بلوچستان میں تشدد کے ایک واقعے میں ایک پولیس آفیسر مارے گئے جبکہ دو مختلف علاقوں سے سات مزدوروں سمیت 11 افراد کو اغوا کرلیا گیا ہے۔
ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد مزید سات مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ دو گاڑیوں سے چاول چھین کر لے گئے۔
ادھر نوشکی شہر کے جنوب میں سیکورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملے اور جوابی کارروائی کے بعد نوشکی شہر میں کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں۔
پولیس آفیسر کہاں مارے گئے؟
پولیس کے ڈی ایس پی مرید بگٹی ضلع بارکھان میں منگل کی شب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مارے گئے۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی مرید بگٹی ایک پرائیویٹ گاڑی میں ایک اور پولیس اہلکار کے ساتھ بارکھان میں جا رہے تھے کہ ناکہ بندی کرنے والے مسلح افراد نے ان کو اغوا کرنے کے بعد انھیں ہلاک کر دیا۔
وزیر اعلی بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی مارے گئے جبکہ دوسرے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ رکھنی میں شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
11 افراد کو کہاں کہاں سے اغوا کیا گیا ؟
اغوا ہونے والے 11 افراد میں سے سات مزدور تھے جن کو ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے قریب کلاتک کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے کلاتک کے مقام پر ناکہ بندی کی تھی جہاں سے ان مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔
اغوا کیے جانے والے مزدور غیر مقامی ہیں۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اغوا کے بعد مسلح افراد نے ایک مزدور کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا جبکہ باقی چھ کو اپنے ساتھ لے گئے۔
انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ ریاست دشمن عناصر کی کارروائی ہے جو اپنے بیرونی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔
چار دیگر افراد کو ضلع خضدار کے علاقے کرخ سے اغوا کیا گیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ اغوا ہونے اس علاقے میں آبپاشی کے مقاصد کے لیے ایک پراجیکٹ پر کام کررہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ تین روز قبل اغوا ہونے والوں میں پراجیکٹ مینیجر اور ایک سرویئر شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو افراد کا تعلق سندھ جبکہ دو کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
گاڑیوں کو کہاں نذرِ آتش کیا گیا؟
ادھر ضلع چاغی کے علاقے پدگ میں نامعلوم مسلح افراد نے سات گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ گاڑیاں کوئٹہ سے تفتان کی جانب جارہی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے رات ڈھائی بجے ان گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔
انھوں نے بتایا کہ نذر آتش کی جانے والی گاڑیوں میں تین آئل ٹینکر اور چار ٹریلرز شامل تھے۔
ایک اور واقعے میں دالبندین اور پدگ کے درمیان نامعلوم مسلح افراد دو ٹرکوں سے چاول اتار کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
نوشکی شہر میں حملے کے بعد دکانیں بند ہو گئیں
ادھر نوشکی شہر کے جنوب میں نامعلوم مسلح افراد نے منگل کی صبح سیکورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
سینیئر سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد فورسز نے جوابی کاروائی کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کے حملے میں سیکورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اس واقعے کے بعد نوشکی شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دی ہیں۔