لائیو, اسرائیل نے غزہ امداد لے جانے والے 175 کارکن حراست میں لے لیے: بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہو گا، مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔ جبکہ اسرائیل نے لبنان کے واٹر سٹیشن پر حملہ کیا ہے اور غزہ کے لیے امداد لے جانے والے 20 جہازوں پر سوار تقریباً 175 کارکن حراست میں لے لیے ہیں۔

خلاصہ

  • جوہری معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی: امریکی صدر ٹرمپ
  • بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان
  • عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی، پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں مندی، جبکہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کی تیل کی فی بیرل قیمت 140 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی
  • ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت 'انتہائی مضبوط' ہے: چیئرمین مرکزی بینک
  • اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا، 20 جہازوں پر سوار 175 کارکن حراست میں لے لیے گئے

لائیو کوریج

  1. بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے: مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی خلیج میں بد امنی کو مزید بڑھائے گی اور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔

    بی بی سی عربی کے مطابق جمعرات کو اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا: ’بحری ناکہ بندی مسلط کرنے یا بین الاقوامی قوانین سے متصادم کوئی بھی پابندیاں عائد کرنے کی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہے۔‘

    مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات ’نہ صرف علاقائی سلامتی کے فروغ میں ناکام رہیں گے بلکہ درحقیقت کشیدگی کا باعث بنیں گے اور خلیج میں استحکام کو نقصان پہنچائیں گے۔‘

  2. اسرائیل نے امداد لے کر غزہ جانے والے بحری قافلے میں شامل 175 کارکن حراست میں لے لیے

    غزہ کے لیے امداد لے جانے والا بحری قافلہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی قافلے کے 20 جہازوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا: ’20 سے زائد کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکن اب ’پرامن‘ طور پر اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں۔‘

    فلسطین نواز کارکنوں پر مشتمل اس قافلے کے منتظمین اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد محاصرے کو توڑنا اور وہاں امداد پہنچانا چاہتے تھے۔ اس سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے بحری قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب روک لیا ہے۔

    اسرائیل مسلسل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ غزہ کا محاصرہ کیے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ وہ انسانی امداد داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔

    تاحال کارکنوں کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

  3. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں واٹر سٹیشن پر حملہ

    لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے باتولیہ شہر کے واٹر سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔ نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شہری اپنی پانی کی ضروریات کے لیے اسی سٹیشن پر انحصار کرتے تھے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے صور کے علاقے میں البیاض کے مقام پر ایک سیاحتی تفریحی مقام کو بھی نشانہ بنایا۔

  4. 126 ڈالر فی بیرل: تیل کی قیمت سنہ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر

    آئل ریفائنری کی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    تقریباً سات فیصد اضافے سے برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 126 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔ یہ سنہ 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

    امریکہ اور ایران میں امن مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں، مرکزی بحری گزر گاہ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے اور اس وجہ سے رواں ہفتے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    امریکہ میں بھی خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے سے تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

  5. اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا

    غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کا قافلہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    فلسطین کے حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کے ایک بحری قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب اسرائیلی فوج نے روک لیا ہے۔

    قافلے کے منتظمین نے اسے غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ کشتیاں اسرائیلی محاصرے میں موجود غزہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور تھیں۔

    ان کے مطابق اس قافلے کی 50 میں سے 11 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں بھی اسی نوعیت کے ایک بحری قافلے کو اسرائیل نے روکا تھا اور سویڈن کی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 450 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

    نقشے میں وہ جگہ جہاں غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کا قافلہ روکا گیا

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

  6. اسرائیل کے شمال میں سائرن بج اٹھے

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایک میزائل کی نشاندہی کے بعد ملک کے شمالی علاقے زرعیت میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

    زرعیت شمالی اسرائیل میں لبنان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ جنوبی لبنان سے داغا گیا ایک میزائل روکا گیا۔ اسرائیل کے مطابق یہ میزائل اس علاقے کی جانب داغا گیا تھا جہاں فوجی اہلکار سرگرم تھے۔

    اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  7. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس میں چار ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور انڈیکس چار ہزار سے زیادہ پوائنٹس نیچے چلا گیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی انڈیکس میں 2588 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ جیو پولیٹیکل حالات ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور سٹاک مارکیٹ پر اس کا منفی اثر ہوا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز کے بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی جس کا اثر دنیا میں تیل کی قیمتوں پر پڑا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ اس وقت تک معاہدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہ ہو جائے۔ وہ معاہدہ ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اسی طرح آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

    جبران سرفراز کے مطابق اس کا منفی اثر پاکستان سٹاک مارکیٹ پر بھی پڑا اور مارکیٹ میں رجحان منفی ہو گیا۔ انھوں نے بتایا کہ چونکہ آگے تین دن کا ویک اینڈ آ رہا ہے اور سرمایہ کار ان تین دنوں کی ممکنہ صورتحال کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں تو انھوں نے حصص فروخت کر دیے۔

  8. ایران جنگ کے پیدا کردہ توانائی بحران کے باوجود امریکی معیشت ’انتہائی مضبوط‘ ہے: چیئرمین مرکزی بینک

    امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول

    ،تصویر کا ذریعہAnna Moneymaker/Getty Images

    امریکی فیڈرل ریزرو (مرکزی بینک) کے چیئرمین جیروم پاول نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے باوجود امریکی معیشت ’انتہائی مضبوط‘ ہے اور امکان ہے کہ اس سال دو فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کرتی رہے گی۔

    بدھ کے روز فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی آخری پریس کانفرنس کے دوران جیروم پاول نے کہا: ’ہماری معیشت کے تمام شعبے واقعی مضبوط ہیں۔ اس کی کچھ وجہ یہ ہے کہ صارفین اب بھی زیادہ خریداری کر رہے ہیں اور حالیہ اعداد و شمار مثبت ہیں۔‘

    معیشت کی مضبوطی کی وجوہات بتاتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور کاروباری سرمایہ کاری کا بڑا حصہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی طرف جا رہا ہے۔‘

    امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے مطابق ’اس بات پر یقین کرنے کی بھرپور وجوہات ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘

  9. ’آبنائے ٹرمپ‘: امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر نقشہ شیئر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کا نام بدل دیا

    امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social / Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ شائع کیا ہے اور اسے نئے نام ’آبنائے ٹرمپ‘ سے منسوب کیا ہے۔

    اس سے قبل بھی ٹرمپ اپنی ایک تقریر کے دوران ’آبنائے ٹرمپ‘ کی اصطلاح استعمال کر چکے ہیں۔ اُس موقع پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا ابتدا میں اسے شاید ’غیر ارادی غلطی‘ سمجھے لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار ہی کوئی غلطی کرتے ہیں۔

  10. ٹرمپ کو جان سے مارنے کی دھمکی کا الزام، سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر عدالت کے سامنے پیش

    ایف بی آئی کے سابق ڈائیریکٹر جیمز کومی

    ،تصویر کا ذریعہMichael M. Santiago/Getty Images

    امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی پر الزام ہے کہ ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

    اب جیمز کومی الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سنہ 2025 میں ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں ساحل سمندر پر سیپیوں کی تصویر تھی۔ یہ سیپیاں اس انداز سے رکھی گئی تھیں کہ ان سے ’8647‘ کے اعداد بنتے تھے۔

    ایٹی سکس (86) بول چال کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ’ٹھکانے لگا دینا‘ ہوتا ہے اور استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس سے ٹرمپ کے خلاف تشدد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو امریکہ کے 47 ویں صدر ہیں۔

    کومی نے کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ان اعداد کا مطلب معلوم نہیں تھا۔

    عوامی رد عمل کے بعد انھوں نے یہ تصویر ڈیلیٹ کرتے ہوئے وضاحتی پیغام میں لکھا تھا: ’آج ساحل پر چہل قدمی کے دوران میں نے کچھ سیپیاں دیکھیں اور ان کی تصویر پوسٹ کی، جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ ایک سیاسی پیغام تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کچھ لوگ ان اعداد کو تشدد سے جوڑتے ہیں۔ یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا، لیکن چونکہ میں ہر قسم کے تشدد کی مخالفت کرتا ہوں، اس لیے میں نے وہ پوسٹ ہٹا دی۔‘

