آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’طلبہ مل کر جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں‘: انڈیا میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کو گرانے کا حکم کیوں دیا گیا؟
- مصنف, پریرنا
- عہدہ, رام پور سے بی بی سی کی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
اتراکھنڈ کے پِتھورا گڑھ کی رہنے والی اقرا کا خاندان یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ قانون کی تعلیم حاصل کریں۔ انھوں نے بڑی مشکل سے اپنے والدین کو اس کے لیے راضی کیا تھا۔
کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد آخرکار ان کے خاندان نے اتر پردیش کے ضلع رام پور کی جوہر یونیورسٹی میں ان کا داخلہ کرایا۔
اقرا کہتی ہیں کہ ’انھیں اس یونیورسٹی کا ماحول محفوظ لگا، اسی لیے میں نے یہاں داخلہ لیا۔ میں بہت خوش تھی، لیکن اب ہر وقت خوف لگا رہتا ہے۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ آگے کیا ہوگا۔ ڈر ہے کہ اگر یونیورسٹی گرا دی گئی تو گھر والے مجھے واپس بلا لیں گے، گھر کے کاموں میں لگا دیں گے اور میری شادی کر دیں گے۔‘
ان دنوں صرف اقرا ہی اس خوف کے ساتھ زندگی نہیں گزار رہی ہیں بلکہ پیرا میڈیکل کی طالبات فرح اور دِشا، قانون کی طالبہ لابیا سمیت جوہر یونیورسٹی میں پڑھنے والی بہت سی طالبات کو فی الحال یہی تشویش لاحق ہے کہ اگر یونیورسٹی گرا دی گئی تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا۔
اسی وجہ سے جس دن انتظامیہ نے یہ حکم جاری کیا کہ جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منہدم کی جائیں گی، اُس کے بعد سے یونیورسٹی کے طلبہ دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت تک بیٹھے رہیں گے جب تک انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس نہیں لے لیتی۔
اگرچہ انہدام کی فوری کارروائی پر روک لگا دی گئی ہے لیکن طلبہ میں تشویش اب بھی موجود ہے۔ مراد آباد کے ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے گذشتہ روز پیر (27 جولائی 2026) کو محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی پر حتمی سماعت تک روک لگا دی ہے۔ یہ عبوری راحت اس وقت دی گئی جب یونیورسٹی کی قانونی ٹیم نے ڈویژنل کمشنر انجنیا کمار سنگھ کے سامنے ایک درخواست دائر کی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس وقت یہاں تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ تقریباً 100 تدریسی اور اتنے ہی غیر تدریسی عملے کے افراد کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں تشویش صرف طلبہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملازمین کے سامنے بھی روزگار چھن جانے کا خطرہ ہے۔
یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پرچیز آفیسر مسعود الحسن کہتے ہیں کہ ’عملے کے جتنے بھی لوگ ہیں، سب بے چین اور پریشان ہیں۔ ہر شخص کو اپنے مستقبل کے بارے میں فکر لاحق ہے اور یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ یونیورسٹی کو کچھ ہو گیا تو انھیں کافی عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب اسسٹنٹ لائبریرین ثنا کا کہنا ہے کہ ان کی راتوں کی نیند اُڑ گئی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’ہم سب پریشان ہیں۔ پورے عملے نے پُرامن مارچ بھی نکالا ہے۔ یونیورسٹی کے گارڈ، مالی، اساتذہ، سب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، لیکن امید ہے کہ انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لے لے گی۔‘
یونیورسٹی کو گرانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
15 جولائی کو رام پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دعویٰ کیا کہ جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں منظور شدہ نقشہ پاس کرائے بغیر ہی تعمیر کی گئی ہیں۔ ایسی صورت میں اگلے پندرہ دنوں کے اندر یا تو یونیورسٹی انتظامیہ خود ان عمارتوں کو منہدم کر دے، یا پھر مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد اتھارٹی خود ان عمارتوں کو گرا دے گی۔
دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ یو جی سی سے تسلیم شدہ یونیورسٹی ہے اور متعلقہ ضابطہ ساز اداروں سے منظوری ملنے کے بعد ہی ان عمارتوں میں مختلف پیشہ ورانہ کورسز چلائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اب انھیں غیر قانونی قرار دے کر کیسے گرایا جا سکتا ہے؟
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظہیرالدین نے کہا: ’یہ ادارہ تمام قانونی مراحل پر عمل کرنے کے بعد ہی وجود میں آیا۔ اسے یو جی سی سے منظوری ملی، ریاستی حکومت کے قانون کے تحت اس کا قیام عمل میں آیا اور بعد میں اسے اقلیتی یونیورسٹی کا درجہ بھی دیا گیا۔ تب سے یہاں تعلیم اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں باقاعدگی سے جاری ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں: ’یہاں پیرا میڈیکل، فارمیسی، نرسنگ اور قانون جیسے کئی پیشہ ورانہ کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ ان تمام کورسز کی اپنی اپنی ضابطہ ساز تنظیمیں ہیں، جیسے بار کونسل آف انڈیا اور نرسنگ کونسل وغیرہ۔ جب بھی یہ ادارے منظوری دینے آتے ہیں تو وہ کیمپس کا معائنہ کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ عمارتیں مقررہ معیار کے مطابق ہیں یا نہیں، کلاس رومز اور تجربہ گاہوں کا انتظام کیسا ہے، اور طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات موجود ہیں یا نہیں۔ ان تمام معیاروں پر پورا اترنے کے بعد ہی منظوری دی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اب براہِ راست عمارتوں کو گرانے کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟‘
’سیاسی انتقام‘ کے الزامات
رام پور کی محمد جوہر علی یونیورسٹی کی بنیاد تقریباً دو دہائیاں پہلے سماج وادی پارٹی کے سینیئر رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔ اُس وقت اعظم خان رام پور سے رکنِ اسمبلی تھے۔ مختلف مواقع پر وہ اس یونیورسٹی کو اپنے خوابوں کا منصوبہ قرار دیتے رہے ہیں۔
ایسی صورتحال میں سماجوادی پارٹی کے رہنما اس انہدامی حکم کو اُن کے خلاف سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے اراکینِ اسمبلی کے ایک وفد نے رام پور کے ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کر کے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے۔
پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’اس حکومتی حکم نامے کی بنیاد پر بی جے پی حکومت اگر چاہے تو انتقامی رویہ ترک کرکے جوہر یونیورسٹی کا نقشہ بھی ایک ہی دن میں آسانی سے منظور کر سکتی ہے۔‘
'بی جے پی اپنے لوگوں کے لیے اس حکم نامے کو تسلیم کرتی ہے، لیکن دوسروں کے معاملے میں اسے استعمال نہ کرکے ہر طبقے کے طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔
’اسی سرکاری حکم نامے کی بنیاد پر بی جے پی حکومت ہزاروں عمارتوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے چکی ہے۔ بی جے پی بہانے نہ بنائے، تعلیم کے اس مرکز کو بچائے!‘
یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والے اعظم خان کی اہلیہ نے کیا کہا؟
دوسری جانب سابق رکنِ پارلیمان اور اعظم خان کی اہلیہ تزئین فاطمہ کا کہنا ہے کہ جس گاؤں میں یونیورسٹی قائم کی گئی، وہ سنہ 2023 تک رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے دائرۂ اختیار میں شامل ہی نہیں تھا۔
وہ دعویٰ کرتی ہیں: ’ہم سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی۔ ہم پر الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملے میں رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو کچھ کہنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ 2006 میں جب یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی، اُس وقت سنگن کھیڑا گاؤں، جہاں یونیورسٹی واقع ہے، آر ڈی اے کی حدود میں شامل ہی نہیں تھا۔ 2005 میں جب آر ڈی اے کا پہلا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا تو سنگن کھیڑا اس کی فہرست میں موجود نہیں تھا۔ 2024 میں جب دوسرا نوٹیفکیشن جاری ہوا، تب جا کر یہ گاؤں آر ڈی اے کی حدود میں شامل ہوا۔ تو جب آر ڈی اے موجود ہی نہیں تھا، تو نقشہ کس سے منظور کراتے؟‘
