کے ذریعے خلیجِ فارس میں دو امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

    محسن رضائی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’پہلی بار ہم نے ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ ڈسٹرائر میزائل کا تجربہ کیا۔ اس میزائل نے امریکیوں کے لیے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہو گئے۔‘

    حال ہی میں ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابنِ رضا نے بھی کہا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

    دو روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی بظاہر اپنے دو بحری جہازوں پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے، کہ اگر آپ ہمارے دو بحری جہازوں پر فائرنگ کریں گے تو ہم آپ پر کہیں زیادہ بھاری معاشی قیمت عائد کریں گے اور آپ کے تین بحری جہاز تباہ کر دیں گے۔‘

  3. سعودی عرب کی حوثیوں کے متعدد شہروں پر حملوں کی شدید مذمت، خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہے۔‘

    وزارت کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایوں کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے حوثیوں کے جارحانہ طرزِ عمل اور مجرمانہ کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔‘

    سعودی انتظامیہ نے حوثیوں کی جانب سے امن کی تمام کوششوں کو مسلسل مسترد کیے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب کو اپنی خودمختاری کے دفاع، قومی وسائل کے تحفظ اور ملک میں موجود شہریوں اور غیر ملکیوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور قومی مفادات کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں گے۔‘

    سعودی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘

    سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں سے ہر قسم کی کشیدگی فوری طور پر ختم کرنے اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرات کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔

    سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

  4. یمنی حوثیوں کے متعدد سعودی شہروں پر حملوں میں 73 افراد زخمی، سعودی عرب کا ’فیصلہ کُن جواب‘ دینے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

    حوثی جنگجو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں۔ انھوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب پر حملے کیے ہیں اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان نے حالیہ لڑائی میں اضافے کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک اور اوپیک کے عملاً قائد سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    کرنل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اتحاد ان دہشت گرد ملیشیاؤں کو روکنے اور ان کے جارحانہ طرزِ عمل کا فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے جیزان اور نجران سمیت مختلف شہروں میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے گزشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ نئے حملوں میں جیزان میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور حکام نقصان کی شدت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آرامکو نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  5. صوبے سیستان و بلوچستان میں ’تکفیری‘ گروہوں سے وابستہ تین سیل ’ختم‘ کر دیے گئے: ایرانی سکیورٹی حکام

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے سکیورٹی حکام نے پیر کو رات گئے یہ دعویٰ کیا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ قرار دیے جانے والے ’تکفیری (شدت پسند) گروہوں‘ سے وابستہ تین منظم اور فعال ٹھکانوں کو شناخت کے بعد انھیں سرحدی علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘

    حکام کے مطابق ان سیلوں کے ارکان کو سرحد میں داخل ہوتے ہی سکیورٹی فورسز نے روک لیا اور کارروائی کے نتیجے میں انھیں کسی بھی آپریشن سے قبل ہی غیر مؤثر بنا دیا گیا۔

    ان افراد کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایران کے اندر خبر رساں اداروں، جن میں سرکاری خبر رساں ادارہ ارنا بھی شامل ہے، نے خطے میں ایرانی فورسز کی ایک کارروائی کی معلوم ہونے والی ویڈیو جاری کی ہے۔

  6. یمنی فوج کا سعودی عرب کا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    یمنی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے پیر کی شب جاری اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’یمنی فوج نے وسطی یمن کے صوبے البیضاء کے اوپر سعودی فوج کے ’ونگ لونگ ٹو‘ نامی مسلح جاسوس ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    یحییٰ سریع کے مطابق یہ ڈرون علاقے میں ’دشمن کی جانب سے نگرانی اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیاں‘ انجام دنے کی غرض سے علاقے پر پرواز کر رہا تھا کہ اسی دوران اسے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔‘

    یمنی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مار گرایا جانے والا یہ سعودی عرب کا تیسرا ڈرون ہے۔‘

    یمنی مسلح افواج نے جولائی میں آبنائے باب المندب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ یمنی فورسز نے یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن میں ان کے زیرِ قبضہ علاقوں کی ناکہ بندی کی مذمت کے بعد کیا تھا۔

