آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب جناح فلم کی شوٹنگ کے دوران ہالی وڈ اداکار کرسٹوفر لی حقیقت میں رو پڑے
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستانی ٹیلی ویژن اور سٹیج پر محمد علی جناح کا کردار کئی اداکاروں نے ادا کیا، لیکن ہالی وڈ اداکار کرسٹوفر لی کی فلم ’جناح‘ میں بانیٔ پاکستان کی کردار نگاری ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے۔
سنہ 1998 میں ریلیز ہونے والی پاکستان اور برطانیہ کی مشترکہ پیشکش فلم ’جناح‘ کی ہدایت کاری جمیل دہلوی نے کی جبکہ سکرپٹ جمیل دہلوی اور ڈاکٹر اکبر ایس احمد نے لکھا۔ ڈاکٹر اکبر ایس احمد اس فلم کے پروڈیوسر بھی تھے۔
ڈریکولا سیریز میں مرکزی کردارسے شہرت پانے والے اور جیمز بانڈ کی فلم ’دی مین ود دی گولڈن گن‘ میں سکارامانگا کا کردار ادا کرنے والے کرسٹوفر لی کا جناح کے کردار کے لیے انتخاب خود ایک دلچسپ داستان ہے۔
کرسٹوفر لی کو جناح کا کردار کیسے ملا؟
کرسٹوفر لی نے اپنی یادداشت ’لارڈ آف مس رول‘ میں لکھا کہ 1997 میں لندن میں پاکستان کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی ایک دعوت کے دوران ڈاکٹر اکبر احمد اور جمیل دہلوی نے ان سے پوچھا کہ وہ محمد علی جناح کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
لی نے جواب دیا کہ جناح نے پاکستان کے نام سے ایک نئی ریاست قائم کی اور وہ انھیں غیر معمولی عزم اور ذہانت رکھنے والی شخصیت سمجھتے ہیں۔
اس کے بعد انہیں پیشکش کی گئی: ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ جناح کا کردار ادا کریں۔‘
یہ پیشکش لی کے لیے غیر متوقع تھی، لیکن بعد میں انھوں نے اندازہ لگایا کہ جناح کے قد اور جسمانی ساخت سے ان کی مشابہت ان کے انتخاب کی ایک وجہ ہوسکتی تھی۔
کردار کی تیاری اور سکرپٹ میں تبدیلیاں
کردار قبول کرنے کے بعد لی نے جناح کی زندگی اور شخصیت پر موجود مواد کا مطالعہ کیا اور کئی کتابیں پڑھیں۔ سکرپٹ میں متعدد تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’جوں جوں فلم شوٹ ہورہی تھی، ویسے ہی سکرپٹ میں سے ان سینز کو ہٹایا جارہا تھا، جو اضافی لگ رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم کا آغاز ’لمبو‘ میں ہونا ہوتا ہے جہاں جناح کو ایک فرشتے کے سامنے اپنی زندگی کا حساب دیتے دکھایا جانا تھا لیکن اسلامی عقائد سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے اسے تبدیل کرکے ایک فرضی آسمانی لائبریری کا تصور پیش کیا گیا، جہاں جناح کی زندگی کی فائل تلاش کی جاتی ہے۔
اس لائبریری کے نگران کا کردار بھارتی اداکار ششی کپور نے ادا کیا جو جناح کے کردار کو ان کی زندگی کے ان اہم واقعات کا دوبارہ دورہ کرواتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ایک عام لیڈر سے ’قائد اعظم‘ بنے۔
کرسٹوفر لی کراچی میں
فلم کی شوٹنگ کے لیے کرسٹوفر لی تقریباً دس ہفتے کراچی کے ایک معروف ہوٹل میں رہے ۔ ایک موقع پر ان کی کمر میں تکلیف ہوئی اور انہیں مقامی ہسپتال لے جایا گیا۔
لی کے مطابق کراچی پہنچنے کے پہلے ہی دن ہوٹل کے عملے کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کون ہیں اور کس کا کردار ادا کرنے آئے ہیں۔ اگلے روز تک اخبارات کے ذریعے شہر میں بھی یہ خبر پھیل چکی تھی۔
انھیں صدرِ پاکستان فاروق احمد خان لغاری کی جانب سے جناح کا کردار ادا کرنے پر خیرمقدمی خط بھی ملا، لیکن اخبارات میں ان کے انتخاب پر تنقید بھی شروع ہوگئی۔
وہ لکھتے ہیں کہ اس دورے پر ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹی کرسٹینا بھی موجود تھیں، سخت سیکورٹی کے باوجود ان کی اہلیہ تو کراچی کے بازار گھومنے میں کامیاب ہوئیں لیکن لی اور ان کی بیٹی کراچی کا اس طرح دورہ نہ کرسکے جیسا کہ گائیڈ بک میں لکھا تھا۔
’ڈریکولا، جناح کیسے بن سکتا ہے؟‘
لی نے اپنی یادداشت میں لکھا کہ بعض پاکستانی اخبارات کو یہ بات قبول نہیں تھی کہ ایک مغربی اور مسیحی اداکار، جو ڈریکولا اور دیگر منفی کردار ادا کرچکا تھا، پاکستان کے بانی کا کردار ادا کرے۔
لی کا مؤقف تھا کہ اداکار اپنے کردار سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایک اداکار مختلف فلموں میں مختلف شخصیات کا کردار ادا کرسکتا ہے، اس لیے ماضی کے کرداروں کو جناح کی کردار نگاری کے خلاف دلیل بنانا درست نہیں۔
