آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی اور مسلح تنازع کا سامنا کرنے والے موٹر سائیکل سوار جو ایرانی تیل پاکستان میں سمگل کرتے ہیں
- مصنف, بی بی سی
- عہدہ, ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
مزار کی موٹر سائیکل پیٹرول سے بھرے پلاسٹک کے ڈبوں سے اِس قدر لدی ہوئی ہے کہ اُس پر اُن کے اپنے بیٹھنے کی جگہ بمشکل ہی بن پاتی ہے۔
اُن کی خستہ حال موٹر سائیکل پر تیل کے پانچ بڑے ڈبے لدے ہوئے ہیں اور ہر ڈبے میں 70 لیٹر پیٹرول ہے۔ ان پانچ ڈبوں کا مجموعی وزن لگ بھگ 272 کلوگرام بنتا ہے۔ رسی اور ڈوری کی مدد سے باندھے گئے پیٹرول کے یہ ڈبے مزار کی موٹر سائیکل کے دونوں اطراف خطرناک انداز میں لٹک رہے ہیں۔
مزار نے یہ پیٹرول بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کُھلے آسمان تلے لگنے والے ایک بازار سے خریدا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور غریب ترین صوبہ ہے اور مزار بلوچستان کے ہی رہائشی ہیں۔ اس مارکیٹ میں پک اپ ٹرکس پر ایران سے سمگل شدہ پیٹرول فروخت کے لیے لایا جاتا ہے۔
اگرچہ ایران سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی سمگلنگ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں اِس سمگلنگ میں اضافے کے آثار نظر آئے ہیں۔
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے پاکستان میں ایران سے سمگل ہو کر آنے والے سستے پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں مزید اضافہ کر دیا۔
بلوچستان میں ہزاروں دیگر سمگلروں کی طرح مزار (جن کا اصل نام سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جا رہا) بھی اس پیٹرول کو ایک جگہ سے خرید کر دوسری اوپن مارکیٹ اور غیر رسمی پٹرول پمپس تک پہنچاتے ہیں۔
وہ اِس وقت 218 میل طویل سفر کے لیے تیار ہو رہے ہیں تاکہ خریدا ہوا یہ پیٹرول صوبہ سندھ میں منتقل کر سکیں۔ 218 میل طویل یہ راستہ بلوچستان کے گرم ترین علاقوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
بلوچستان میں موسم گرما میں درجہ حرارت بعض اوقات 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور اتنی حرارت کے باعث پلاسٹک سے بنے تیل کے یہ بڑے ڈبے پھولنے اور نرم ہونے لگتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزار کے اس طویل سفر کے دوران اگر گرمی کی شدت سے یہ کنٹینرز پھٹ جائیں یا اِن سے تیل کا رساؤ ہو جائے، تو آگ لگنے یا حتیٰ کہ دھماکے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے حادثات میں تیل سمگل کرنے والے عموماً جان سے ہاتھ دھوتے رہتے ہیں۔
مگر یہ واحد خطرہ نہیں۔ اس علاقے میں دیگر خطرات بھی موجود ہیں۔
بلوچستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی فورسز اور علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں اِس تنازع کے دوران ہزاروں افراد لاپتا ہو چکے ہیں۔
مزار نے بی بی سی ورلڈ سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ سب اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’موسم بہت گرم ہے، (تیل کی) قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ہم دن، رات سڑکوں پر گزارتے ہیں۔‘
ایران سے پاکستان میں تیل کی سمگلنگ کے متعلق کوئی واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم سنہ 2024 میں جاپانی خبر رساں ویب سائٹ ’نکئی ایشیا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی لیک ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن ایران سے پاکستان سمگل کیا جاتا ہے۔
رواں سال مئی میں پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں نے کہا تھا کہ سرحد پار سے پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ بڑھ رہی ہے اور انھوں نے حکومت کو ایک خط لکھ کر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب رواں ماہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل، جو پاکستان کی آئل انڈسٹری کی نمائندگی کرتی ہے، نے بھی حکومت کو آگاہ کیا کہ سال کے اس عرصے میں تیل کی فروخت گذشتہ 27 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی، جس کی بڑی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی سمگلنگ ہے۔
مزار اپنے بڑے خاندان کے واحد کفیل ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ وہ تین سے چار ماہ قبل ایندھن کی سمگلنگ کے پیشے سے اُس وقت وابستہ ہوئے، جب شدید خشک سالی کے باعث وہ اپنا کھیتی باڑی کا کام جاری نہ رکھ سکے۔
جاپانی ویب سائٹ نکئی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اندازوں کے مطابق لگ بھگ 24 لاکھ افراد ایران اور پاکستان کے درمیان ایندھن کی سمگلنگ میں ملوث ہیں اور مزار اُن میں سے ایک ہیں۔
پاکستان میں ایندھن کی سمگلنگ غیر قانونی ہے، جس کی سزا جرمانہ اور سمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطی سے قید تک ہو سکتی ہے۔
تاہم بلوچستان میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی کہتے ہیں کہ یہ سرگرمی خطے کی معیشت کے لیے ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ یہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
بلوچستان کے مغرب میں ایران جبکہ شمال میں افغانستان کی سرحد ہے۔ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے مگر یہاں ملک کی صرف چھ فیصد آبادی رہتی ہے۔