  7. کشیدگی کم کرنے کے لیے قطری وفد کی تہران آمد: ایرانی دفترِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ’قطر کا ایک سفارتی وفد ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے تہران پہنچا ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو بتایا کہ ’قطری وفد نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق قطری وفد کے دورۂ تہران کا مقصد خطے میں ’کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنا‘ ہے۔

  8. بقائی کا ایران پر امریکی معاشی دباؤ کی حمایت پر کینیڈا کو جواب: ’یہ قانون شکنی میں معاونت ہے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کینیڈا کے وزرائے خارجہ اور خزانہ کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے جس میں کینیڈا نے ایران کے خلاف امریکی معاشی بائیکاٹ مہم میں اپنی شرکت کی حمایت کی ہے۔

    اسماعیل بقائی نے پیر سات ستمبر کو کہا کہ ’جس دن امریکی صدر نے کینیڈا کی خودمختاری اور آزادی کی توہین کرتے ہوئے پورے ملک کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دیا، اسی دن کینیڈا کے وزرائے خارجہ اور خزانہ نے ایک بار پھر اپنے دھونس جمانے والے ہمسائے کی خوشامد کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، اس بار حقائق کو مسخ کرنے والے بیان کے ذریعے ایران کو نشانہ بنا کر۔‘

    بقائی کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند اور وزیرِ خزانہ فرانسوا فلپ شامپین کے مشترکہ بیان کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں انھوں نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے ایران سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ’عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں‘ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    کینیڈین حکام نے اپنے بیان میں بالخصوص ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف مسلسل دھمکیوں‘، ’غیر قانونی جوہری سرگرمیوں کے حصول‘ اور ’خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت‘ کا ذکر کیا۔

    کینیڈا کے وزرائے خارجہ اور خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اوٹاوا گروپ آف سیون (جی سیون) کے دیگر ارکان کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے، فرانس اور برطانیہ کے ہمراہ آبنائے ہرمز کھولنے کی امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ان بیانات کے ردِعمل میں بقائی نے پیر کو کہا ’یہ نہ تو سفارت کاری ہے اور نہ ذمہ دار طرزِ حکمرانی کی علامت، بلکہ یہ سٹریٹجک الجھن اور دھونس کے سامنے جھکنے کی علامت ہے، ایسا انتخاب جو خود کینیڈا کو بھی مزید امریکی جارحیت اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنا سکتا ہے۔‘

  9. ہم امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں: ایران کی وزارتِ دفاع

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابنِ رضا

    ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابنِ رضا نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایرانی مسلح افواج کے پاس امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔‘

    گزشتہ چند روز کے دوران ایرانی حکام دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایرانی افواج نے بحری جہاز شکن ہتھیاروں کے ذریعے خلیجِ فارس میں دو امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی افواج نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ ڈسٹرائر میزائل کا تجربہ کیا۔ اس میزائل نے امریکیوں کے لیے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہو گئے۔‘

    تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے اس دعوے پر براہِ راست کوئی ردِعمل نہیں دیا جبکہ اس نے گزشتہ روز ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بظاہر اپنے دو بحری جہازوں پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے، اگر آپ ہمارے دو بحری جہازوں پر فائرنگ کریں گے تو ہم آپ پر کہیں زیادہ نقصان پہنچائیں گے اور آپ کے تین بحری جہاز تباہ کر دیں گے۔‘

    سینٹکام نے مزید کہا کہ ’ہم امریکی افواج کے دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے محدود اور کمزور بیڑے کو تباہ کر دیں گے۔‘

  10. ایرانی وزیرِ خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت، آبنائے ہرمز اور عمان سے روابط پر غور

