لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے: شہباز شریف

ایکس پر ایک پیغام میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حتمی مرحلہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے اور پاکستان معاہدے پر ’الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے۔‘ ادھر امن معاہدے جلد طے پائے جانے کے امکانات کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دریں اثنا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک معاہدہ قریب ہے اور اور یہ اگلے ایک، دو دن میں ہو سکتا ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کے معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس پر الیکٹرانک دستخط کی تیاری کی جا رہی ہے۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل امریکہ کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہونے کی توقع ظاہر کی تھی۔
  • لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصے پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
  • انڈین حکومت نے نائب چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنے کی منظوری دی ہے اور اس کا اطلاق 30 جون سے ہو گا۔
  • انڈین فضائیہ کا ایک اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سنیچر کے روز انڈین ریاست آسام میں واقع جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
  • امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پائے جانے کی امید کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں مارچ کے اوائل کے بعد سے اپنی کم ترین سطح (تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح) پر پہنچ گئی ہیں۔
  • پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی اور اس کے گرد و نواح کے علاقے میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے اگلے سال بھی تیل کی قیمتیں متاثر ہوں گی: پاکستانی وزیر خزانہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اگلے مالی سال تک منتقل ہوں گے۔

    وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’چاہے معاملہ رسد کا ہو یا قیمتوں کا ہم نے آئندہ سال کی مالی پوزیشن میں اس حوالے سے گنجائش اور حفاظتی انتظامات شامل کیے ہیں۔‘

    وزیرِ خزانہ نے مانعِ حمل ادویات اور اشیا پر عائد ٹیکس کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آج 25 کروڑ کی آبادی کے باوجود بچوں میں غذائی کمی اور تعلیمی غربت جیسے مسائل موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد سکول سے باہر لڑکیوں کی ہے، تو کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر آبادی 30 سے 40 کروڑ تک پہنچ گئی تو صورتحال کیا ہوگی؟‘

    وزیرِ خزانہ نے آبادی میں اضافے کو ’بقا کا مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اگلا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ دیا جائے گا تو وسائل کی تقسیم کے اس مخصوص پیمانے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی اور اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ اقتصادی ترقی کے حصول میں ’اہم کردار‘ ادا کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس بجٹ میں برآمدات پر مبنی ترقی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ سہولت کار عوامل شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

    انھوں نے پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) اور سپر ٹیکس کے خاتمے جیسے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ’برآمدی شعبے کو تقویت دینا ہے۔‘

    محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت کم از کم اجرت کے نفاذ کے لیے نجی شعبے سے مشاورت کرے گی۔ حکومت نے کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے جس کے تحت یہ رقم 37 ہزار روپے سے بڑھا کر 40 ہزار 700 روپے کر دی جائے گی۔

  2. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کے معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دے دی جائے گی۔

    ایکس پر ایک پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ ’امن معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ حتمی مرحلہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان معاہدے پر ’الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح پر بات چیت ہو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان امن مذاکرات کے دوران مسلسل عزم پر امریکہ اور ایران کا شکر گزار ہے۔ شہباز شریف نے خطے کے دیگر ممالک کی حمایت کو بھی سراہا۔

    پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔‘

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوئس ہم منصب سے بات چیت کی تھی۔ اس بارے میں دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں پیشرفت کا خیر مقدم کیا تھا۔ انھوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ جاری کوششوں کی بدولت خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے گا۔

    شہباز شریف کے بیان سے قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ دستخط کی تقریب جنیوا میں ہو سکتی ہے۔ تاہم اب یہ امکان ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے امن معاہدے پر ’الیکٹرانک دستخط‘ کیے جائیں گے۔

  3. سابق رہبر اعلی ای کی آخری رسومات تہران میں 4 جولائی سے شروع ہوں گی: ایران

    علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق رہبر اعلی علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں 4 جولائی سے شروع ہوں گی اور ان کی تدفین 9 جولائی کو شمال مشرقی شہر مشہد میں ہو گی۔

    رواں سال فروری میں خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ تین دہائیوں تک ایران کے رہبر اعلیٰ رہے اور ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای ان کے جانشیں بنے۔

  4. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات

    لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصے پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    یہ حملے اس وقت کیے گئے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں 20 مقامات کے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی جن میں نباتیہ شہر بھی شامل ہے۔

    لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جن علاقوں کو انخلا کی وارننگ دی گئی تھی ان میں سے متعدد کو نشانہ بنایا گیا جن میں ریحان اور سجد کے دیہات شامل ہیں جو نباتیہ کے قریب واقع ہیں۔

    گذشتہ روز حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج کا جنوبی لبنان میں ایک سرحدی قصبے کی جانب بڑھنے والے اسرائیلی فوجیوں سے تصادم ہوا۔

    حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوجی سرحدی قصبے مجدل زون کی جانب بڑھ رہے تھے جب انھیں ’بار بار راکٹ حملوں کے باعث پسپائی اختیار کرنا پڑی۔‘

    اسرائیلی فوج اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے جبکہ ایران اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے قریب ہیں۔

    اس معاہدے کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں تاہم ایران ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں لبنان کو شامل ہونا چاہیے۔

  5. انڈیا نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا

    لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ

    ،تصویر کا ذریعہMINISTRY OF DEFENCE, INDIA

    انڈین حکومت نے نائب چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرنے کی منظوری دی ہے اور اس کا اطلاق 30 جون سے ہو گا۔ انڈین وزارت دفاع کے مطابق موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اوپیندر دیویدی اسی روز ریٹائر ہو جائیں گے۔

    وزارت دفاع کی جانب سے نئے چیف آف آرمی سٹاف کے کیریئر کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کھڑک واسلہ میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں۔ انھوں نے دسمبر 1986 میں آرمَرڈ کور میں کمیشن حاصل کیا تھا۔

    بیان کے مطابق ’تقریباً چار دہائیوں پر محیط ایک نمایاں عسکری کیریئر کے دوران انھوں نے آپریشنل، تزویراتی، صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل کیا اور انڈین فوج کی جنگی صلاحیت اور طویل مدتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    ان کی کمان ذمہ داریوں میں ریگستانی سیکٹر میں ایک آرمَرڈ رجمنٹ، مغربی محاذ پر ایک آرمَرڈ بریگیڈ اور جموں و کشمیر میں انسدادِ بغاوت فورس کی قیادت شامل ہیں۔ انڈین وزارت دفاع کے مطابق ’بطور لیفٹیننٹ جنرل انھوں نے سدرشن چکرا کور کی کمان کی جو انڈین فوج کی اہم سٹرائیک فارمیشنز میں سے ہے۔ اس کے بعد وہ دہلی میں جنرل آفیسر کمانڈنگ رہے جہاں انھوں نے قومی اور بین الاقوامی فوجی سرگرمیوں اور رسمی ذمہ داریوں کی نگرانی کی۔‘

    ’آرمی کمانڈر کے عہدے پر ترقی کے بعد انھوں نے ساؤتھ ویسٹرن کمان اور سدرن کمان سنبھالی اور اس طرح دو آپریشنل آرمی کمانڈز کی قیادت کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔‘

    وزارت دفاع کے مطابق ’انھوں نے تقریباً ڈھائی برس تک اہم محاذوں پر تزویراتی نگرانی فراہم کی۔ انھوں نے متعدد اہم سٹاف اور تزویراتی عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں جس دوران انھوں نے آپریشنل منصوبہ بندی، فورس مینجمنٹ اور صلاحیت سازی پر نمایاں اثر ڈالا۔‘

    وہ ہائر کمانڈ کورس اور نیشنل ڈیفنس کالج کے گریجویٹ ہیں اور انھوں نے پیرس میں منعقد ہونے والا کمانڈ اینڈ سٹاف کورس بھی کیا جو ان کے ’وسیع تزویراتی وژن اور جدید عسکری امور کی سمجھ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

  6. اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے بات چیت: ’جلد مثبت نتائج کی امید‘

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور حالیہ پیش رفت بارے تبادلۂ خیال اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

    بیان کے مطابق دونوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری روابط اور مذاکرات جلد مثبت اور تعمیری نتیجے تک پہنچیں گے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔

    فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

  7. انڈین فضائیہ کا اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ آسام میں گر کر تباہ, دلیپ کمار شرما، بی بی سی ہندی

    انڈین فضائیہ کا اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہAvik

    انڈین فضائیہ کا ایک اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارہ سنیچر کے روز انڈین ریاست آسام میں واقع جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    اس واقعے کے حوالے سے فضائیہ کے ترجمان وِنگ کمانڈر جے دیپ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اے این-32 طیارہ جورہاٹ ایئر فورس سٹیشن پر گر گیا ہے، تاہم اس بارے میں مکمل معلومات ابھی جمع کی جا رہی ہیں۔