اگرچہ یہ علاقہ معدنی وسائل سے مالا مال ہے لیکن یہاں غربت کی سطح دنیا کے غریب ترین علاقوں جیسی ہے، جو عوامی غم و غصے کا باعث رہی ہے۔
فدا حسین دشتی کے مطابق ’لوگ بے بس ہیں اور ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے تھا کہ اس خطے میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرتی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہاں تک کہ ایم اے کی ڈگری رکھنے والا نوجوان بھی آخرکار تیل کے اسی کاروبار کا حصہ بن جاتا ہے۔‘
عرفان، جن کا نام سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تبدیل کیا گیا، بتاتے ہیں کہ اپنی معذوری کے باعث وہ کوئی اور کام نہیں کر سکتے۔
پولیو کا شکار ہونے کے باعث اُن کی ایک ٹانگ اور ایک ہاتھ ٹھیک طرح کام نہیں کرتے۔
وہ بھی گذشتہ کئی ماہ سے سمگلنگ کے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔
عرفان پیٹرول کے بجائے ڈیزل سمگل کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ نسبتاً محفوظ ہوتا ہے اور پیٹرول کی نسبت ڈیزل کے بھڑکنے کا امکان کم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں پٹرول نہیں اٹھا سکتا، اگر اس میں آگ بھڑک گئی تو کیا ہو گا؟ اگر میں کھڑا ہی نہ ہو سکا تو بُری طرح جھلس جاؤں گا۔‘
ایندھن کی اس سمگلنگ کے پس منظر میں کارفرما سیاست نہایت پیچیدہ ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے مستقل خاتمے کی کوششوں میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان نے مختلف مواقع پر اس غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائیاں کی ہیں تاہم ہر بار کچھ عرصے بعد سمگلنگ کی سرگرمیاں دوبارہ بڑھ جاتی ہیں۔
اسے مکمل طور پر روکنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی لگ بھگ 900 کلومیٹر طویل سرحد کے دور دراز علاقوں میں نگرانی کرنا انتہائی دشوار ہے۔
حکومتی سطح پر بھی یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ بلوچستان کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ کام گزر بسر کا اہم ذریعہ ہے۔
مزید یہ کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں تیل کمپنیاں ایندھن کی فراہمی نہیں کرتیں، جس کی وجہ نقل و حمل کے زیادہ اخراجات، سکیورٹی خدشات اور سستے سمگل شدہ ایندھن کی مسابقت ہے۔
دوسری جانب ایران اس سمگلنگ کا ذمہ دار جرائم پیشہ گروہوں کو ٹھہراتا ہے، جو سستے داموں ایندھن خریدنے میں اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ ایرانی حکومت اپنے شہریوں کو پیٹرول اور ڈیزل سبسڈی پر فراہم کرتی ہے۔
تاہم غیر قانونی منڈیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’گلوبل انیشی ایٹو اگینسٹ ٹرانسنیشنل آرگنائزڈ کرائم‘ سے وابستہ پیڈی گن کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خیال میں بڑے سمگلر یا تو براہ راست آئی آر جی سی (پاسدارانِ انقلاب) کا حصہ ہیں یا اُن سے قریبی تعلق رکھتے ہیں‘ اور ظاہر ہے کہ اُن کا مقصد ’امریکی پابندیوں سے بچنا‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اُن کے خیال میں ایران کے حکومتی حلقوں سے جڑے گروہ اب جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید ایندھن سمگل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے ایرانی حکومت سے ان الزامات پر مؤقف لینے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
’جنگ شروع ہوئی اور ہم تباہ ہو گئے‘
بلوچستان میں تیل کے کئی سمگلروں نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض اہلکار اور سکیورٹی فورسز رشوت کے عوض اس معاملے پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
تاہم پاکستانی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ اس کے کسی ادارے یا سکیورٹی فورسز کا ایندھن سمگلنگ میں کوئی کردار ہے۔
حکومت کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایندھن کی سمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی اور گذشتہ ایک سال کے دوران سکیورٹی فورسز نے تقریباً 1.3 ارب پاکستانی روپے مالیت کا ایندھن ضبط کیا۔
مزار کا کہنا ہے کہ جنگ نے اُن کے کام کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا۔
وہ جس قیمت پر سمگل شدہ پیٹرول خریدتے ہیں، وہ بڑھ چکی ہے تاہم جس قیمت پر وہ اسے فروخت کرتے ہیں، وہ لگ بھگ وہی ہے۔
پیٹرول، خوراک اور موٹر سائیکل کے کرائے کے اخراجات نکالنے کے بعد پہلے وہ روزانہ پانچ ہزار روپے تک کما لیتے تھے لیکن اب یہ آمدنی کم ہو کر تین ہزار روپے رہ گئی ہے۔
مزار کہتے ہیں کہ ’جنگ شروع ہوئی اور ہم تباہ ہو گئے۔‘
جب مزار اور اُن کے 11 موٹر سائیکل سوار ساتھی بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہوتے ہیں تو انھیں شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک طویل ہیٹ ویو جس میں گرد آلود طوفان بھی شامل ہوتے ہیں۔
جب اُن سے اس کام میں زخمی ہونے یا حتیٰ کہ جان سے جانے کے خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو مزار نے کہا کہ ’میں اس کی فکر نہیں کرتا۔‘
’مجھے ایک نہ ایک دن مرنا ہی ہے۔ میں ابھی بھی مر سکتا ہوں، کون جانتا ہے؟ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ مجھے زندہ رکھے یا میری جان لے لے۔‘