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بتایا ہے کہ ’وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں دیگر امور کے علاوہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر کیے گئے اقدامات اور ایران و عمان کے باہمی روابط، بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ابراہیم عزیزی نے پیر کو پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اجلاس میں بطور مہمان شریک ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’اجلاس میں ملک اور خطے کی موجودہ صورتحال سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ مفاہمتی یادداشت سے متعلق کیے گئے اقدامات اور ایران و عمان کے درمیان روابط، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔‘

  11. بین الاقوامی جوہری تنظیم کے بورڈ آف گورنرز نے قرارداد منظور کی تو تہران جوابی کارروائی کرے گا: اسماعیل بقائی

    IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں یورپی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے قرارداد کے نئے مسودے کے حوالے سے، جس کے نتیجے میں ایران کا جوہری معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جا سکتا ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو ایران جوابی کارروائی کرے گا۔‘

    اس قرارداد کے بارے میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یورپی ممالک جب دوسرے معاملات میں ناکام ہوتے ہیں تو جوہری معاملے کا سہارا لیتے ہیں، یا اس کے برعکس، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل خود سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ اقدام ایران، چین اور روس کے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ ’سنیپ بیک کا طریقۂ کار غیر قانونی اور ناقابلِ عمل ہے۔‘

    بقائی نے قرارداد کے اس مسودے کی تیاری کو ’ایک نقصان دہ راستے کی تکرار‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے جوہری معاملے کے حوالے سے تین یورپی ممالک ’حاشیے پر چلے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے باعث ’راستہ مسدود ہو چکا ہے‘ اور اب ایجنسی کے لیے ان تنصیبات کا معائنہ کرنا ممکن نہیں۔‘

    یورپی ممالک اور آئی اے ای اے ایران کی جوہری تنصیبات، بالخصوص ان تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جنھیں حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

  12. قرارداد کا نتیجہ کچھ بھی ہو، ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ ایجنسی سے تعاون کرے: رافائل گروسی, ویانا میں بی بی سی فارسی کے نمائندے بہرنگ تاج الدین کی رپورٹ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی

    اگر مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے منظور کر لیا اور ایران کے جوہری معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیج دیا گیا تو دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کی پریس کانفرنس کے دوران جب بی بی سی فارسی کے نمائندے بہرنگ تاج الدین نے ان سے پوچھا کہ ’ان کے خیال میں ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے سے ایران میں متنازع تنصیبات کے معائنے دوبارہ شروع کرنے کی ایجنسی کی کوششوں پر کیا اثر پڑے گا؟‘

    تو گروسی نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا تاہم انھوں نے زور دیا کہ ’اگر ایران ایجنسی کے ساتھ تعاون کی جانب بڑھتا ہے تو جنگ دوبارہ شروع ہونے اور اس کے مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔‘

    گروسی نے کہا کہ ’مثبت نتیجے تک پہنچنے کا بہترین اور تیز ترین راستہ یہ ہے کہ ایران ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ اگر ایران ہمارے ساتھ سنجیدہ مذاکرات شروع کرتا ہے اور ہمیں رسائی دینا شروع کر دیتا ہے، سکیورٹی اور رازداری سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، تو مجھے یقین ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے بہت مثبت نتائج ہوں گے۔‘

    آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران اور ایجنسی کے درمیان تعاون شروع ہوتا ہے تو مغربی ممالک اس عمل کو ’تحفظ اور حمایت‘ فراہم کریں گے اور یہ صورتحال جنگ کے بجائے امن کے قیام میں مدد دے گی۔‘

  13. ملک میں جنگ کے دوران 27 ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچا: ایرانی انتظامیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسیٹلائٹ تصویر میں ایران کے بوشہر ایئرپورٹ کے ایپرن ایریا میں تباہ شدہ طیارے اور نقصان کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

    ایران میں ہوائی اڈوں کے نگران ادارے کے سربراہ مرتضیٰ دہقان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ’جنگ کے نتیجے میں ملک کے ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے اعداد و شمار بتائے اور کہا ہے کہ تہران سمیت مُلک کے 27 مختلف ہوائی اڈوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘

    مرتضیٰ دہقان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہوائی اڈوں کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا، جن میں رن وے، حفاظتی عمارتیں، فضائی نیویگیشن اور معائنے سے متعلق سہولیات اور مسافر ٹرمینلز شامل ہیں۔‘