    حادثے کے بارے میں انڈین فضائیہ نے ایکس پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ طیارہ لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہوا اور حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کی جا رہی ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنے کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی تھی۔

    ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر ائیر بیس کمپلیکس میں ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاحال اس حادثے مرنے یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    اے این-32 ایک دو انجنوں پر مشتمل ٹربو پروپ فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو اصل میں سوویت یونین (اب یوکرین کے انتونوف ڈیزائن بیورو) نے تیار کیا تھا۔

    یہ طیارہ بنیادی طور پر انڈین فضائیہ کے بیڑے کا اہم حصہ ہے اور اسے فوجیوں کی نقل و حمل، امدادی سامان کی ترسیل اور پیرا ٹروپرز کو فضا سے اتارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

  8. امریکہ اور ایران میں جلد معاہدے کا امکان، تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

    تیل کی قیمت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پائے جانے کی امید کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتیں مارچ کے اوائل کے بعد سے اپنی کم ترین سطح (تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح) پر پہنچ گئی ہیں۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 87.33 ڈالر فی بیرل تک ہو گئی ہے جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 3.05 ڈالر (یا 3.4 فیصد) کم ہے۔

    امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی کم ہو کر 84.88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے جو گذشتہ روز کے مقابلے میں 2.83 ڈالر یا 3.2 فیصد کم ہے۔ یہ اپریل کے بعد ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی کم ترین قیمت ہے۔

    سرمایہ کاری فرم ’اگین کیپیٹل‘ کے شراکت دار جان کیلڈف کے مطابق مارکیٹ میں کمی کی بڑی وجہ ایرانی حکام کے وہ بیانات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت ہونے کے قریب ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا ہے اور اب عملدرآمد کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔

    بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔

  9. شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن میں چار کمانڈرز سمیت 21 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستان فوج وزیرستان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی اور اس کے گرد و نواح کے علاقے میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران گذشتہ 72 گھنٹوں میں 21 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق مارے جانے والوں میں چار شدت پسند کمنڈرز بھی شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں علاقے میں سرگرم شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے شدت پسند کمانڈرز دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں بشمول سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے تھے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 48 شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

  10. انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر جے ایس شنکر کا مارکو روبیو سے احتجاج: ’تجارتی بحری جہازوں کے خلاف ایسی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں‘

    جے ایس شنکر مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    انڈیا کے وزیرِ جے ایس شنکر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمان کے ساحل کے نزدیک جہاز پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کا معاملہ امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے سامنے اٹھایا ہے۔

    جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایکس پر جاری ایک بیان میں جے ایس شنکر کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں میں تین انڈین شہریوں کی ہلاکت پر ایک بار پھر احتجاج کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ، ’تجارتی بحری جہازوں کے خلاف اس طرح کی مہلک کارروائیاں جائز نہیں ہیں۔‘

  11. امریکہ نے ایرانی جمہوریت نواز خاتون کارکن کو سینٹرل افریقہ ریپبلک ڈی پورٹ کر دیا

    سینٹرل افریقہ ریپبلک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے ایک ایرانی جمہوریت نواز خاتون کارکن کو سینٹرل افریقہ ریپبلک ڈی پورٹ کر دیا ہے۔

    خاتون کی وکیل نے جمعہ کے روز خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے امریکی اقدام کو ایسے ملک میں ’انتہائی خطرناک‘ منتقلی قرار دیا ہے جہاں سے ان کی مؤکلہ کا کوئی تعلق نہیں۔

    حمعرات کے روز ایرانی امریکن لیگل ڈیفنس فنڈ نے بتایا تھا کہ ایران سے فرار ہونے والی تین ایرانی خواتین کو امریکہ سے بے دخل کیے جانے کا خطرہ ہے۔ ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہے۔

    ایرانی جموریت نوaز کارکن کی وکیل ایملی ٹروسٹل نے بتایا کہ جمعرات کی شب لوئیزیانا سے روانہ ہونے والی پرواز میں تینوں میں سے صرف یہی خاتون کارکن سوار تھیں۔ انھوں نے اس بات کا امکان مسترد نہیں کیا کہ دیگر خواتین کو بھی بعد میں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔

