آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے: شہباز شریف
  • امریکہ، ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے کی باضابطہ تقریب 19 جون (جمعہ) کو سوئٹزر لینڈ میں ہو گی: شہباز شریف
  • صدر ٹرمپ نے امن معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی منظوری بھی دے دی ہے
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی سرکاری میڈیا پر امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے
  • قطر اور برطانوی وزرائے اعظم سمیت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کا امن معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    15 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. امن معاہدے کی خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت میں 3.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اب یہ 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا۔

    پاکستان کے مطابق اس امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

  3. ایرانی سرکاری میڈیا امریکہ کے ساتھ معاہدہ مفاہمت کے کون سے نکات رپورٹ کر رہا ہے؟

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ ایسی خبریں نشر کر رہے ہیں جنھیں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے مسودے کی تفصیلات قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم ان نکات کی تاحال باضابطہ طور پر کسی بھی ملک کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ نکات کچھ یوں ہیں:

    • لبنان سمیت تمام محاذوں پر مستقل جنگ بندی
    • امریکہ کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد
    • امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
    • 30 دن کے اندر ’ایرانی انتظام‘ کے تحت آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا
    • امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے فراہم کرنا
    • ایرانی تیل اور توانائی کی مصنوعات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
    • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے عزم کی توثیق
    • امریکہ کا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرنے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ

    مہر نیوز ایجنسی نے مزید رپورٹ کیا کہ ’حتمی مذاکرات اُس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک ایران کے منجمد فنڈز کا کم از کم نصف حصہ جاری نہیں کر دیا جاتا، ایران پر عائد تیل کی پابندیاں معطل نہیں کی جاتیں، اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی۔‘

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے دی جائے گی۔

  4. ’آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کتنی تیزی سے ہوگی، اس کا اندازہ لگانا فی الحال ممکن نہیں‘, جوناتھن جوزف، بی بی سی بزنس رپورٹر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

    یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، تنازع سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

    تاہم توقع ہے کہ اس راستے سے ہونے والی تجارت کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا، کیونکہ شپنگ کمپنیاں پہلے اس بات کا یقین کرنا چاہیں گی کہ معاہدہ مؤثر اور پائیدار ہے۔

    دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اُن کے عملے اور جہازوں کی سلامتی اُن کی اولین ترجیح ہے۔

    ابتدائی طور پر جہازوں کی نقل و حرکت آبنائے ہرمز کی مشرقی سمت میں ہونے کا امکان ہو گا کیونکہ تقریباً 2,000 بحری جہاز، جن پر قریباً 20,000 ملاح سوار ہیں، فروری کے آواخر سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

    اس ضمن میں سب سے موزوں مثال 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد بحیرہ احمر کے راستے کی بندش ہے، جس کے بعد بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے میں تقریباً دو سال کا وقت لگا تھا۔

    تاہم امکان ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اس سے کہیں زیادہ تیز ہوگی، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے زیادہ اہم ہے اور اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔

    اس کے باوجود یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ عمل کتنی جلدی مکمل ہوگا۔

  5. امریکہ، اسرائیل کے پاس شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا: خاتم الانبیا فورس, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی

    ایران کی اعلیٰ عسکری کمان، خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز، نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عوام نے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر اور خطے میں تہران کے حامی گروہوں اور اتحادیوں کے تعاون سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کے پاس ’شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔‘

    خاتم الانبیا فورس کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان اس بیانیے کے عین مطابق ہے، جو ایران کا سرکاری ٹیلی ویژن اس معاہدے کو ایران کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے لیے اختیار کیے ہوئے ہے۔

    اس دوران ایران کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف تنقید میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

    معاہدے پر تنقید کرنے والوں میں سے بعض نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر قالیباف، جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مؤقف سے ’غداری‘ کی ہے۔

    اپنی وفات سے چند ہفتے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا ’دانشمندانہ‘ فیصلہ نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے سے ایران سے مسائل ’حل‘ ہو پائیں گے۔

  6. جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی آزادانہ نقل و حمل شروع ہو جائے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے وہ کامیابی حاصل کی ہے جس میں دیگر رہنما ناکام رہے ہیں۔

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لے کر آئے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’بہت سے (امریکی) صدور نے ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی، مگر مجھ سے پہلے والے تمام (صدرو) ناکام رہے۔ خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار ایک ایسا صدر (یعنی ٹرمپ) ملا ہے جو انھیں حقیقی امن حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمعہ کو معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا تاکہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل شروع کیا جا سکے، اور اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے لیے تیل کی ترسیل دوبارہ بحال ہو جائے گی۔‘

  7. برطانوی وزیرِ اعظم نے امن معاہدے کو ’نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ، پاکستان اور قطر سمیت دیگر ممالک کے ثالثوں کو اس اہم پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی کے خواہاں تھے اور یہ وہ پیش رفت ہے جس کی ہمیں امید تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم واضح کرتے ہیں کہ اب آبنائے ہرمز میں بلامعاوضہ اور آزادانہ جہاز رانی کی بحالی ناگزیر ہے، تاکہ گذشتہ کئی ماہ سے برطانیہ اور دنیا بھر پر پڑنے والے شدید معاشی اثرات میں کمی آ سکے۔‘

    سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس عمل کی حمایت جاری رکھیں گے، جس میں ضرورت پڑنے پر دفاعی اور خودمختار کثیرالجہتی مشن کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے، جس کی منصوبہ بندی میں برطانیہ اور فرانس اب تک قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں، خصوصاً بارودی سرنگوں کی صفائی کے حوالے سے متفقہ تعاون فراہم کرنے کے لیے۔‘

    انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’پائیدار امن کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ کیے گئے وعدے، بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق، مضبوط، قابلِ تصدیق اور مکمل طور پر نافذ العمل ہوں۔ برطانیہ کا مؤقف مستقل اور واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔‘

  8. قطری وزیر اعظم کا پاکستان کا شکریہ: ’تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں‘

    قطر کے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں، تاکہ اس پیش رفت کو مستحکم کیا جا سکے اور اسے آگے بڑھایا جا سکے۔‘

  9. جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں: اے ایف پی

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 19 جون کو جنیوا میں امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔

    گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے پر بالمشافہ دستخط کے لیے جے ڈی وینس سوئٹزر لینڈ جا سکتے ہیں۔

  10. تجزیہ: معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک غیر متوقع مگر خوش آئند سالگرہ کا تحفہ ثابت ہوا ہے، تاہم اس کے ساتھ غیر یقینی صورتحال بھی موجود ہے۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یوم پیدائش 14 جون ہے۔

    اس معاہدے کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور امریکہ بھی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔

    صدر ٹرمپ نے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو‘ یعنی تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہنے دو!

    تاہم اس کے علاوہ اس معاہدے کی دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

    بظاہر ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، جو کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کی بنیادی وجہ تھا، اب بھی مزید مذاکرات کا متقاضی ہے۔

    گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو اس کے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ حتیٰ کہ اگر کسی مفاہمتی یادداشت کے تحت سفارتی مذاکرات کا فریم ورک طے بھی پا جائے، تو پیش رفت کی کوئی یقینی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

    تاہم کم از کم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ امن معاہدہ جاری تنازع کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں کر پائے گا تاہم کسی حد تک اسے کم کرنے میں ضرور مدد دے گا۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ میں بھی کچھ کمی لا سکتی ہے۔

    یہ معاہدہ حالات کو کسی حد تک جنگ سے قبل کی حالت کی طرف واپس لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔

  11. صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اِس کی تصدیق کر دی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر اُن کا کہنا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آبنائے ہرمز کی بغیر کسی فیس (کی ادائیگی) کے فوری طور پر کھولنے کی مکمل اجازت دیتا ہوں، اور اِسی کے ساتھ امریکہ کی جانب سے (ایران کی) بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی بھی منظوری دیتا ہوں۔‘

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر کے جہاز، اپنے انجن سٹارٹ کر دیں۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’لِیٹ دی آئل فلو۔‘ (یعنی تیل کی فراہمی جاری رہنے دو)

  12. ایران کی جانب سے بھی امن معاہدہ طے پانے کی تصدیق: ’ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی آج رات ختم کر دی جائے گی، کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر ایک ٹیلیفونک گفتگو میں اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج رات مختلف محاذوں پر، جن میں لبنان بھی شامل ہے، جنگ اور فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا جائے گا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی بھی آج رات ختم کر دی جائے گی۔

  13. امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی: پاکستان

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کیا ہے۔

    اپنی پوسٹ میں اُن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’اس موقع پر ہم امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہم اس ثالثی عمل میں اپنے برادر ملک قطر کی قیادت کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جن کی معاونت اس معاہدے تک پہنچنے میں نہایت اہم رہی۔‘

    ’ہم بالخصوص مملکتِ سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کے بھی شکر گزار ہیں جنھوں نے اس حوالے سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’اب معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی ٹیمیں آئندہ ہفتے کے دوران متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گی۔ یہ مشاورتی عمل ٹیکنیکل مذاکرات اور پھر باضابطہ دستخط کی تقریب کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔‘

  14. غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم چھ فلسطینی ہلاک

    غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں اور فائرنگ میں اتوار کے روز کم از کم چھ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    ان میں سے کم از کم چار جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں المیمن السعید ہسپتال کے قریب ایک حملے میں مارے گئے۔

    جنوب میں خان یونس اور غزہ شہر میں الگ الگ فائرنگ میں دو دیگر ہلاک ہوئے۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ثالث مصر، قطر اور ترکی نے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی ایک ہفتہ طویل بات چیت مکمل کی۔

    اس منصوبے میں حماس کا تخفیف اسلحہ اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

  15. ممکنہ ایران امریکہ معاہدے میں کیا شامل ہے؟, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو دن قبل سرکاری ٹی وی پر آکر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات بیان کیں۔