    ایران کی ایئرپورٹس کمپنی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’ان کی دوبارہ تعمیر ایک مشکل کام تھا، لیکن اسے کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔‘

    گزشتہ موسمِ گرما میں ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد سے ہوائی اڈوں کے علاوہ متعدد طیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ بوشہر ایئرپورٹ ’مکمل طور پر تباہ‘ ہو چکا ہے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض تین روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    عائشہ فیض

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عائشہ فیض

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیا ہے۔

    ڈاکٹر عائشہ فیض کو گذشتہ سینیچر کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ پیر کو انھیں سیشن کورٹ میں قائم انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر ون میں پیش کیا گیا۔

    عدالت کے جج محمد علی مبین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر عائشہ فیض کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

    ڈاکٹر عائشہ فیض طویل عرصے تک کوئٹہ کے سنڈیمن پروونشل ہسپتال میں پولیس سرجن کے طور پر خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔ وہ چند ماہ قبل سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئی تھیں۔

    ان کا تعلق ضلع مستونگ سے ہے اور وہ معروف قوم پرست سیاسی رہنما فیض محمد دہوار کی صاحبزادی ہیں۔

    چند روز قبل وزیراعلیٰ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں انگوروں کے باغات کاٹنے سے متعلق بیان کے ردعمل میں ڈاکٹر عائشہ فیض نے ایک سخت بیان جاری کیا تھا اور بعد ازاں پریس کانفرنس بھی کی تھی۔

    پولیس کے مطابق ان کی پریس کانفرنس اور بیانات کی بنیاد پر دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمہ سی ٹی ڈی نے درج کیا ہے، جس میں ان پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    تاہم ڈاکٹر عائشہ فیض یا ان کے وکلا کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  15. خواتین اور بچوں کے سامنے قتل ناقابلِ معافی جرم، وزیر داخلہ کی عبدالرحمان لانگو کے قتل کی مذمت, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    میر عبدالرحمان لانگو

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنمیر عبدالرحمان لانگو

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) ضلع نوشکی کے صدر میر عبدالرحمان لانگو کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند عناصر ہر اُس شخص کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں جو بلوچ عوام کی خدمت، فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرتا ہے۔

    میر عبدالرحمان لانگو گزشتہ روز نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ آوروں نے بلوچ روایات اور اقدار کو پامال کرتے ہوئے چادر اور چاردیواری کا تقدس مجروح کیا اور گھر میں گھس کر میر عبدالرحمان لانگو کو نشانہ بنایا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے سامنے ایک معزز قبائلی و سیاسی شخصیت کو قتل کرنا ایسا فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل بلوچ روایات کا عکاس نہیں بلکہ ایسے عناصر کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے جو بیرونی قوتوں کے ایما پر خطے میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ عبدالرحمان لانگو ایک دیانتدار، مخلص اور عوام دوست شخصیت تھے۔ وہ ہر وقت عوام کے درمیان موجود رہتے اور بالخصوص غریب اور مستحق افراد کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوشش کرتے تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ شدت پسند عناصر ان تمام افراد کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں جو بلوچ عوام کے حقوق اور فلاح کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میر عبدالرحمان لانگو کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  16. ای سی سی کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری، تمباکو کی فصل کے لیے کم از کم اشاریاتی قیمتوں اور دیگر اہم امور پر غور کیا گیا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی نے 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران سربراہانِ مملکت کی نقل و حرکت کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔

    کابینہ ڈویژن نے اس مقصد کے لیے 12 ارب 60 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی) طلب کی تھی، تاہم ای سی سی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی منظوری دی۔

    کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ اگر مزید گاڑیوں کی ضرورت پیش آئے تو پہلے ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور اضافی ضرورت کی صورت میں نئی سمری منظوری کے لیے پیش کی جائے۔

    اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے تمباکو کی فصل کی کم از کم اشاریاتی قیمتوں اور سیس کی شرح میں تبدیلی سے متعلق سمری بھی پیش کی گئی۔