تاہم انتظامیہ ان دلائل سے متفق نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جس طرح دو عمارتوں کے نقشے ضلع پنچایت سے منظور کرائے گئے، اسی طرح باقی عمارتوں کے نقشے بھی کیوں منظور نہیں کرائے گئے؟
رام پور کے ضلع مجسٹریٹ اجے دویویدی کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ انھیں قواعد و ضوابط کی معلومات تھی، لیکن اس کے باوجود 38 عمارتوں کے نقشے منظور نہیں کرائے گئے۔ اسی لیے آر ڈی اے نے انہدام کا حکم جاری کیا ہے۔‘
’حکومت گرانے کے بجائے جرمانہ عائد کرے‘
اس دوران بعض اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ عمارتیں گرانے کے بجائے حکومت کو دوسرے متبادل راستوں پر غور کرنا چاہیے۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمان ششی تھرور کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے یا کوئی اور کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن ایک چلتی ہوئی یونیورسٹی کو منہدم کرنا ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
دھرنے پر بیٹھے طلبہ میں سے ایک، ثاقب، بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ انتظامیہ چاہے تو جرمانہ عائد کر دے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ یہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ہم طلبہ مل کر اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے سابق طلبہ اور دوسرے لوگ چندہ دے کر اس یونیورسٹی کو بچائیں گے۔ ہم کسی بھی صورت اسے گرنے نہیں دیں گے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے انہدام کے حکم کے خلاف رام پور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے سامنے قانونی اپیل دائر کی ہے۔ اس معاملے میں 28 اگست کو سماعت ہونی ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں مراد آباد ڈویژن کے کمشنر اور رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین انجنیا کمار سنگھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
انجنیا کمار سنگھ اور اعظم خان
انجنیا کمار سنگھ وہی افسر ہیں جن کے رام پور کے ضلع مجسٹریٹ رہنے کے دوران 2019 میں اعظم خان اور جوہر یونیورسٹی سے متعلق کئی معاملات میں انتظامی کارروائیاں ہوئیں اور مقدمات درج کیے گئے۔
ایک معاملہ تو براہِ راست اعظم خان اور انجنیا کمار سنگھ سے جڑا ہوا ہے۔ دراصل 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران اپنی ایک متنازع تقریر میں اعظم خان نے سنگھ کو ’تنخواہ دار‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انتخابات جیتنے کے بعد وہ اس افسر سے ’جوتے صاف کروائیں گے‘۔ اس تقریر کے بعد ان کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں مئی 2026 میں رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے اعظم خان کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف انھوں نے اپیل دائر کی، لیکن جولائی 2026 میں سیشن کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کر دی اور نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
جہاں تک یونیورسٹی کا تعلق ہے تو جوہر یونیورسٹی کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ان میں یونیورسٹی کی توسیع کے لیے ’دشمن کی املاک‘ پر مبینہ طور پر قبضہ، رام پور کی تاریخی راجہ لائبریری سے کتابوں کی مبینہ چوری اور بعد ازاں انھیں یونیورسٹی کی لائبریری میں جگہ دینا، یونیورسٹی کیمپس میں بنائی گئی مصنوعی جھیل کے لیے سرکاری اور کسانوں کی زمین پر ناجائز قبضہ اور یونیورسٹی کی توسیع کے لیے کسانوں کی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرنا شامل ہیں۔
ان تمام معاملات پر مقدمات درج ہوئے، اور مقدمہ عدالت میں چلا گیا۔ کچھ کو روک دیا گیا تھا، جب کہ دوسرے ابھی بھی زیر سماعت ہیں.
