’منظم کارروائی کرتے ہوئے راولا کوٹ سی ایم ایچ کا محاصرہ ختم کروا لیا‘: چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، کشمیر پولیس

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، مظفر آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’منظم اور محدود نوعیت‘ کی کارروائی کرتے ہوئے 'پرتشدد اور مسلح عناصر' کی جانب سے گذشتہ رات کیا گیا سی ایم ایچ راولا کوٹ کا محاصرہ ختم کروا دیا ہے۔

انسپیکٹر جنرل آف پولیس کشمیر کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پرتشدد عناصر‘ کی فائرنگ کے نتیجے میں راولا کوٹ پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے تین افراد اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘

دوسری جانب حال ہی میں کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ سی ایم ایچ کے باہر موجود تمام مظاہرین پُرامن تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پرامن افراد پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس سے کافی جانی نقصان ہوا ہے۔

یاد رہے کہ راولا کوٹ میں گذشتہ رات مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہوئی پرتشدد جھڑپوں میں مظاہرین کی ہلاکت کے حوالے سے متضاد رپورٹس ہیں۔ اس سے قبل کمشنر راولا کوٹ سردار وحید خان نے بی بی سی کو پانچ عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور اس ضمن میں راولا کوٹ میں صورتحال اُس وقت کشیدہ ہوئی جب شاہ زیب نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

راولا کوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی ہے تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، تاہم پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔

شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے اراکین نے اُن کی میت راولا کوٹ کے سی ایم ایچ ہسپتال کے باہر رکھ کر احتجاج کا آغاز کیا تھا اور اُن کا مطالبہ تھا کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک وہ لاش کو نہیں دفنائیں گے۔

کشمیر پولیس کے ترجمان نے مزید کیا بتایا؟

انسپیکٹر جنرل آف پولیس کشمیر کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’سات جون (اتوار) کی شام کالعدم ایکشن کمیٹی کے پرتشدد اور مسلح عناصر نے راولا کوٹ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کی اور بعد ازاں سی ایم ایچ راولا کوٹ کا محاصرہ کر لیا جس کے باعث ہسپتال کی معمول کی طبی خدمات اور علاج معالجے کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔‘

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’مسلح اور مشتعل شرپسندوں نے مختلف مقامات پر آگ لگائی اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔‘

بیان کے مطابق ’قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات اور آٹھ جون کی درمیانی شب ایک نہایت منظم، ہدفی اور محدود نوعیت کی کارروائی کے ذریعے سی ایم ایچ راولا کوٹ کا محاصرہ ختم کروا دیا اور اب وہاں تمام طبی خدمات معمول کے مطابق بحال ہو چکی ہیں۔‘

ترجمان کے مطابق مظاہرین کو منتشر کیا جا چکا ہے اور شہر میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے۔ ’بیشتر شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں اور بازار و تجارتی مراکز مقامی معمولات کے مطابق سرگرم ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انتشار پھیلانے والوں کو جلد ہی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ کالعدم ایکشن کمیٹی یا اس سے وابستہ کسی بھی سرگرمی میں شرکت سے گریز کریں۔‘

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن الیاس خان نے صحافی نصیر چوہدری سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شاہ زیب کے ورثا اور ایکشن کمیٹی کے کارکن سی ایم ایچ کے باہر پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مظاہرین کو زبردستی منتشر کرنے کی کوشش کی اور بعد ازاں عوام پر براہ راست فائرنگ کی، جس سے کافی جانی نقصان ہوا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پرامن مظاہرہ کرنے والے ایکشن کمیٹی کے اُن کے کئی کارکن لاپتہ ہیں جبکہ اس موقع پر زخمی ہونے والے 40 سے زائد افراد کو پولیس ہی کی جانب سے سی ایم ایچ میں داخل کروایا گیا ہے۔

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’کئی لوگ لاپتہ ہیں اور فی الحال کسی سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔‘

اس سے قبل کمشنر راولا کوٹ سردار وحید خان نے بتایا تھا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔

راولا کوٹ میں شاہ زیب نامی نوجوان کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہوئے تھے۔ راولا کوٹ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد کے خلاف درج کی ہے تاہم مظاہرین کا الزام ہے کہ شاہ زیب پولیس کے ہاتھوں مارے گئے، تاہم پولیس اس کی تردید کرتی ہے۔

کمشنر راولا کوٹ کے مطابق مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔

کمشنر راولاکوٹ کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں مجموعی طور پر 13 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور اُن کے دعوے کے مطابق ان اہلکاروں کو گولیاں لگنے کے باعث زخم آئے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک اور زخمی پولیس اہلکاروں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس سے ہے۔

