لائیو, ایرانی حملے میں امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کی تصدیق: اب ہمیں ردِعمل دینا پڑے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے تاہم اس واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹ سوار محفوظ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس حملے کے جواب میں امریکہ کو لازماً ردّعمل دینا ہوگا۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے
  • جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس کے پیشِ نظر مظفرآباد میں تمام مارکیٹس بند رہیں
  • امریکہ کے بیروت میں سفیر مائیکل ایسا کے مطابق اسرائیل اور لبنان سے توقع ہے کہ وہ ’جلد‘ واشنگٹن میں مزید مذاکرات میں شریک ہوں گے
  • لبنان کے خبر رساں ادارے ’نیشنل نیوز ایجنسی‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے صور میں ’بڑا فضائی حملہ‘ ہے کیا تاہم اسرائیلی فوج نے اب تک اس علاقے میں حملوں کی تصدیق نہیں کی۔
  • دوسری جانب لبنان کے سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ صور میں اسرائیلی حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے ’آخری مراحل‘ میں ہیں
  • اپریل کے بعد پہلی بار اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے
  • نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ’فی الحال‘ ایران پر حملے روک رہا ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حزب اللہ اور ایران سے لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی

لائیو کوریج

  1. آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی: ایرانی حکام

    آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں قائم ہیڈکوارٹر نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ان کا جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی۔

    ادارے کے مطابق اس فیصلے کی وجہ ’ان دنوں ایران اور دنیا کے مختلف حصوں میں جاری مجالسِ عزا‘ کو قرار دیا گیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے تہران میونسپلٹی کے نائب ڈائریکٹر برائے ثقافتی و سماجی امور نے کہا تھا کہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ممکنہ طور پر ’ذوالحجہ کے آخر یا محرم کے آغاز میں‘ ادا کی جائے گی۔

    محمد امین توکلی زادہ نے کہا تھا کہ ان تقریبات کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب کے سپرد کی گئی ہے اور اس سلسلے میں تین دن کی ’عوامی ریلیوں‘ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    ان کے مطابق، الوداعی تقریب کے بعد نمازِ جنازہ اور دیگر رسومات ادا کی جائیں گی جو تہران میں کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’دارالحکومت میں 1.5 کروڑ سے دو کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘

  2. گذشتہ رات ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، اب ہمیں ردِ عمل دینا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات ایران نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

    اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’مجھے ابھی ہماری عظیم فوج نے آگاہ کیا ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ہمارے ایک انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔‘

    امریکی صدر کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ سوار تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس حملے کے جواب میں امریکہ کو لازماً ردّعمل دینا ہوگا۔‘

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے کریش سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے اور امریکی افواج نے اس کے دونوں پائلٹس کو بچا لیا ہے۔

    سینٹکام کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر ’علاقائی پانیوں میں گشت‘ کر رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔

  3. اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد

    اسرائیلی وزیر خزانہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک نے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں تشدد کے باعث اسرائیل کے وزیرِ خزانہ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    ژاں نویل بارو نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اُن افراد کے خلاف پابندیاں لگائی گئی ہیں جو مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری اور پرتشدد واقعات کے لیے ذمہ دار ہیں۔

    بارو کا مزید کہنا ہے کہ ’اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ، آبادکار تنظیموں کے چار سربراہان اور 21 پرتشدد آبادکاروں کے فرانس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ مغربی کنارے کے انضمام کی فعال حمایت کرتے ہیں اور کھل کر اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ’وہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام، غزہ میں بستیوں کے دوباری قیام، اور فلسطینی اتھارٹی کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور اس کے انہدام کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ً

    ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں عالمی برادری کی بھاری اکثریت کے لیے ناقابلِ قبول ہیں جو اب بھی دو ریاستی حل کے لیے پُرعزم ہے۔

    انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سموٹریچ حالیہ مہینوں میں فرانس میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنے والے دوسرے اسرائیلی وزیر ہیں۔

    گذشتہ ماہ فرانس نے اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔

    اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے اہم ارکان سمجھا جاتا ہے۔

    آئرلینڈ نے بھی حالیہ دنوں میں ان دونوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔

    برطانیہ نے گذشتہ سال جون میں ان دونوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ سپین اور سلووینیا سمیت دیگر ممالک نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