    جیمز کومی کی انسٹاگرام پوسٹ

    بدھ کی سہ پہر ورجینیا کی عدالت میں اپنی مختصر پیشی کے دوران جیمز کومی نہ تو کوئی جواب داخل کر سکے اور نہ ہی انھوں نے کوئی گفتگو کی۔

    ان کے وکیل پیٹرک فٹزجیرالڈ نے کہا کہ سابق ڈائریکٹر ایف بی آئی اس دلیل پر مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دیں گے کہ چونکہ وہ ٹرمپ کے خلاف بولتے ہیں تو انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    جج نے جیمز کومی کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے۔ بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، الزامات پڑھے جانے پر جیمز کومی نے سر ہلایا اور روانگی کے وقت اپنے اہل خانہ کی طرف مسکرا کر دیکھا۔

    استغاثہ کی جانب سے جیمز کومی پر صدر کی جان لینے اور جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں، ہر الزام کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید ہے۔

    منگل کے روز ایک ویڈیو بیان میں جیمز کومی نے کہا کہ وہ ان الزامات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    جب کہ امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’اگر کسی کو جرم کے بارے میں کچھ بھی علم ہو تو وہ 86 کو جانتا ہے۔ یہ قتل کے لیے مجرموں کی اصطلاح ہے۔ مافیا جب وہ کسی کو مارنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس شخص کو 86 کر دو۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ جیمز کومی کی سوشل میڈیا پوسٹ کو اپنے لیے دھمکی سمجھتے ہیں، تو صدر نے جواب دیا: ’ممکن ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا: ’میرے خیال میں جیمز کومی جیسے لوگوں نے سیاست دانوں اور دوسروں کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کیا ہے۔‘

  11. جوہری معاہدہ ہونے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہTasos Katopodis/Getty Images

    صدر ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو بتایا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے جب تک ایران جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرنے والے معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔

    ایگزیوس کے مطابق، بدھ کے روز ایک ٹیلی فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: ’ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں کسی حد تک زیادہ مؤثر ہے۔ انھیں جوہری ہتھیار نہیں مل سکتا۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کی جانب سے حالیہ پیشکش مسترد کر دی تھی جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی تھی، کیونکہ اس سے جوہری مسئلے پر بات چیت مؤخر ہو جاتی۔

  12. تہران میں ’متعدد دھماکوں‘ کی آوازیں سنی گئیں: رپورٹس

    ڈیجیٹل خبروں کے معروف پلیٹ فارم واحد آن لائن نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    اس چینل کو فالو کرنے والوں نے بتایا کہ یہ آوازیں دارالحکومت کے مشرقی حصے میں تہران، پارس اور حکیمیہ کے اضلاع میں سنی گئیں۔ بعض افراد نے ان آوازوں کو ’طیارہ شکن سرگرمی‘ قرار دیا۔

    بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا۔

  13. انڈیا پاکستان جنگ کے بعد چین کی طیارہ ساز کمپنی کی فروخت میں تقریباً دُگنا اضافہ: بلومبرگ

    چینی کمپنی کا تیار کردہ لڑاکا طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    لڑاکا طیارے بنانے والی چینی کمپنی چنگڈو ایئر کرافٹ کارپوریشن نے سنہ 2025 میں ریکارڈ منافع حاصل کیا اور پہلی سہ ماہی کے دوران اس کی فروخت میں تقریباً دُگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    اس چینی کمپنی کو گذشتہ برس کی انڈیا پاکستان جنگ کے بعد شہرت ملی تھی جب پاکستان نے اس کمپنی کے تیار کردہ جے 10 سی لڑاکا طیارے کی مدد سے انڈیا کے رفال طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    مالیاتی و معاشی امور سے متعلق خبریں فراہم کرنے والے امریکی ادارے بلومبرگ نے چنگڈو کی جانب سے جاری کردہ بیان کا حوالہ دیا۔

    اس بیان کے مطابق سنہ 2025 میں چنگڈو کی آمدن 15.8 فیصد اضافے کے ساتھ 75.4 ارب یوآن (11 ارب ڈالر) تک پہنچ گئی، جبکہ منافع 6.5 فیصد بڑھ کر 3.4 ارب یوآن ہو گیا۔

    بلومبرگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ اس کمپنی کے منافع کی اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں پہلی سہ ماہی کی فروخت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا۔

  14. ایران کا افزودہ یورینیم غالباً اب بھی اصفہان کمپلیکس میں موجود ہے: ڈائیریکٹر جنرل ایٹمی توانائی ایجنسی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائیریکٹر جنرل رافائل گروسی

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائیریکٹر جنرل رافائل گروسی نے صحافیوں کو بتایا: ’مجھے شبہ ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم اب بھی اصفہان کے ایٹمی کمپلیکس میں موجود ہے۔‘

    گروسی نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں 12 روزہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس کمپلیکس کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت دیکھی جا سکتی ہے ’ہم اب بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ آئی اے ای اے فردو اور نطنز کمپلیکسز کا معائنہ کرنا چاہتا ہے، امکان ہے کہ وہاں اب بھی کچھ ایٹمی مواد موجود ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل نے جولائی 2025 میں 12 روزہ جنگ کے دوران اصفہان، نطنز اور فردو کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بدھ کے روز کہا: ’ایران کا تمام افزودہ یورینیم ہمیشہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی مکمل نگرانی میں رہا ہے اور اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ ایران کے ایٹمی مواد کا ایک گرام بھی کہیں منتقل کیا گیا ہو۔‘

  15. برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

    جمعرات کی صبح ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت 119.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    گذشتہ کئی دنوں سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، کیونکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے باوجود منڈیوں میں بے یقینی اور اتار چڑھاؤ کی صورتحال بڑھی ہے۔

    ایران کے اندر امریکی ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

  16. ’تین دن گزر گئے، تیل کا کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: باقر قالیباف کا امریکہ پر طنز، تیل مزید مہنگا ہونے کی پیش گوئی

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہHandout via Getty Images

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔

    26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اقدامات اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب تیل کی ترسیل کے لیے ’کوئی جہاز باقی نہیں رہا‘ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کی تیل پائپ لائنیں ’پھٹ سکتی ہیں۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں۔

    یہی دعویٰ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے 28 اپریل کو سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی کنویں سے تیل نکالنے کا عمل رُک جائے گا۔‘

    امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘

    انھی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے باقر قالیباف نے ایکس پوسٹ میں لکھا: ’تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا۔‘

    ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مدت کو مزید 30 دن بڑھا کر کنویں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کر سکتے ہیں۔‘

    آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے باقر قالیباف نے پیش گوئی کی کہ یہ قیمت بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔

    ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’یہ اس قسم کا بے کار مشورہ تھا جو امریکی انتظامیہ کو (وزیر خزانہ) بیسنٹ جیسے لوگوں سے ملتا ہے۔ یہ ناکہ بندی کے نظریے پر اصرار کرتے کرتے تیل کی قیمتوں کو 120 ڈالر فی بیرل تک لے گئے ہیں۔ اگلا پڑاؤ 140۔‘

  17. ایرانی پرچم بردار بحری جہاز تسکا کے عملے کے چھ ارکان کو چھوڑ دیا گیا

    ایرانی پرچم بردار بحری جہاز تسکا

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بحری جہاز تسکا کے عملے کے چھ ایرانی ارکان کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دیگر 22 ارکان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    ایرانی سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی (اسنا) کے مطابق ایران کی سفارتی اور قانونی کوششوں کے بعد کنٹینر جہاز تسکا کے عملے کے چھ ایرانی ارکان کو چھوڑ دیا گیا اور وہ اب ایران میں ہیں۔

    اسنا کے مطابق اس کے لیے ہلال احمر سوسائٹی میں بین الاقوامی امور اور انسانی قانون کے نائب صدر نے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی حکام سے خط و کتابت اور مشاورت کی۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی افواج نے جہاز تسکا کو اس وقت قبضے میں لیا تھا جب وہ ایران کی جانب رواں تھا اور اس میں اہم اشیا کی کھیپ موجود تھی، جن میں طبی آلات اور ادویات شامل تھیں۔

    واقعے کے وقت جہاز پر ایرانی عملے کے 28 افراد سوار تھے۔

  18. ایران کا ریڈ کراس سے جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کا مطالبہ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کی سربراہ نے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر قانونی سطح پر چھان بین کرے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی صدر میر یانا سپولجاریچ ایگر جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایران کے دورے پر ہیں نے بدھ کے روز تہران میں ایرانی ہلالِ احمر کے صدر پیر حسین کولیوند سے ملاقات کی۔