یاد رہے کہ کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نو جون کو احتجاج کی کال کے پیشِ نظر دارالحکومت مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس کی گاڑیوں اور مساجد سے انتظامیہ کی جانب سے اعلانات کروائے جا رہے کہ شہری دفعہ 144 کی پابندی کریں اور والدین اپنے بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں۔

مظفر آباد میں سرکاری دفاتر آج کھلے ہوئے ہیں مگر وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ شہر میں واقع پیٹرول پمپ بند کروائے جا رہے ہیں۔

راولا کوٹ اور مظفر آباد میں انٹرنیٹ سروس بھی گذشتہ دو روز سے معطل ہے جبکہ ان شہروں میں پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کی شب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے اب تک درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کشمیر حکومت نے 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ ان نشستوں کو ختم کرنے سے متعلق فیصلہ آئندہ اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے شیڈول کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد قریشی نے بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کو بتایا تھا شہر میں ’اکثر بازار بند ہیں تاہم گروسری سٹورز اور کھانے پینے کے ہوٹلز کھلے ہیں۔ مجموعی طور پر شہر کی فضا پر امن ہے۔‘

آئین میں ترمیم کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ منتخب ایوان میں ہونا چاہیے: سپریم کورٹ

اس سے قبل صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان نشستوں کے خاتمے یا اس ضمن میں کوئی اور اقدام کرنے کے لیے آئین کے سیکشن 33 میں ترمیم ناگزیر ہے۔

ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اس بارے میں ترمیم کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی منتخب قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے اور سیاسی اختلافات انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

اپنی رائے میں عدالت نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ منتخب ایوان میں ہونا چاہیے، اور کسی فرد کا اپنے حق کے لیے احتجاج دوسروں کے حقوق سلب کرنے کا باعث نہیں بننا چاہیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آئین میں تبدیلی کا راستہ ووٹ اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والا منتخب ایوان ہے، سڑکوں پر مظاہروں کے ذریعے آئینی ترامیم نہیں کی جا سکتیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ احتجاج ایک جمہوری حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے لیے سڑکوں کی بندش، جس سے عام شہری کی زندگی متاثر ہو یا ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو، اس کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ آئین۔

راولا کوٹ میں کشیدگی کے بعد رینجرز تعینات

راولا کوٹ میں کشیدگی کے بعد کشمیر پولیس کے علاوہ رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر منیر احمد قریشی نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکومت کی جانب سے کشمیر بھر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرنے کی ہدایات تو ہیں، تاہم ’ہماری اولین ترجیح لا اینڈ آرڈر کو قائم رکھنا ہے کہ اس لیے صورتحال دیکھ کر مظاہرین سے برتاؤ کیا جائے گا۔‘

رینجرز کے اہلکار راولا کوٹ کے حساس مقامات پر تعینات ہیں اور شہر میں گشت بھی کر رہے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن کے مطابق شاہزیب کی ہلاکت کے خلاف مظفر آباد اور کشمیر کے دیگر علاقوں میں تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے بھی ہڑتال کر رکھی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مظفر آباد سمیت کشمیر کے حساس مقامات پر رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں سپریم کورٹ کے علاوہ قانون ساز اسمبلی، ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کی عمارتیں شامل ہیں۔

دوسری جانب جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں چھ جون کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں شاہ زیب نامی شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

کمیٹی کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام افراد کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

راولاکوٹ کے ایس ایس پی خاور شوکت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ زیب کی ہلاکت کے بارے میں کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی تو پھر وہ اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات شییر کریں گے۔

’جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں‘

دوسری جانب اتوار کی دوپہر وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ گذشتہ برس طے پانے والے معاہدے کی تقریباً تمام شقوں پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور اب احتجاج کی کال دینا بلاجواز ہے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس وزیرِ اعظم کی ہدایت پر اعلی سطح کی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے اور اُن کے بہت سے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر میں بجلی تین روپے فی یونٹ میں فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاملے کا حل تشدد نہیں ہوتا، بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 12 نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے بھی آ چکی ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر اس معاملے میں کچھ نہیں ہو سکتا، کیونکہ موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہو چکی ہے۔

گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن

دریں اثنا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے مطابق مختلف علاقوں سے 72 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق مظفرآباد سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور کور کمیٹی کے ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن انجم الزماں اور راجہ صہیب جاوید شامل ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کے اہلکار کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو جب سے کالعدم قرار دیا گیا ہے اس کے بعد اس کمیٹی سے منسلک جن افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کیا گیا ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن کے بارے میں کہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ہیں۔

اہلکار کے مطابق اس فہرست میں شامل افراد کو انسداد دہشت ایکٹ کے شیڈول ون میں ڈالا جائے گا جس کے مطابق ان افراد کی نہ صرف نقل و حرکت پر پابندی ہوگی بلکہ وہ اپنے بینک اکاونٹس بھی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکیں گے۔