    ای سی سی نے تفصیلی بحث کے بعد قرار دیا کہ اس تجویز کو مزید مضبوط تجزیے اور ٹھوس دلائل کی ضرورت ہے، لہٰذا معاملہ مؤخر کر دیا گیا۔ وزارت کو ہدایت کی گئی کہ وہ جامع جواز اور اضافی تجزیے کے ساتھ تجویز دوبارہ پیش کرے۔

    کمیٹی نے گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق مسائل کے حل کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا۔ ای سی سی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تجویز کردہ حفاظتی شرائط اور اقدامات کے ساتھ اس کی منظوری دے دی۔

    اجلاس میں فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظامات کے تحت 30 ستمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔

    ای سی سی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی درخواست پر دانش سکولز اتھارٹی فنڈ کے لیے پانچ ارب روپے بطور ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کی منظوری بھی دی۔ یہ فنڈ اینڈومنٹ فریم ورک کے تحت برقرار رکھا جائے گا۔

    اجلاس میں پاکستان سکلز امپیکٹ بانڈ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ای سی سی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ہدایت کی کہ وہ 30 ستمبر 2026 تک اس منصوبے میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کی تفصیلات پیش کرے۔ اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان کی ضمانت میں بھی توسیع کی منظوری دی گئی۔

  17. حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 358 روپے77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 72 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 8 ستمبر کے لیے ہوں گی۔

  18. اسرائیلی حملوں میں دو بچوں اور چار خواتین سمیت 12 افراد ہلاک: لبنانی وزارت صحت

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے، چار خواتین اور ایک پیرامیڈک شامل ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق نبطیہ شہر کے قریب واقع قصبے کفر رمان میں رات کے وقت ہونے والے ایک حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے، جس میں ایک تین منزلہ رہائشی عمارت تباہ ہو گئی، جبکہ اسی قصبے میں ایک گاڑی پر ہونے والے ایک اور حملے میں ایک پیرامیڈک ہلاک ہوا۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق عمارت پر حملے میں مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں تین بچے اور ایک پیرامیڈک شامل ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے رات کو جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے منسلک کئی مقامات کو نشانہ بنایا اور اس کے بقول ان حملوں میں ان ہی افراد کو نشانہ بنایا گیا جنھیں اسلحہ منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اس کے فوجیوں کی طرف دھماکا خیز مواد سے لدے دو ڈرون بھیجے جانے کے جواب میں کی گئی۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے پیدا ہونے والے ’خطرات کو ختم کرنا‘ تھا۔

    یہ حملے جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق تین دنوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    لبنان کے صدر جوزف عون ان کارروائیوں کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دے رہے ہیں، جو ان کے بقول جون میں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

    انہوں نے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

  19. توانائی کی برآمدات اور تجارت کو امریکہ، ایران جنگ میں یرغمال نہیں بننے دیں گے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنی توانائی کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے متبادل راستے تعمیر کر رہا ہے تاکہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث ’یرغمال‘ نہ ہوں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قرقاش نے ابو ظہبی میں ایک فورم پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری توانائی کی برآمدات، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔‘

    انھوں نے اپنے خطاب کے دوران ایران کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی بحالی کو خارج الامکان تو قرار نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

    انور قرقاش نے خلیجی عرب ریاستوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ایران کے معاملے میں مشترکہ ردعمل دینے میں ناکام رہیں۔

  20. سعودی عرب کے آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کے بعد عملے کے 16 اراکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا: عمان

    عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد اس نے عملے کے 16 ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

    ’سدر‘ ان دو سپر ٹینکروں میں سے ایک تھا جو سعودی تیل لے جا رہے تھے اور جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ ہفتے پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت انہیں نشانہ بنایا گیا تھا۔

    سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ قومی شپنگ کمپنی کی ملکیت اس ٹینکر پر حملے کے نتیجے میں دو فلپائنی ملاح ہلاک ہو گئے تھے۔