    ایرنا کے مطابق پیر حسین کولیوند نے کہا کہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں گھروں، بچوں، بزرگوں اور دیگر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور میزائل حملوں اور بمباری کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔

    Islamic Republic News Agency

    ،تصویر کا ذریعہIslamic Republic News Agency

    کولیوند نے مزید بتایا کہ ’دشمن کی کارروائیوں میں ہلالِ احمر کے 56 مراکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، تین امدادی ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے، جبکہ 43 ایمبولینسوں اور 49 دیگر ریسکیو گاڑیوں کو بھی براہِ راست حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

  19. کوئٹہ میں مختلف مقامات پر ہونے والے راکٹ حملے میں تین افراد زخمی

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کی شب نامعلوم سمت سے فائر کیے جانے والے راکٹ کے حملے میں پولیس حکام کے مطابق تین افراد زخمی ہوگئے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں اس راکٹ حملے کے بعد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جن سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پولیس اور متعلقہ ادارے دھماکوں کی جگہ کا تعین کر رہے ہیں اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    راکٹ شہر کے کن علاقوں میں گرے اور عینی شاہدین نے کیا بتایا؟

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ نامعلوم سمت چار راکٹ فائر کیے گئے جن میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

    زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ان میں سے تین راکٹ اختر محمد روڈ، میر احمد خان روڈ اور عثمانیہ گلی میں آکر گرے۔

    ایک عینی شاہد ملک سہیل خان نے بتایا کہ ان میں سے ایک راکٹ ان کے گھر کے قریب عثمانیہ گلی میں ایک گھر کی چھت پر آکر گرا۔

    انھوں نے بتایا کہ راکٹ کے پھٹنے کی وجہ سے زور دار دھماکے سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ گھر کی چھت پر راکٹ کے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اس علاقے کے ایک اور رہائشی مصعب خان کاسی نے بتایا کہ جب راکٹ گرنے سے زوردار دھماکہ ہوا تو وہ عثمانیہ گلی کے مسجد میں عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔

    ایک راکٹ اختر محمد روڈ پر شانتی نگر میں ایک گھر کی چھت پر آکر گرا۔

    ملک سہیل خان نے بتایا شانتی نگر میں گھر کی چھت کو اچھا خاصا نقصان پہنچا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک راکٹ میر احمد خان روڈ پر آکر گرا۔ یہاں گرنے والے راکٹ سے ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچنے سے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    ’شہر میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں‘

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کوئٹہ شہر میں حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ ایک بیان میں انھوں نے عوام سے اپیل کہ وہ مطمئن رہیں۔

    بابر یوسفزئی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

  20. مبینہ طور پر ایران سے منسلک شدت پسند گروہ کا گولڈرز گرین حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    ایک پراسرار گروہ جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایرانی حکومت سے ہو سکتا ہے نے لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    یہ گروہ ’حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ’دائیں ہاتھ والوں کی اسلامی تحریک۔‘

    یہ گروہ اس سے قبل بھی برطانیہ میں یہودیوں سے منسلک عمارتوں یا مفادات کے خلاف چھ دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کر چکا ہے۔

    حرکت اصحاب الیمین کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایرانی حکومت کا ایک آلہ کار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے دعوؤں کو شیعہ نواز ٹیلیگرام چینلز پر پھیلایا جا رہا ہے۔

    آن لائن کیے گئے اس دعوے میں جسے بی بی سی مانیٹرنگ کے ماہرین نے دیکھا ہے، حملے کو ایک ’تنہا حملہ آور‘ سے منسوب کیا گیا ہے اور جائے وقوعہ کی ویڈیوز بھی منسلک کی گئی ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے تفتیش کار اس دعوے سے آگاہ ہیں، تاہم اس مرحلے پر احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی میں خاص طور پر ایک دہائی قبل، خودساختہ انتہا پسند تنظیم داعش نے بھی یورپ میں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی حالانکہ بعض واقعات میں اس کا براہِ راست کوئی کردار ثابت نہیں ہو سکا تھا۔