  4. ایران کے خلاف حالیہ حملے ’مزید طاقتور حملوں کی تیاری‘ ہے، اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف کا بیان

    اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج \ایران پر ایک اور شدید اور دور رس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ً

    شمالی اسرائیل میں فیلڈ ٹریننگ مشقوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایران پر جو حملہ کیا ہے وہ ایک انتہائی بڑے اور طاقتور وار کی تیاری ہے۔‘

    اُنکا مزید کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور وہ ’حزب اللہ کو پہنچنے والے نقصان کو جاری رکھنے اور مزید بڑھانے کا سلسلہ‘ جاری رکھیں گے۔

  5. مارچ سے اب تک 3,666 افراد مارے جا چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے ملک کی وزارتِ صحت عامہ کی جانب سے جاری اعداد و مار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے آغاز کے بعد سے اب تک 3,666 افراد ہلاک اور 11,321 زخمی ہو چکے ہیں۔

    یہ تازہ ترین اعداد و شمار دو مارچ سے نو جون کے درمیان تک کے عرصے کے ہیں۔ اس سے قبل سوموار کے روز وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطقب ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,637 جبکہ 11,188 زخمی رپورٹ کیے گئے تھے۔

  6. پشاور کے قریب فیڈرل کانسٹبلری کی چوکی پر حملے میں چھ اہلکار ہلاک، چار زخمی ہو گئے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    ایف سی

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Inb=terior

    پشاور کے قریب فیڈرل کانسٹبلری کی ایک چوکی پر مسلح افراد کے حملے میں چھ اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے سینیئر پولیس حکام نے اس حملے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ چوکی میں تعینات اہلکاروں نے حملے پر فوری جوابی کارروائی کی، جس میں چار حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے لیکن فرار ہوتے مسلح شدت پسند لاشیں ساتھ لے گئے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور ایف سی کے چھ اہلکاروں کو بھی ساتھ لے گئے ہیں اور اس وقت علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

    اسی دوران سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک پوسٹ بھی سامنے آئی، جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

    یہ واقعہ پشاورکے قریب حسن خیل کے علاقے میں رات ایک سے دو بجے کے درمیان پیش آیا۔

    حسن خیل کا علاقہ نیم قبائلی علاقہ درہ آدم خیل کے قریب واقع ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر ہونے والے حملے میں ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

    یاد رہے کہ حسن خیل میں ماضی میں بھی مسلح شدت پسندوں کی موجودگی پرسکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں حسن خیل پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا جس میں حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی اور دو حملہ آور مارے گئے تھے۔

    اسی طرح مئی 2024 میں حسن خیل میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ ایک کیپٹن اور ایک حوالدار مارے گئے تھے۔

    اپریل 2026 میں بھی حسن خیل کے نواح میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا جس میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

  7. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے متعلق اطلاع دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان, نصیر چوہدری، صحافی

    جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور رُکن شوکت نواز میر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور رُکن شوکت نواز میر

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مطلوب افراد کی موجودگی یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

    سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کالعدم تنظیم کے مذکورہ ارکان اس وقت روپوش ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔

    ان کے مطابق جو بھی شخص ان افراد کی موجودگی کے بارے میں اطلاع فراہم کرے گا، اسے حکومتی اعلان کے مطابق انعام دیا جائے گا۔

    دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر آج پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کاروباری مراکز بند رہے۔ مختلف شہروں میں بازاروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال دیکھی گئی جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔

    نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہHome Department

  8. ’ٹرمپ نے نظام کی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا لیکن ایران کا اعتماد بڑھ گیا‘, جیریمی بوون، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب 28 فروری کو یہ تنازع شروع ہوا تو اسے کس طرح دیکھا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو، دونوں نے اس فوجی کارروائی کو تاریخی تناظر میں پیش کیا تھا۔

    نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اپنی پوری سیاسی زندگی میں اس موقع کے منتظر رہے کہ جسے وہ اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اس کا مقابلہ کریں اور اب آخرکار انھیں ایک ایسا امریکی صدر ملا جو ان کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔

    ٹرمپ کو بظاہر یقین تھا کہ ایک فوری فتح ممکن ہے۔ انھوں نے ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ لمحہ قریب آ رہا ہے جب وہ اپنے ملک کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

    اس کے بجائے، ایران ایک نئی قیادت کے ساتھ سامنے آیا۔ یہ وہ نظام کی تبدیلی نہیں جس کا ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا تاہم بہت سے سینیئر رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد، ایک نئی نسل نے ان کی جگہ لے لی۔

    وہ اب بھی گہری نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں لیکن پرانی قیادت کے مقابلے میں کم محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا اعتماد تنازع کے دوران ہونے والی پیشرفت سے بڑھا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل کے اثرات سے۔

    یہ تبدیلی خطے کو نئے سرے سے شکل دینے میں مدد دے رہی ہے۔ اب صورتحال کا رخ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے واپس پلٹنا مشکل بلکہ شاید ناممکن ہے۔

    اس کے نتائج ایران اور اسرائیل سے کہیں آگے تک پھیل گئے ہیں اور خلیجی ممالک کو متاثر کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات جیسے ممالک، جن کی معیشتیں استحکام پر منحصر ہیں، پہلے ہی اس تنازع سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث نمایاں نقصان دیکھ چکے ہیں۔

  9. صور میں اسرائیلی حملے میں آٹھ افراد ہلاک: لبنانی میڈیا

    لبنان کے سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ صور میں اسرائیلی حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کے سرکاری نشریاتی ادارے نے یہ اعدادوشمار دیتے ہوئے ملک کی وزارت صحت کا حوالہ دیا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے جبکہ 32 افراد زخمی ہیں۔

  10. اسرائیل اور لبنان ’جلد‘ واشنگٹن میں مزید مذاکرات کریں گے: امریکی سفیر

    امریکہ کے بیروت میں سفیر مائیکل ایسا کے مطابق اسرائیل اور لبنان سے توقع ہے کہ وہ ’جلد‘ واشنگٹن میں مزید مذاکرات میں شریک ہوں گے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    یاد رہے کہ 3 جون کو ہونے والے مذاکرات کے آخری دور کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی تجدید ہوئی تھی تاہم جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، حملے جاری رہے ہیں۔

    مائیکل ایسا نے پیر کے روز بیروت میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کی، جس کے بعد امریکی سفیر نے کہا کہ حالیہ عسکری کشیدگی کے باوجود مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور عون کو بتایا کہ مذاکرات ’صحیح سمت‘ میں جا رہے ہیں۔

    مائیکل ایسا نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ برف پگھل چکی ہے اور ہم لبنان کو اس کے بحران سے نکالنے میں مدد جاری رکھیں گے۔‘

    کل امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر نشر ہونے والے بیان کے مطابق لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری بات چیت کا مرکز عدم جارحیت کے ایک معاہدے کے قیام پر ہے، جس کے بعد ’منصفانہ اور جامع امن‘ قائم کیا جائے گا۔

  11. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مار چ شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، مظفر آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے بھمبر سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق لانگ مارچ میں حصہ لینے والوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایک پولیس اہلکار کے مطابق مظاہرین برنالہ کوٹلی پلندری اور دیگر علاقوں سے میر پور اور رؤلاکوٹ پہنچ رہے ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار سڑکوں اور دیگر علاقوں میں پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔

    میر پور سے مظاہرین راولاکوٹ کا سفر شروع کریں گے اور راولاکوٹ سے مظفر آباد کی جانب آئیں گے۔

    مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر تمام مارکیٹیں بند ہیں، سرکاری دفاتر کھلے ہیں لیکن وہاں پر سرکاری اہلکار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ اور شہر میں واقع تمام پیٹرول پمپس بند ہیں۔

    شہر میں اگرچہ دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان ٹولیوں کی شکل میں مخلتف چوراہوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ حکومت کشمیر نے حال ہی میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    مظفر آباد کے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ انھوں نے دوکان اپنی مرضی سے بند کی اور کسی تنظیم یا کسی گروپ نے انھیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے یا ہڑتال کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

    تاجروں کے ایک دھڑے کے صدر حاجی عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے حالات ماضی کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب کوئی زبردستی دکان بند نہیں کروا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی زبردستی ان کی دکانیں بند نہیں کروا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہڑتال سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس ہڑتال کی وجہ سے ہزاروں افراد جو مختلف ہوٹلوں میں یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔

    مظفر آباد میں ابھی تک حالات نارمل ہیں جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

  12. حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرتی اسرائیلی فوج پر راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ

    حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے پیر کی رات جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرتی اسرائیلی افواج پر راکٹ فائر کیے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر ایک تازہ بیان میں حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج البیادہ کے قصبے سے بیت الصیاد کی طرف پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھیں لیکن ’مسلسل راکٹ حملوں‘ کے بعد انھیں پسپا ہونا پڑا۔

    اسرائیل نے کسی بھی جھڑپ پر ابھی تک تبصرہ نہیں کیا تاہم اس کی فوج جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں کر رہی ہے، جسے وہ شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں کو روکنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔

  13. ’آرمی ایئر ڈیفینس فورس‘ کے دو اہلکار کل اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ’آرمی ایئر ڈیفینس فورس‘ کے دو اہلکار کل اسرائیلی حملے میں ’دشمن کی فائرنگ‘ سے ہلاک ہوئے اور ان کی تدفین آج کی جائے گی۔

    اس سے قبل پیر اور منگل کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی تھی تاہم 15 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔

    اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اس نے ایران کے سٹریٹجک دفاعی نظام پر حملہ کیا۔

    اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے دفاعی نظام کمزور ہو گئے تھے تاہم بعد میں ’دفاعی نظام ایران کے مختلف حصوں میں تعینات کیے گئے‘ تاکہ انھیں بحال کیا جا سکے تاہم ان کو اب حالیہ حملوں میں تباہ کر دیا گیا۔

  14. جنوبی لبنان کے شہر صور پر فضائی حملہ

    صور

    ،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

    اب ہم آپ کو جنوبی لبنان کے شہر صور پر ایک فضائی حملے کی تصویر دکھا رہے ہیں جبکہ لبنانی میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے کہ اسرائیل نے آج صبح اس شہر پر حملہ کیا۔

    یہ حملہ اسرائیلی فوج کے صور اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوا۔

    لبنان کے خبر رساں ادارے ’نیشنل نیوز ایجنسی‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے صور میں ’بڑا فضائی حملہ‘ کیا۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے اب تک اس علاقے میں حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

  15. ’اسرائیل اور حزب اللہ کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ مزید تصادم کی راہ ہموار کر رہے ہیں‘, ہیوگو بچیگا، یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی جماعت حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگ لبنان میں جاری رہے گی۔

    یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب حزب اللہ نے علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اسرائیل پر راکٹ فائر کیے، جو ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے آغاز پر ہوا تھا۔

    اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں تباہ کن بمباری شروع کی، جس میں 3,600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سرحد کے ساتھ ایک سکیورٹی زون قائم کرنا ہے جو حزب اللہ سے پاک ہو تاکہ اس کے شمالی علاقوں کو اس گروہ کے راکٹوں اور ڈرونز سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    اسرائیل میں اس بارے میں عوامی حمایت موجود ہے کہ اس جنگ کو جاری رکھا جائے تاہم چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کر دیا ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیل کے حملے حزب اللہ کو نمایاں طور پر کمزور کر سکتے ہیں۔

    یہ گروہ اندرون ملک تنہائی کا شکار ہے لیکن اب تک اس نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کیا ہے۔

    لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے، طاقت کے ذریعے نہیں۔ چونکہ دونوں فریق پیچھے ہٹنے کے لیے آمادگی کے اشارے نہیں دے رہے، اس لیے وہ کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید تصادم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

  16. بریکنگ, جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، تین افراد ہلاک متعدد زخمی: لبنانی ذرائع ابلاغ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان میں آج صبح اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں شہر صور کے مشرقی علاقے المساکن الشعبیہ میں متعدد عمارتیں نشانہ بنیں، جہاں امدادی کارکنوں نے ملبے سے ایک شخص کی لاش نکالی۔

    لبنانی ویب سائٹ ’لوئرینٹ ٹوڈے‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس حملے کے بعد دو دیگر افراد لاپتا ہیں۔

    این این اے کے مطابق دو مزید افراد کفر رمان نامی قصبے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ یہ قصبہ صور کے شمال مشرق میں پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

