امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے گذشتہ دو دنوں میں خام تیل لے جانے والے پانچ ٹینکروں کو تباہ کر دیا، یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گذشتہ دو دنوں میں امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر دو بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد کی گئی۔
سینٹکام کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی جہاز، ایرانی میزائل حملوں سے کامیابی کے ساتھ بچ نکلے اور علاقائی پانیوں میں گشت جاری رکھا۔ کمانڈ کے مطابق حملوں میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
ایران کے تازہ ناکام حملوں کے جواب میں سینٹکام نے کہا کہ اس نے بحیرۂ عمان میں ایم ٹی کاویز، ایم ٹی چارمینار، ایم ٹی ہورائزن ون اور ایم ٹی رسکو نامی ٹینکروں کو، جبکہ خارک جزیرے کے قریب ایم ٹی دریا کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کے مطابق جہازوں پر حملے سے پہلے ان کے عملے کو جہاز چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد ٹینکروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔
سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ان ٹینکروں کو پاسدارانِ انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی مالی معاونت کے لیے اربوں ڈالر مالیت کے ایک خفیہ تیل منتقلی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر استعمال کر رہا تھا، اور یہ بھی کہا کہ ایران ان جہازوں کے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سینٹکام کی افواج نے 5 ستمبر کو مزید تین ایرانی آئل ٹینکر تباہ کر دیے تھے، جب انقلابی گارڈز نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک میزائل تباہ کن جنگی جہاز پر حملے کی کوشش کی تھی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے بندرگاہ جاسک کے ساحل سے دور ایک آئل ٹینکر پر حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم دیگر آئل ٹینکروں پر حملوں کے متعلق کوئی خبر نہیں دی گئی۔
دریں اثنا، پاسدارانِ انقلاب نے ایک ہنگامی نوٹس جاری کرتے ہوئے بحرین اور کویت کی بندرگاہوں میں موجود ٹینکروں کے عملے کو فوری طور پر ڈیک چھوڑنے کی تنبیہ کی، کیونکہ انھیں جلد نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران نے اردن اور ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا بھی اعلان کیا ہے۔