    ہیومن رائٹس فرسٹ کے زیر انتظام آئس (آئی سی ای) فلائٹ مانیٹر کے مطابق، طیارہ گھانا کے دارالحکومت اکرا میں کچھ دیر رکنے کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے سینٹرل افریقہ ریپبلک کے دارالحکومت بانگوئی پہنچا۔

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو کہاں رکھا جائے گا یا سینٹرل افریقہ ریپبلک میں انھیں کتنے عرصے تک رہنے کی اجازت ہوگی۔

    سینٹرل افریقہ ریپبلک ایک طویل عرصے سے عدم استحکام، تشدد اور غربت کا شکار ہے۔ سینٹرل افریقہ ریپبلک نے حال ہی میں امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کو قبول کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

  12. حزب اللہ کا اسرائیلی افواج پر حملوں کا دعویٰ، اسرائیل نے جنوبی لبنان کے تین دیہاتوں سے انخلا کا حکم جاری کر دیا

    حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں کا جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے مجدل زون کی جانب پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوا ہے۔

    گروہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے جمعرات کی شام اسرائیلی افواج پر کئی راکٹ داغے جس کے باعث وہ پسپا ہو گئے، اور پھر جمعہ کو ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں اور راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے ان پر مزید حملے کیے۔

    حزب اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خلاف دیگر حملے بھی کیے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تین دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے جبکہ لبنانی سرکاری میڈیا نے ملک کے جنوبی حصوں میں مختلف علاقوں پر حملوں کی خبر دی ہے۔

    لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے بھی شہر نبطیہ کے قریب شدید دھماکوں اور توپ خانے کی گولہ باری کی بھی اطلاع دی ہے۔

  13. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال پانچویں روز بھی جاری، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست متعلقہ کمیٹی کو ارسال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    مظفرآباد

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پرہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے جبکہ کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست وزارتِ داخلہ نے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے گذشتہ رات کوہالہ سے مظفر آباد جانے والے راستے کو پتھر اور درختوں کے تنوں رکھ کر کردیا تھا جسے پولیس اور انتظامیہ نے کلیر کروا لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دوکانیں پانچویں روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خردونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔ فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف انے والے تمام راستے کلیر ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

    انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خرودنوش کی دوکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دوکان کو سیل کردیا ہے۔

    منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دوکانیں کھلی رہیں جبکہ دودہ دہی کی دوکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دوکان د کو زبردستی اپنی دوکانیں کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

    کمشنر مظفرآباد نے دعویٰ کیا کہ جیسے کرونا کے دنوں میں لوگ اپنی دوکانوں کے شٹر نیچے کیے ہوتے تھے اور گاہک اتا تو شٹر اوپر کرکے گاہک کو چیزیں فراہم کرتے تھے، وہی صورت حال مظفر آباد کے کچھ علاقوں میں بھی ہے۔

    منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے کے ادارے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔

    مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد پانچ سو کے قریب تھی اور انھوں نے مظفر اباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جسے طاقت کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔

    دوسری جانب پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عید گاہ کے علاوہ پتن کے قریب بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان جمع ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دریک عید گاہ کے قریب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

    سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولاکوٹ انے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرلیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمت عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

    کمشنر پونچھ کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مخلتف مقامات پر چھاپے مار کر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست متعلقہ کمیٹی کو ارسال

    دوسری جانب پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکرٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

    وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔

  14. بنوں میں آندھی اور بارش سے جڑے واقعات میں چار افراد ہلاک، 16 زخمی

    بارش

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پختونخوا کے ضلع بنوں میں آندھی اور موسلادھار بارش سے جڑے واقعات میں چار افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ کے مطابق ضلع بنوں میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش کے باعث مختلف مقامات پر دیواریں، مکانات اور دکانیں گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حادثات کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو مرد اور دو بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں چار مرد، پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہی۔

    پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی صورتحال کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کمزور اور خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں اور اس کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر دیں۔

  15. امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں ایرانی حملہ آور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    امریکی فوج

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے حملہ آور ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کئی یک طرفہ حملہ آور ڈرونز لانچ کیے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی افواج نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بلا رکاوٹ جاری ہے۔‘

    اس سے قبل اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف جانے والے کئی ایرانی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈرون تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔

  16. متحدہ عرب امارات کی ایران کو رقوم کی منتقلی کی خبروں کی تردید

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بعض بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ایران کو مالی وسائل کی منتقلی یا فراہمی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے ایران کو رقوم کی منتقلی سے متعلق دعوے بشمول تین ارب ڈالر کی منتقلی کی رپورٹس ’غلط‘ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو ایران کے منجمد اثاچے واپس کیے گئے ہیں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کو اربوں ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ان رقوم کا کچھ حصہ تہران کو فراہم بھی کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘

  17. امریکہ کے ساتھ اگلے ایک سے دو روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہThe India Today Group via Getty Images

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ہم پہلے کبھی معاہدے کے اتنے قریب نہیں تھے اور یہ اگلے ایک یا دو دن میں ہو سکتا ہے یا اگلے کچھ دنوں میں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر ملک کے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کریں جو ’ماحول خراب کر سکتی ہیں اور اس موقع کو متاثر کر سکتی ہیں۔‘

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’یہ مفاہمتی یادداشت ڈیڑھ یا دو صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس پر دو ماہ سے زائد عرصے تک مذاکرات ہوتے رہے اور اس کی ہر شق اور ہر جملے کا کئی بار جائزہ لیا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اس متعلق قومی سلامتی کونسل اور سکیورٹی اداروں کو بروقت رپورٹس پیش کی گئی ہیں، جبکہ افواج نے بھی اہم معاملات بشمول آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے پر نظر رکھی ہے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایرانی عوام کے مفادات میں ہے۔

    عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے، اور اب تک یہ خدمات مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ ’لیکن ایران کا حتمی فیصلہ ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقۂ کار ماضی سے مختلف ہوگا۔‘

  18. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لانگ مارچ کے شرکا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمۂ داخلہ نے جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ میں شریک افراد کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز دی ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹریٹ کو لکھے گئے ایک خط میں محکمۂ داخلہ نے راولاکوٹ سے مظفر آباد لانگ مارچ میں شریک ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی کی منظوری طلب کی ہے۔

    اس میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل میپنگ اور جیو فینسنگ کے ذریعے لانگ مارچ کے شرکا کی فہرست تیار کی جائے اور انھیں کالعدم تنظیم کے فریم ورک میں شامل کرنے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔

    اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کو کریکٹر سرٹیفکیٹس دینے پر پابندی عائد کی جائے، ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے جائیں اور پاسپورٹس بلاک کر دیے جائیں۔

    دیگر تجاویز میں موبائل اکاؤنٹس کی معطلی اور ممکنہ غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی شامل ہیں۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ چیف سیکریٹریٹ کی منظوری کے بعد کارروائی شروع کی جائے گی۔

  19. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا، اب اگلے مرحلے پر کام ہو رہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا ہے اور اب عملدرآمد کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کے دوران ’مسلسل غلط معلومات کی مہم‘ بھی سامنے آ رہی ہے، جو بقول ان کے امن عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان تمام خبروں سے قطع نظر، ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امن معاہدے کا حتمی اور باہمی طور پر متفقہ متن طے پا چکا ہے۔‘

    وزیرِاعظم کے مطابق پاکستان اب فریقین کے ساتھ قریبی تعاون میں اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امن اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھا جتنا کہ اس وقت ہے۔‘

    شہباز شریف کے بیان میں اس امن عمل سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  20. ایران کو معاہدے پر دستخط یا اجلاس میں شرکت کے عوض رقم یا فنڈز نہیں دیے جا رہے: امریکہ

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں جے ڈی وینس نے لکھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق کسی ممکنہ معاہدے پر بہت سی غلط معلومات سامنے آ رہی ہیں۔

    ان کے بقول یہ معاہدہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خدشات کو ترجیح دی جائے اور اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اقتصادی فوائد ایران اور پورے خطے کو حاصل ہوں گے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے کو ازسرِنو تشکیل دینے اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بن سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران آنے والی خبروں میں کچھ عجیب باتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ایک طرف وہ افراد، جو ایک ماہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی صدر قرار دے رہے تھے، اب غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اس معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’دوسری جانب وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کی کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، بظاہر غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین کر رہے ہیں۔ تاہم صدر ہر صورت میں ایک مثبت نتیجہ حاصل کریں گے۔‘