ہم نے کچھ کسانوں سے بات کی جن کی زمین پر اعظم خان کی جانب سے قبضے کا الزام ہے اور ان سے ہم نے انتظامیہ کے تازہ حکم نامے پر ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔
ان میں سے ایک یاسین کہتے ہیں:، ’قبضے کا معاملہ تو بہت زیادہ ہے۔ جس آدمی کی زمین لی جاتی ہے، وہ یہی چاہتا ہے کہ اگر اس کی زمین 500 میں بِک رہی ہے تو 1500 میں بِکے۔ ایسا تو ہوا ہی نہیں۔ سب کی زمینیں لی گئیں، لیکن پیسے کم دیے گئے۔ لیکن آج جو یہ یونیورسٹی گرانے کا سوال ہے، اس سے تو سب کا دل دُکھے گا۔ اتنے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں، کئی مفت میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کتنے بچوں کو علی گڑھ جانا پڑتا ہے، کتنی مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں۔ یہاں تو وہ اپنے گھر کے قریب ہی پڑھ لیتے ہیں۔‘
دوسری جانب دانش کہتے ہیں کہ ’صرف کسان ہی نہیں، بلکہ انڈیا کا کوئی بھی تعلیم یافتہ شخص یہ نہیں چاہے گا کہ اس یونیورسٹی کو گرایا جائے۔ تعلیمی ادارے بنائے جاتے ہیں، گرائے نہیں جاتے۔‘
سال 2014 میں یونیورسٹی کا معائنہ کرنے والی یو جی سی کی ماہر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ یونیورسٹی کی فیس ریاست کی دیگر نجی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے اور یہ صرف تجارتی منافع کے مقصد سے چلائی جانے والی یونیورسٹی معلوم نہیں ہوئی۔
اکشیر ایل ایل ایم کے طالب علم ہیں اور 80 فیصد معذوری رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے انھیں فیس میں 80 فیصد رعایت دی گئی ہے اور وہ صرف 24 ہزار روپے میں اپنا کورس مکمل کر رہے ہیں۔
محمد عمران بتاتے ہیں کہ ان کے خاندان کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور وہ اپنی فیس جمع نہیں کر پا رہے تھے۔
قواعد کے مطابق امتحان سے پہلے پوری فیس جمع ہونا ضروری ہوتی ہے، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ان سے کہا کہ وہ امتحان پر توجہ دیں، فیس کی فکر نہ کریں۔
لائبہ نے ہمیں بتایا کہ یونیورسٹی نے فیس میں رعایت کی اپنی پالیسی سے ہٹ کر بھی ان کی مدد کی۔ ان کے والد کی طبیعت خراب رہتی تھی اور وہ فیس ادا کرنے سے قاصر تھیں۔ اس صورتحال میں یونیورسٹی نے ان کی فیس معاف کر دی، جس کے بعد وہ بغیر کسی فکر کے اپنی پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔
انتظامیہ نے طلبہ کے لیے کونسلنگ سینٹرز کھولے
عمارتیں منہدم کرنے کی کارروائی کے درمیان انتظامیہ نے یہاں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے کونسلنگ کا انتظام کیا تھا۔ اس انتظام کے تحت انھیں بتایا جا رہا تھا کہ وہ اپنی مزید تعلیم کہاں، کب اور کیسے جاری رکھ سکتے ہیں۔
لیکن طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آس پاس ایسی کوئی یونیورسٹی موجود نہیں جہاں انھیں اسی معیار کی سہولتیں اور اسی نوعیت کے پیشہ ورانہ کورسز کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ قریبی علاقوں میں زیادہ تر صرف ڈگری کالجز ہیں۔
فی الحال یونیورسٹی انتظامیہ کی شکایت کے بعد اس کونسلنگ سینٹر کو بھی یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش کا رام پور شرحِ خواندگی کے اعتبار سے ریاست کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔
گذشتہ تین چار دنوں کے دوران جب ہم یہاں گھومتے رہے، مختلف طبقوں کے لوگوں سے بات کرتے رہے، چاہے وہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے لوگ ہوں یا غیر متاثر، اعظم خان کے حامی ہوں یا مخالف، سب کی یہی رائے تھی کہ کسی فعال تعلیمی ادارے کو گرانے کا فیصلہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے اور انتظامیہ کو اپنے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے مطابق معاملہ صرف عمارتوں کے نقشے منظور ہونے یا نہ ہونے کا نہیں ہے۔
معاملہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل، سیکڑوں ملازمین کے روزگار اور ان خاندانوں کی امیدوں کا ہے جو انھوں نے یہاں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے بچوں سے وابستہ کر رکھی ہیں۔
اور معاملہ اُن بیٹیوں کا بھی ہے جنھوں نے بہت مشکل سے اپنے گھر والوں کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے راضی کیا تھا، لیکن اب انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں ان کی تعلیم ادھوری نہ رہ جائے۔