انہوں نے خاص طور پر انگریزی روزنامہ ’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر کا بھی ذکر کیا جو خود جناح کے کردار کے لیے آڈیشن دے چکے تھے۔ لی کے مطابق اس شخص کا قد و قامت اس کردار کے لیے موزوں نہیں تھا اور اسے اداکاری کا تجربہ بھی نہیں تھا۔
اسی اخبار میں ایک ریٹائرڈ میجر نے لیٹر ٹو دی ایڈیٹر میں مطالبہ کیا کہ کرسٹوفر لی کو ملک بدر کیا جائے، جب کہ ایک مضحکہ خیز دعویٰ یہ بھی سامنے آیا کہ فلم کا سکرپٹ سلمان رشدی نے لکھا ہے۔
شوٹنگ کے مسائل
لی کے مطابق فلم کی مشکلات صرف سکیورٹی تک محدود نہیں تھیں۔ تقریباً 15 افراد پر مشتمل ایک چھوٹی ٹیم کو بڑی تعداد میں مقامی ایکسٹرا کے ساتھ کام کرنا پڑا۔ شدید گرمی میں طویل اوقات تک شوٹنگ ہوتی تھی جبکہ پروڈکشن اور رابطے کے نظام میں بھی مسائل موجود تھے۔
انھوں نے ہدایت کار جمیل دہلوی کے کام کرنے کے انداز پر تنقید کی۔
ان کے مطابق دہلوی بعض مواقع پر فیصلے کرنے میں ہچکچاتے تھے۔ اس کے برعکس انھوں نے کیمرہ مین نک نولینڈ کی کارکردگی کو سراہا۔
فلم کی فنانسگ پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شوٹنگ کے دوران حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے فلم کو فنڈنگ کا مسئلہ درپیش ہوا تھا، جس کے مناسب انتظام کے بعد فلم کی شوٹنگ مکمل ہوئی۔
جناح کی آواز اور انداز
کرسٹوفر لی نے جناح کی پرانی فلمی فوٹیج اور ریڈیو ریکارڈنگز سے ان کے انداز کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے جناح کے چلنے، ہاتھ کے اشاروں، بولنے کے انداز اور کھانسی تک کا مشاہدہ کیا۔
انھوں نے جناح کی ایک معروف تقریر لاہور میں اسی مقام پر فلمائی، جہاں تاریخی طور پر یہ خطاب ہوا تھا۔ وہ جناح کے مزار پر بھی گئے، جس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ انھیں ’اس کردار کی ذمہ داری کا اصل احساس اس دن ہوا۔‘
فلم کے کلائمیکس پر تقسیم کے دوران ایک مہاجر قافلے کے منظر کی شوٹنگ کے وقت لی جذباتی ہوگئے۔ منظر میں ایک بچی اپنی ماں کو کھو چکی تھی اور لی کے مطابق کیمرے کے سامنے بہنے والے ان کے آنسو حقیقی تھے۔
ساتھی اداکار اور اردو ڈبنگ
فلم میں شریں شاہ نے فاطمہ جناح، رچرڈ لنٹرن نے نوجوان جناح، سیم دستور نے گاندھی، رابرٹ ایشبی نے نہرو اور جیمز فاکس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کردار ادا کیا۔
ونیزہ احمد نے ڈینا جناح جبکہ شکیل نے لیاقت علی خان کا کردار نبھایا۔
اپنی زندگی میں دیے گئے آخری انٹرویو میں اداکار شکیل نے ’جناح‘ کا حصہ بننے کو یادگار تجربہ قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق لیاقت علی خان کا کردار قبول کرنے سے پہلے انھوں نے ان کے خاندان سے اجازت بھی لی تھی۔
فلم کا اردو ورژن بھی تیار کیا گیا، جس میں کرسٹوفر لی کی آواز کی ڈبنگ اداکار غلام محی الدین نے کی۔
غلام محی الدین کے مطابق وہ پہلے ہی چاہتے تھے کہ کسی طرح اس فلم کا حصہ بنیں۔ انگریزی پروڈکشن مکمل ہونے کے بعد انھیں کراچی سے فون آیا اور ڈبنگ کے لیے آڈیشن لیا گیا۔ ان کی ریکارڈنگ ہالی وڈ کی ٹیم کو بھیجی گئی، جس کے بعد ان کی آواز منظور کرلی گئی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان اور وائس آف امریکہ پر کام کرنے کا تجربہ اس کام میں مددگار ثابت ہوا۔ بعض مناظر میں آواز اور ہونٹوں کی حرکت کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کئی مرتبہ ریہرسل کی گئی۔
غلام محی الدین کے مطابق انھوں نے ایک موقع پر تقریباً 12 سے 14 گھنٹے مسلسل ڈبنگ کی۔ وہ اس تجربے کو اپنے لیے ایک بڑی کامیابی اور باعثِ فخر قرار دیتے ہیں۔
عالمی پذیرائی مگر ڈسٹریبیوٹر نہیں ملا
فلم کے ابتدائی ورژن سے لی مکمل طور پر مطمئن نہیں تھے۔ تاہم ان کے بقول لندن اور نیویارک میں مزید تدوین اور موسیقی کے بعد فلم بہتر شکل میں سامنے آئی۔
’جناح‘ کو نیویارک، لاس اینجلس، لندن اور قاہرہ کے فلمی میلوں میں پیش کیا گیا، جہاں اسے اچھے تنقیدی تبصرے ملے۔ تاہم پاکستان سے باہر اسے بڑا ڈسٹریبیوٹر نہیں مل سکا۔
کرسٹوفر لی کی یادداشت میں اس فلم سے جڑی سب سے یاد رہ جانے والی بات پاکستانی عوام کا ردعمل تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ مقامی دکانداروں، پولیس اہلکاروں، فوجیوں اور فلم کے ایکسٹرا نے آخر میں ان سے صرف ایک لفظ کہا جسے وہ بھول نہیں سکیں گے: ’شکریہ۔‘