    رپورٹس کے مطابق آج صبح نبطیہ اور کفر صیر کے علاقوں میں بھی فضائی حملے کیے گئے جبکہ جبشیت پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔

    دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت نے سوموار کے روز بتایا تھا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں سات افراد کا تعلق ضلع نبطیہ اور پانچ افراد کا تعلق شہر صور سے تھا۔

  17. ممکنہ معاہدہ قریب، لیکن سفارت کاروں کا حد سے زیادہ خوش فہمی سے گریز کا مشورہ, بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سینئر عرب ذرائع کے مطابق ایران، امریکہ اور خطے کی صورتحال سے متعلق ایک ممکنہ معاہدہ قریب دکھائی دیتا ہے۔

    تاہم مغربی سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں شامل فریقین ’حد سے زیادہ خوش فہمی‘ کا شکار ہو سکتے ہیں، یعنی وہ پیش رفت کے امکانات کو زمینی حقائق سے زیادہ مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت جس معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے وہ کوئی حتمی امن معاہدہ نہیں، بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک یا ایجنڈا ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقۂ کار جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

    آبنائے ہرمز کی بندش اب بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے، اس کے معاشی اثرات مزید شدید ہوتے جا رہے ہیں اور یہ صورتحال صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

    امریکہ میں موسمِ گرما کے دوران ایندھن کی طلب بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم سیاسی اور معاشی تشویش کا باعث ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب اس بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل کو خدشہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں جنگ کے دوران ایران کی حاصل کردہ سٹریٹجک برتری کو عملی طور پر تسلیم کر لیا جائے گا اور تہران ایک طرف جبکہ امریکہ اور اسرائیل دوسری طرف خطے میں طاقت کے ایک نئے توازن اور ایک نئی صورتحال کو قبول کرنا پڑے گا۔

    ادھر وہ عام ایرانی شہری، جو امید کر رہے تھے کہ یہ تنازع سیاسی تبدیلی یا ان کے حالاتِ زندگی میں بہتری کا باعث بنے گا، ان کے لیے فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

  18. نیتن یاہو میری بات مانتے ہیں، ہم ایک مضبوط معاہدے کے قریب ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    BBC

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کو ایران پر حملے روکنے کے لیے کیسے آمادہ کیا، تو ٹرمپ نے جواب دیا ’میں نے صرف اتنا کہا کہ ہمیں عقل و دانش سے کام لینا ہوگا۔ ہم ایک بہت طاقتور اور بہت اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کے انتہائی قریب ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نہ جوہری ہتھیار ہوں گے اور نہ ہی ایسی کوئی اور چیز۔ آپ جانتے ہیں، ہمیں بہت زیادہ عقل مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔‘

    ٹرمپ سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ نیتن یاہو نے ایران کے حملوں کے جواب میں کارروائی کی، حالانکہ انھوں نے اسرائیل سے جوابی میزائل حملے نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’نہیں، نہیں۔ وہ حملے پہلے ہی کر چُکے تھے۔ وہ پہلے ہی ایران پر حملے کے لیے راستے میں تھے۔‘

    اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بی بی سی سے کہا کہ ’اگر میں ان سے کوئی کام کرنے کو کہوں تو وہ وہی کرتے ہیں۔‘

  19. قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کی سمری ارسال، امکان ہے بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری

    APP

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کے حوالے سے تجویز پر مبنی سمری ارسال کر دی گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امکان ہے کہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    منگل کو ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے سینٹ اور قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاسات کے وقت کے بارے میں بھی آگاہ انھوں نے لکھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون کو شام پانچ بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس بھی 10 جون کو شام چار بجے بلانے کی سمری بھیجی گئی ہے۔

  20. اسرائیلی انتباہ کے بعد لبنان کے شہر صور سے انخلا کا آغاز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کی وارننگ جاری کیے جانے کے بعد جنوبی لبنان کے شہر صور میں شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے، جس میں سول ڈیفنس کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کے لیے قائم پناہ گاہیں اپنی گنجائش پوری کر چکی ہیں اور انھیں مزید متاثرین کی آمد کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے شہر کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے اور دریائے زہرانی کے شمالی علاقوں کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی تھی۔