مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے اگلے سال بھی تیل کی قیمتیں متاثر ہوں گی: پاکستانی وزیر خزانہ, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اگلے مالی سال تک منتقل ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’چاہے معاملہ رسد کا ہو یا قیمتوں کا ہم نے آئندہ سال کی مالی پوزیشن میں اس حوالے سے گنجائش اور حفاظتی انتظامات شامل کیے ہیں۔‘
وزیرِ خزانہ نے مانعِ حمل ادویات اور اشیا پر عائد ٹیکس کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر آج 25 کروڑ کی آبادی کے باوجود بچوں میں غذائی کمی اور تعلیمی غربت جیسے مسائل موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد سکول سے باہر لڑکیوں کی ہے، تو کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر آبادی 30 سے 40 کروڑ تک پہنچ گئی تو صورتحال کیا ہوگی؟‘
وزیرِ خزانہ نے آبادی میں اضافے کو ’بقا کا مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اگلا نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ دیا جائے گا تو وسائل کی تقسیم کے اس مخصوص پیمانے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی اور اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ اقتصادی ترقی کے حصول میں ’اہم کردار‘ ادا کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس بجٹ میں برآمدات پر مبنی ترقی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ سہولت کار عوامل شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
انھوں نے پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) اور سپر ٹیکس کے خاتمے جیسے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ’برآمدی شعبے کو تقویت دینا ہے۔‘
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت کم از کم اجرت کے نفاذ کے لیے نجی شعبے سے مشاورت کرے گی۔ حکومت نے کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے جس کے تحت یہ رقم 37 ہزار روپے سے بڑھا کر 40 ہزار 700 روپے کر دی جائے گی۔