    انھوں نے اس معاہدے کے چند اہم نکات بتائے۔

    عراقچی کے مطابق، اس معاہدے میں ’تمام محاذوں پر دشمنی کے خاتمے‘ کو شامل کیا گیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔

    ان کے مطابق ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کی تیاری کر رہے تھے۔

    عراقچی نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قانونی فریم ورک اور مستقبل کے انتظامات کا تعین 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران کیا جائے گا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ معاملات، جیسے پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام، کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ میں اس معاہدے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی تھیں، تاہم عراقچی نے دو روز قبل ایکس پر کہا کہ ’میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز کرے۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عراقچی کے اس بیان کو ٹروتھ سوشل پر دوبارہ شیئر کیا۔

  16. اسرائیلی جرائم کی ’براہِ راست ذمہ داری‘ امریکہ پر عائد ہوتی ہے: ایران

    ایران نے کہا ہے کہ بیروت پر حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد کیے گئے ’جرائم‘ کی ’براہِ راست ذمہ داری‘ امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں اس حملے کی ’سخت مذمت‘ کی اور اسے لبنان کی قومی خودمختاری کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، اسرائیل کی ’جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ میں امریکہ بھی براہِ راست ذمہ دار ہے، اور ایران نے ’اپنے فطری حقِ دفاع کے تحت تمام ضروری اقدامات کرنے کے عزم‘ کا اعادہ کیا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس حملے کا ہدف لبنانی دارالحکومت میں حزب اللہ کا ایک کمانڈ سینٹر تھا۔

  17. اقوامِ متحدہ کے سربراہ کی جانب سے ’اہم موقعے‘ پر بیروت پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بیروت پر اسرائیل کے حالیہ حملے کی ’سخت الفاظ میں مذمت‘ کی ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران کیا گیا۔

    گوتیرس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’یہ حملے جنگ بندی کے باوجود اور اس وقت کیے گئے جب امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں جو اس تنازع کے پُرامن حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس جنگ کے عالمی معیشت پر ’تباہ کن اثرات‘ مرتب ہوئے ہیں، اور تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ’اس نازک موقع پر زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کریں۔

  18. ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی کونسل کا انتباہ: بیروت پر اسرائیلی حملے کا ’جواب آئے گا‘, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی کی سینیئر رپورٹر

    ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ’مجاہدینِ اسلام کا ردِعمل آنے والا ہے۔‘

    ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے محمد باقر ذوالقدر نے لبنان کو ایران کی ’شہ رگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی سرخ لکیر کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

    ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنان میں جاری جنگ کا خاتمہ شامل ہونا ضروری ہے۔

    سات سے آٹھ جون کے درمیان ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک دوسرے پر کیے گئے حملے، جو جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی کشیدگی سمجھے جا رہے ہیں، آٹھ اپریل سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں پیش آئے۔

    ابتدائی طور پر پاسدارانِ انقلاب نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائیاں کیں، جس کے بعد اسرائیل نے ایران کو نشانہ بنا کر جوابی حملہ کیا۔

  19. ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات کا دفاع: ’آخری فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ہوتا ہے‘

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دفاع کیا ہے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ان کے حالیہ بیان کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ’قومی مفادات کا دفاع کرنا اور مذاکرات کے دائرہ کار میں ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا صرف حکومت کا طریقۂ کار نہیں ہے، بلکہ نظام کے تمام عناصر اس حوالے سے ایک مشترکہ وژن اور مقصد رکھتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے معاملے میں ایران کے ایک بااختیار ادارے، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری ہی ’بنیادی معیار‘ ہے۔‘

    ایرانی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے آخری فیصلہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ہوتا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای مارچ کے اوائل میں اپنے والد کے بعد قیادت سنبھالنے کے بعد سے اب تک کسی مصدقہ حالیہ تصویر یا ویڈیو میں نظر نہیں آئے۔

    اب تک ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان سے منسوب کئی تحریری پیغامات جاری کیے ہیں۔

  20. ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ چند گھنٹوں میں طے پا سکتا ہے: امریکی صدر کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں اب بھی یقین ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ آئندہ دو سے تین گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے مختصر انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا۔ بعد ازاں فاکس نیوز کے نمائندے ٹری ینگسٹ نے تل ابیب سے براہِ راست نشریات کے دوران ٹرمپ کے بیان کی تفصیلات ناظرین تک پہنچائیں۔

    ٹری ینگسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ بیروت پر آج ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔

    رپورٹر کے مطابق گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیلی کارروائیوں پر ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا اور سخت لہجے میں وزیراعظم نیتن یاہو سے سوال کیا کہ ’وہ یہ کیا کر رہے ہیں؟‘

    ینگسٹ نے مزید بتایا کہ ’ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف مزید حملے نہ کریں تاکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل اور ممکنہ معاہدہ متاثر نہ ہو۔‘

    صدر ٹرمپ کے مطابق ’موجودہ مرحلے پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے مذاکراتی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اسی لیے تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